لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے راوی اربن ریور پراجیکٹ میں زرعی اراضی شامل کرنے پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ منصوبہ میں مفاد عامہ کیلئے کیاہے ؟ عدالت نے ایل ڈی اے حکام کو طلب کر تے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسانوں کا استحصال نہیں ہونا چاہئے ۔درخواست گزار کی جانب سے راوی اربن ریور پراجیکٹ کیلئے زرعی اراضی استعمال کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔ پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ عدالتی احکامات پر زرعی اراضی ایکوائر نہیں کی جا رہی۔ کیس کی مزید سماعت کل ہوگی۔ ہائیکورٹ نے سینٹ انتخابات میں آرٹیکل 62اور 63پر عملدرآمد کرانے کیلئے دائراپیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھجوا تے ہوئے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کر دی۔جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے اپیل پر سماعت کی ۔درخواست گزار وکیل کا موقف تھا سنگل بنچ نے بغیر سنے درخواست مسترد کر دی،الیکشن کمیشن سینٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریدوفروخت اور ہارس ٹریڈنگ روکنے میں ناکام ہے ۔الیکشن کمیشن کو سینٹ الیکشن میں آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا جائے ۔ فاضل بنچ نے فل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کیساتھ فائل چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھجوا دی ۔ ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے ایران میں قید پاکستانیوں سے متعلق کیس میں وزارت خارجہ سے رپورٹ طلب کر لی ۔ جسٹس پراجیکٹ پاکستان نامی تنظیم کی طرف سے موقف اختیارکیا گیا کہ ایران میں 102 پاکستانی مختلف جرائم میں قید ہیں، گزشتہ برس 14 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت خارجہ سے ایران میں قید پاکستانیوں کو قونصلر معاونت فراہم کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ۔ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر کی غفلت سے بچے کی ہلاکت کیخلاف دائر درخواست پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے ملزموں کیخلاف قانون کی مطابق کارروائی کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ۔جسٹس عائشہ اے ملک نے درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ جڑانوالہ کے سرکاری ہسپتال میں ڈلیوری کیلئے آن کال ڈاکٹر نائمہ مشتاق کے بروقت ہسپتال نہ پہنچنے سے بچے کی موت ہوگئی۔ ہیلتھ کیرکمیشن میں درخواست دی مگر ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی،عدالت سے استدعاہے ڈاکٹر نائمہ مشتاق کیخلاف قتل بے سبب کی کارروائی کا حکم دیا جائے ۔ ہائیکورٹ کے جسٹس امیر بھٹی نے ایل ڈبلیو ایم سی کے 75ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے سے تاحکم ثانی روکتے ہوئے تنخواہیں جاری کرنے کا حکم دیدیا ۔درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ انہیں غیر قانونی طور پر نکال دیا گیا ،کوئی نوٹس بھی نہیں دیا گیا ،عدالت سے استدعا ہے نوکریوں پر بحال کرنے کا حکم دیاجائے ۔