اسلام آباد (خبر نگار،92نیوز رپورٹ) عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد بار کونسل کی درخواست خارج کرتے ہوئے وکلاء سے ایف ایٹ کچہری میں تجاوزات اور فٹبال گراؤنڈ فوری طور پر خالی کرانے کا حکم دیا ہے ۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ایف ایٹ میں موجود وکلاء کے تمام غیرقانونی چیمبرز مسمار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ عدالت نے وکلا چیمبرز کے لیے متبادل جگہ ملنے تک موجودہ چیمبرز نہ گرانے کی استدعا مسترد کردی اور آبزرویشن دی کہ جس وکیل نے پریکٹس کرنا ہے وہ اپنا دفتر کہیں اور بنائے ۔دوران سماعت اسلام آباد بار کے وکیل نے چیمبر ز نہ گرانے کی استدعا کی اور موقف اپنایا کہ فٹ بال گرائونڈ میں عدالتیں بھی قائم ہیں ،فٹ بال گرائونڈ خالی کرنے سے سائلین بھی مشکلات کا شکار ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کس بنیاد پر غیرقانونی چیمبرز کو برقرار رہنے دیں،وکلاء کا فٹبال گراؤنڈ پر کوئی حق دعوی ٰنہیں ، اگر فٹ بال گراؤنڈ میں کوئی عدالت بھی قائم ہے تو اسے بھی گرا دیا جائے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جسٹس بار ایسوسی ایشن فٹبال گراؤنڈ کی زمین پر ملکیت کا دعویٰ کیسے کرتی ہے ، کسی غیر قانونی اقدام کو جواز فراہم نہیں کریں گے ۔ اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس لبنی ٰسلیم پرویز پر مشتمل تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس بلاک حملہ کیس میں21وکلاء کے خلاف مس کنڈکٹ کی درخواست پر جواب جمع نہ کرانے والے 19وکلاء کے لائسنس معطل کردیئے ۔گذشتہ روز سماعت کے دوران ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری عمیر بلوچ عدالت پیش ہوئے ۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ ہمیشہ آپ کو اہمیت دی، دوسالوں میں لوئرجوڈیشری کیلئے جو کیاسب کے سامنے ہے لیکن اب ایشو اور ہے ،کون ذمہ دار ہے ، بار بار کہہ رہاہوں، دوسروں کیلئے راستہ بنا دیا، وہ بھی ایسی چیز کے ساتھ جس سے میرا کوئی تعلق نہیں،بہت ساری آپ کی چیزیں پردہ میں رکھیں، چند لوگوں کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو بدنام نہیں ہوناچاہیے ، سب سے اچھی بار ہے 17سال سے اس کے ساتھ کام کررہا، چند لوگوں نے سارے نظام کو بدل دیا، کچھ ایسے بھی تھے جو روکنے کی تلقین کررہے تھے ، وہ خود بھی بے بس تھے جتنا ایک آئینی عہدہ رکھنے والا تھا،وہ یہاں نہیں آنا چاہتے تھے سی ڈی اے دفتر جانا چاہتے تھے لیکن کس نے انہیں یہاں لایا، تقریریں کیں، کیا بار انہیں پروٹیکٹ کرے گی۔عمیر بلوچ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم معافی مانگتے ہیں، دونوں طرف سے ہمارا نقصان ہوا چیمبر بھی ہمارے ٹوٹے اور یہاں بھی ہوا۔چیف جسٹس نے کہاکہ میں نے کسی کا نام نہیں دیا،بار سے توقع کی کہ وہ نام دے ،آپ نے وہ ویڈیو دیکھی جس میں وہ خاتون کیسے اینٹ اٹھا کرمار رہی ہے ،یہ ایک کلپ ساری دنیا نے دیکھا، کل کوکوئی اور آکے اینٹ مار دے تو آپ کیا کرتے ۔ عمیر بلوچ ایڈووکیٹ نے کہاکہ آپ بڑے ہیں، تاریخ رقم کریں۔ چیف جسٹس نے کہا ملک میں قانون کی پاسداری ضروری ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ابھی تک صرف دو وکلاء نے ہی جواب جمع کرایاہے کیا؟، باقی آرڈر ہم جاری کردیتے ہیں۔