عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک کورونا کی وبا کے مکمل خاتمے کا امکان نہیں‘اگرچہ اس سے زندگیاں بچانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم بچائو کے لئے صرف ویکسین پر انحصار کرنا غلطی ہو گی۔اس میں شبہ نہیں کہ چین‘برطانیہ‘بھارت اور بعض د یگر ممالک کی طرف سے کورونا وبا سے بچنے کے لئے ویکسین تیار کی گئی ہے اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں یہ لوگوں کو لگائی بھی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود کورونا وبا کے پھیلنے میں بظاہر بہت زیادہ کمی نظر نہیں آ رہی ۔یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈ روس اور ڈائریکٹر ایمرجنسیزمائیکل ریان نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ سات ہفتے کے بعد پہلی بار کورونا کے یومیہ کیسز میں اضافہ ہو گیا ہے۔پاکستان میں بھی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ منگل کے روز 42افراد کورونا سے جاں بحق ہو گئے ہیںجبکہ 1163نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ لہٰذا کورونا ویکسین لگوانے میں تساہل نہ کیا جائے خصوصاً 65سال کے بزرگوں کو کورونا ویکسین کے لئے جلد اپنی رجسٹریشن کرانی چاہیے۔ ویکسین سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر لمحے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ ماسک کا استعمال پابندی سے کیا جائے اور ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ عالمی ادارہ صحت کے بیان نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ محض ویکسین پر انحصار سے بھی زیادہ احتیاطی تدابیر اور حکومتی ایس او پیز پر عمل کیا جائے تاکہ وبا کا جلد خاتمہ ممکن ہو سکے۔