لاہور(قاضی ندیم اقبال)کرتار پورراہداری میں مزید توسیع اور اس کو بین الاقوامی سیاحتی معیار کے مطابق ڈھالنے پر غور شروع کردیا گیا۔ملکی و غیر ملکی سرمایہ داروں کو مدعو کرنے سمیت6معاملات پر غور و حوض کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس آج لاہور میں طلب کر لیا گیا۔ جس کی صدارت چیف ایگزیکٹو آفیسر/ایڈیشنل سیکرٹری شیرائنز محمد طارق کرینگے ،شرکاکرتار پور راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت معاملات پر اپنی سفارشات پیش کرینگے ۔ذرائع کے مطابق ہمسایہ ملک بھارت کے روایتی پاکستان دشمن اقدامات اور بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو کچلنے کی پالیسی کے برعکس حکومت پاکستان نے کرتار پور راہداری کی توسیع کے حوالے سے دوسرے مرحلے کاآغاز کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت کرتار پور راہداری کے نزدیک بین الاقوامی معیار کے حامل ہوٹلز کی تعمیر کے علاوہ گرڈ سٹیشن کی تعمیر کا بھی ارادہ رکھتی ہے ۔ جبکہ فیز ٹو میں متروکہ وقف املاک بورڈ ، گلوبل نوبل ، رینجرز، کسٹمز اور امیگریشن جیسے اداروں کے ملازمین اور افسروں کی رہائشگاہیں بھی بنائی جائیں گی۔جبکہ اجلاس میں بعض زائرین کی جانب سے سکھ روایات کے برعکس اقدامات کو روکنے کے حوالے سے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں متروکہ وقف املاک بورڈ حکام کے علاوہ والڈ سٹی اتھارٹی ، ڈپٹی کمشنر نارووال، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ ، بورڈ آف انویسٹمنٹ حکومت پاکستان، بورڈ آف انویسٹمنٹ حکومت پنجاب کے علاوہ دیگر اداروں کے ذمہ داران شریک ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دی جانے والی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی۔