پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سے حیرت انگیز کامیابی کے ساتھ سینٹ انتخابات مکمل ہو گئے ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف اپنے اراکین اسمبلی کی مطلوبہ حمایت حاصل کرنے کے لئے بروقت اقدام نہ کر سکی۔20ووٹوں کا مارجن کچھ ووٹ ضائع اور کچھ مخالف امیدوار کو ملنے پر تحریک انصاف مستقبل میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت کئی مشکلات کا ہدف بنتی نظر آ رہی ہے۔ ہارجیت سے قطع نظر جمہوری عمل نے تنازعات کے باوجود اپنی پیشرفت جاری رکھ کر بتایا ہے کہ ہزار خرابیاں سہی لیکن ریاستی ادارے اور عوام سیاسی نظام کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں سینٹ انتخابات میں عوامی دلچسپی کم رہی ہے۔اس کی وجہ وہ آئینی شرائط ہیں جو بالواسطہ اور متناسب نمائندگی کے ذریعے سینٹ اراکین کے انتخاب کو ضروری قرار دیتی ہیں۔عوامی دلچسپی کم ہونے سے سیاسی اور انتظامی قوتوں نے بتدریج ایوان بالا کو اپنے کھیل کا میدان سمجھ لیا۔ہارس ٹریدنگ عام ہو گئی،دولت مند افراد اور بعض اوقات خاندان پارٹیوں سے ٹکٹ خرید لیا کرتے ۔آئین نے بالواسطہ انتخاب کی شرط اس لئے رکھی تھی کہ ریاست کی خدمت کرنے کے اہل اور پیچیدہ معاملات کے ماہرین انتخابی سیاست سے دور رہتے ہیں‘انتخابی سیاست کا مزاج ایسا ہے کہ کوئی معقول آدمی اس کا حصہ بننا پسند نہیں کرتا۔مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اعلیٰ سمجھ بوجھ اور مہارت رکھنے والے افراد کو موقع دیا گیا کہ سیاسی جماعتیں انہیں اپنے امیدوار کی حیثیت سے سینٹ میں بھیجیں۔ریکارڈ گواہ ہے کہ سینٹ میں نچلے طبقات کی نمائندگی ختم کر دی گئی۔ مزدور‘کسان اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کے نام پر سرمایہ کار‘جاگیر دار اور بالادست طبقات مسلط کر دیے گئے۔ اگر بھولے سے متوسط طبقے کا کوئی فرد سینٹ کا رکن منتخب ہو گیا تو اس کی تحریر‘تقریر اور کارکردگی پر پارٹی نے سخت کنٹرول نافذ کر دیا۔اس خرابی نے سینٹ کے بالواسطہ انتخاب کی روح مسخ کی ہے۔ سینٹ کے اراکین کا انتخاب کرنے کا دوسرا ضابطہ متناسب نمائندگی ہے۔یہ واضح اور سادہ اصول اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں جس سیاسی جماعت کی جس قدر نمائندگی ہے اسی تناسب سے سینٹ میں ان کو نشستیں دی جائیں۔ اس اصول پر عمل کیا جائے تو ووٹنگ کی ضرورت نہیں رہتی۔خواتین کی نشستوں پر اسی لئے اسمبلیوں میں بالواسطہ انتخاب جب متناسب نمائندگی کے اصول پر ہوتا ہے تو ہر جماعت کے اراکین کی تعداد کے حساب سے پارٹی لسٹ سے خواتین منتخب ہو جاتی ہیں۔حالیہ سینٹ انتخابات کے دوران ملک کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی نے ووٹنگ کو غیر ضروری تصور کرتے ہوئے متناسب نمائندگی کے اصول پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین منتخب کر لئے۔ عوام نے اس فیصلے کو سراہا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ و پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو اس بات کا کریڈٹ دیا۔یہ جمہوری عمل میں ایک اچھی مثال ہے جسے باقی صوبوں میں دہرایا جا سکتا تھا لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔حکومت نے بالواسطہ اور متناسب نمائندگی کا عمل شفاف رکھنے اور انتخابی عمل کو اراکین کی خریدوفروخت سے پاک رکھنے کے لئے انتخابات خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ سے کرانے کی کوشش کی ۔ آئین نے رائے دہی کا عمل چونکہ خفیہ رکھنے کی شرط عائد کر رکھی ہے اس لئے اس آئینی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے سب سے بہتر طریقہ یہی تھا کہ پارلیمنٹ کے ذریعے ترمیم کرائی جاتی۔ حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات موجودہ دور میں بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی اس لئے اپوزیشن کو منانا مشکل تھا۔ اس مشکل کا اندازہ کرتے ہوئے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کر دیا جس میں صدر نے عدالت عظمیٰ سے اوپن بیلٹ کے متعلق رائے طلب کی۔ سپریم کورٹ کی حتمی رائے کا انتظار کئے بغیر صدر مملکت نے ایک آرڈی ننس جاری کر دیا جسے عدالتی فیصلے کے ساتھ مشروط رکھا گیا۔ اس سارے عمل میں حکومت کی نیک نیتی اور خلوص موجود ہو گا لیکن منصوبہ بندی کا فقدان محسوس ہوا۔ ہر فیصلہ جلد بازی سے کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ عدالت عظمیٰ نے اوپن بیلٹ کا انتخاب مسترد کر دیا۔ سینٹ انتخابات کے دوران ماضی اور حالیہ انتخابات کی کئی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں انتخابی حمایت کے لئے دولت اور مراعات کا استعمال ہوا۔ افسوسناک امر یہ کہ اس عمل کو سیاسی جماعتوں نے سنگین جرم کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اس صورت حال پر یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر ایک ہزار روپے رشوت لینے پر معمولی سرکاری اہلکار گرفتار ہو سکتا ہے تو پورے نظام میں بدعنوانی‘اقربا پروری اور نااہلی کا زہر گھولنے والوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی کیوں نہیں کی جاتی رہی۔الیکشن کمشن کا ادارہ اس ساری صورتحال میں بہتری کے لئے کام نہ کر سکا۔تحریک انصاف سینٹ میں کم نمائندگی کے باعث بہت سے اہم امور پر قانون سازی نہ کر سکی۔ انتخابی اصلاحات‘ احتساب قوانین‘ایف اے ٹی ایف کے سفارش کردہ ضابطے‘نئے صوبوں کا قیام‘ وسائل کی تقسیم کے لئے نیا بندوبست اور بہت سے دیگر معاملات تاخیر کا شکار ہیں جو سینٹ انتخابات کے بعد حکومت کی توجہ چاہیں گے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حیثیت کے متعلق فیصلوں کے لئے حکومت کو ایوان بالا میں اکثریت کی ضرورت تھی‘یہی نہیں بلکہ پہلی بار سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی تحریک انصاف کے متعدد اراکین کو مختلف کمیٹیوں میں کام کرنے کا موقع ملے گا جس سے جمہوری نظام کو نئے اور توانا افراد کی قوت میسر آئے گی۔