سال 2021ء کے دوسرے مہینے کا پہلا اتوار ہے۔ چھٹی ہے معمول کے کاموں سے فراغت ہے تو کیوں نہ ان ارادوں کے بارے میں سوچیں جو ہم نے نئے سال کے آغاز میں پہلی جنوری کے نئے نویلے‘ دن اپنے دل سے باندھے۔ ڈائری میں لکھے یا پھر یونہی کاغذ پر ایک فہرست بنا کر اسے کسی کتاب میں رکھ چھوڑا تھا۔ کیا پلٹ کر آپ نے ان ارادوں کو دیکھا ان وعدوں پر نگاہ ڈالی،جو آپ نے خود سے کئے تھے۔ ان خوابوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں کچھ دیر دیکھا‘ جن کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے آپ سال کے آغاز میں پرجوش تھے کہ اس برس تو ہم اپنے مقاصد کی دنیا فتح کر کے رہیں گے۔ تو پھر کیا ہوا کہ اب ان ارادوں کی فہرست پر فراموشی کی گرد پڑی ہے۔پہلی جنوری 2021ء کو ارادوں کا وہ چڑھتا دریا اپنے عروج پر تھا، خوابوں کی ندی میں طغیانی تھی اور جوں جوں جنوری نے ایک ایک کر کے اپنے دنوں کے سکّے اور وقت کی پاکٹ منی ‘ ماضی کے بٹوے میں رکھنا شروع کی‘ ارادوں کے وہ چڑھے ہوئے دریا اترنے لگے، خود کو تبدیل کرنے کے خوابوں کی ندی بہتے بہتے ٹھہر سی گئی اور اب اس میں بے عملی کی کائی جمی ہوئی صاف دکھائی دیتی ہے!ایسا ہوتا ہے،ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے کہ نئے برس کی پہلی صبح ہم خود کو ایک نئی صورت میں ڈھالنے کے لئے پرعزم ہوتے ہیں۔ وہ عادتیں جو زندگی ضائع کرتی ہیں ان عادتوں سے جان چھڑانے کے لئے بے تاب ہوتے ہیں۔ بامقصد عادتوں کو اپنانے کے لئے تازہ دم اور پرجوش مگر پھر‘ وہی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بے عملی سے ایک بار پھر سمجھوتہ کر کے وقت کے دھارے پر بہنے لگتے ہیں۔ ایک امریکی لائف کوچ ڈینل والن کا کہنا ہے کہ دنیا میں صرف 12فیصد لوگ نیو ائیر ریزولیشن پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ باقی ناکام ہی ٹھہرتے ہیں۔اس کی وجوہات کیا ہے اور کیسے ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں۔آج کا کالم کا موضوع یہی ہے۔ میرے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نئے سال پر ارادوں کی فہرست بناتے ہوئے ہم پورے سال کی پلاننگ کرتے ہیں اور اس پروگرام کی مبہم اور غیر واضح تصویر بناتے ہیں۔جبکہ زندگی ایک ایک دن کر کے گزرتی ہے،ہمیں اپنے ہر دن کا پلان کرنا سیکھنا چاہیے۔ ایک پورے سال کے ریزولیوشن کو توڑ کر ہمیں اسے مہینوں،ہفتوں اور دنوں میں تقسیم کر کے پھر اس پر عمل کرنا چاہیے ،ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں پہلے اسے چھوٹے چھوٹے objectivesمیں تقسیم کر کے پھر ان کے حصول کے لئے ہر دن کو اس طرح پلانا کرنا چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مقاصد objective حاصل کرتے رہیں، جو ایک کل کی صورت ہمیں اس بڑے مقصد کے حصول کی طرف لے جائیں گے، جو ہمارا خواب ہے۔اس کے لئے آپ کو اپنے ہر دن کی پلاننگ کرنا پڑے گی۔ رات سونے سے پہلے آپ کے پاس اگلے دن کو گزارنے کا واضح نقشہ موجود ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر آپ اس برس کتاب لکھنا چاہتے ہیں، تو پھر ہر روز کے ٹائم ٹیبل میں آپ کچھ وقت کتاب لکھنے پر صرف کرنا پڑے گا ،اگر آپ کوئی نیا ہنر سیکھنا چاہتے ہیں، تو ہر روز کچھ وقت اس ہنر کو باقاعدہ سیکھنے پر لگانا پڑے گا۔ جتنا کام آپ ہر روز کریں گے ،وہ تصویر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں جمع ہوتا جائے گا تاوقتیکہ تصویر مکمل ہو جائے گی۔ ہماری غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم تصویر کے ایک چھوٹے حصے پر کام کیے بغیر تصویر کو مکمل کرنا چاہتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے یقینا نہیں۔ دوسری چیز جو ہمارے ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ بنتی ہے اور جس کی وجہ سے اداروں کی فہرست ماہ فروری تک فراموش ہو جاتی ہے، وہ ہے مائونٹ ایورسٹ جتنا سوچنا اور عمل کرنا رائی کے دانے جتنا ،کسی ایک پہلو پر بے تحاشا سوچنا‘ ہمیں اس چیز کے منفی پہلوئوں میں اس قدر الجھا دیتا ہے کہ ہماری مٹی سے عمل کی نمی خشک ہو جاتی ہے اور ایسی بنجر مٹی میں کوئی بھی خواب نہیں اگتا، کسی خواب پر تعبیر کے گل بوٹے نہیں کھلتے۔ بہت قابل اور ذہین ترین لوگ جن کے اندر کامیابیوں کے بے شمار امکانات دکھائی دیتے ہیں، ان کو بھی بلا ضرورت سوچنے کی یہ آکاس بیل بنجر و ویران کر دیتی ہے، زندگی سے عمل اور مستقل مزاجی کی نمی خشک ہو جائے تو باقی صرف پچھتاوے بچتے ہیں کہ کاش ایسا ہوتا کاش ویسا ہوتا۔ اگر آپ بھی اوور تھنکنگ کے مریض ہیں (میں تو مریض ہی کہوں گی)ابھی سے اپنا محاسبہ کر لیں۔ اس بیماری کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔اگر اوور تھنکنگ کو عادت بننے سے نہ روکا جائے تو یہ ایک نفسیاتی عارضے میں ڈھل سکتی ہے۔سوچوں کے گرداب میں اپنی توانائیوں کو کھپانے والے لوگ عمل کی صلاحیت سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ اوور تھنکنگ کی سمت منفی ہوتی ہے ،ہم جتنا اس گرداب میں پھنستے ہیں اتنی ہی مثبت توانائی ہمارے اندر سے ختم ہوتی جاتی ہے جبکہ ارادوں کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے کے لئے صرف اور صرف مثبت توانائی درکار۔ انگریزی میں ایک کوٹ quotہے۔thinking too much leads to paratysis by analysis. ہر روز سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں کہ آپ نے وقت کا قیمتی سونا کن راہوں میں لٹایا ہے کیا یہ وہ راہیں ہیں جو آپ کے خواب کو قریہ تعبیر تک لے کر جاتی ہیں یا پھر یہ خود ساختہ مسائل اور نت نئے بہانوں کی کوئی راہ فرار ہے۔جو آپ کو کہیں نہیں لے کر جاتی۔ آپ لاکھ موٹیویشنل تقریریں سن لیں لائف کوچنگ پر کتابوں کی کتابیں پڑھ لیں۔ نیو ایئر ریزولیوشن کی لمبی فہرستیں بنالیں اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہو گا جب تک آپ عملی طور پر ہر روز اس تصویر میں رنگ نہیں بھریں گے‘ جو آپ کا خواب اور ارادہ ہے۔اپنے ہر دن کا روڈمیپ بنا کر ہی آپ سال کے تین سو پینسٹھ دن Productiveگزار سکتے ہیں۔