BN

ارشاد احمد عارف


چشم کشا فیصلے


مقصد اگر سینٹ انتخاب میں ضمیر فروشی کا اندیشہ ظاہر کر کے اپوزیشن پر اخلاقی برتری حاصل کرنا اور ارکان اسمبلی پر دبائو بڑھانا تھا تو حکومت کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہی لیکن اگر عمران خان واقعتاً یہ سمجھتے تھے کہ سپریم کورٹ سے اوپن بیلٹنگ کی اجازت مل سکتی ہے تو یہ خام خیالی تھی‘آئین اور قانون کی معمولی شدبد رکھنے والے افراد بھی روز اوِل سے کہہ رہے تھے کہ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے الیکشن کی آئینی سکیم سے عدالت عظمیٰ چھیڑ چھاڑ کر سکتی نہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اوپن بیلٹنگ کا اہتمام ممکن ہے‘
منگل 02 مارچ 2021ء

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

جمعه 26 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
اللہ تعالیٰ میری اس خوش گمانی کی لاج رکھے‘ ادارے آہستہ آہستہ مضبوط ہو رہے ہیں اور ان پر شخصیات و گروہوں کی بالادستی دم توڑ رہی ہے‘ شریف اور زرداری خاندان کے شور شرابے کے باوجود نیب اپنی روش پر قائم ہے‘ اپوزیشن اور حکومت دونوں کے اہم ستون اس کی زد میں ہیں۔ وہ مقام ابھی نہیں آیا کہ سوفیصد غیر جانبداری‘ انصاف اور نتائج کی اُمید بر آئے لیکن سیف الرحمن اور قمر الزمان چودھری کے نیب سے موجودہ نیب کافی حد تک مختلف ہے‘ تازہ انگڑائی الیکشن کمشن آف پاکستان نے لی ہے‘این اے 75کا ضمنی
مزید پڑھیے


کچھ علاج اس کا بھی…

جمعرات 25 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
سندھ ہائی کورٹ کا اللہ بھلا کرے‘ دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ’’ جس علاقے میں بائولے کتے کے کاٹنے کا واقعہ پیش آیا وہاں کے ایم پی اے کی رکنیت معطل کی جائے گی اور وہ سینٹ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کر پائے گا‘‘۔ قابل احترام جج کے یہ ریمارکس اگر فیصلے کی شکل اختیار کریں اور صرف سندھ نہیں پورے ملک میں منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری سونپ کر پابند کیا جائے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کو صرف بائولے کتوں سے
مزید پڑھیے


جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

منگل 23 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں بیس پریذائیڈنگ افسروں کی پولنگ بیگز سمیت گمشدگی سے 1977ء کے انتخابات کی یاد تازہ ہو گئی‘1985ء کے بعد جنرل ضیاء الحق کی نرسری اور موروثی سیاست کے پنگھوڑے میں تربیت پانے والے سیاستدان جب ’’تاریخی دھاندلی‘‘ اور’’ ووٹ چوری ‘‘کا شور مچاتے ہیں تو 1977ء کے انتخابات میں بدترین جھرلو کا نظارہ کرنے والے لوگ سرپیٹ کر رہ جاتے ہیں‘انہیں بونے سیاستدانوں اور ان کے ہمنوائوں کی بیان بازی پر دکھ ہوتا ہے کہ 1988ء سے 2018ء تک استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کو بھول کر یہ کس تاریخی دھاندلی کا ذکر کرتے ہیں‘1988ء سے
مزید پڑھیے


عقلمند کے لئے اشارہ کافی

اتوار 21 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
ہار جیت اورالزامات اور جوابی الزامات سے قطع نظر ڈسکہ اور وزیر آباد کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے حکمران تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دیا ہے‘ کم و بیش ساڑھے تین سال سے میاں نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھیوں کو لوٹ مار‘ اقربا پروری اور قومی اداروں کی توڑ پھوڑ جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے‘ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی عدلیہ سے سزا یافتہ ہیں اور علاج کے بہانے بڑے میاں صاحب خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور‘ جبکہ برادر خورد جیل میں ہلکان ہو رہے ہیں ع جانے کس جرم کی
مزید پڑھیے



خزانے کی کنجی تیرے پاس ہے

جمعه 19 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
سینٹ انتخابات کا کھیل روز بروز دلچسپ ہوتا جا رہا ہے‘ اپوزیشن کی اُمیدیں بڑھ رہی ہیں اور حکمران ٹولے کی پریشانی دیدنی‘ سینٹ کے سابقہ انتخابات سے قبل بلوچستان حکومت کی رخصتی اور چیئرمین سینٹ کے طور پر صادق سنجرانی کی کامیابی نے ایوان بالا کو عوامی دلچسپی کا محور بنایا ورنہ 1973ء سے 2018ء تک سینٹ کے انتخابات بھی خواتین کی مخصوص نشستوں کی طرح محض اعداد و شمار کا کھیل ہوتے تھے‘ فلاں جماعت کے فلاں اسمبلی میں اتنے ارکان اسمبلی ہیں‘ سو اتنی نشستیں یقینی‘کسی جماعت یا اُمیدوار کا اضافی نشست لے جانا بہتر لین دین
مزید پڑھیے


کارکن بمقابلہ قیادت

منگل 16 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
سینٹ کے انتخابات 1973ء سے ہو رہے ہیں پچھلے پچیس تیس سال سے سینٹ کے انتخابات کا غلغلہ بلند ہوتے ہی حکومت کی رخصتی کی افواہیں گشت کرنے لگتی ہیں اس بار مگر ووٹوں کی خریدوفروخت کا معاملہ سرفہرست رہا‘ یہ معاملہ وزیر اعظم عمران خان نے اٹھایا ‘وہ اس حد تک کامیاب رہے کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور میڈیا نے ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ مستعدی سے ٹکٹ یافتگان کی جانچ پڑتال شروع کر دی اور سب سے زیادہ نزلہ تحریک انصاف کے کارکنوں پر گرا‘ عبدالقادر ٹھیکیدار‘ فیصل واوڈا‘ فیصل سلیم‘ سیف اللہ ابڑو اور نجی
مزید پڑھیے


’’زندگانی‘ جیل کہانی‘‘

جمعه 12 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
برادرم ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اپنے والد گرامی مولانا گلزار احمد مظاہری کے سوانح حیات اور خود نوشت ڈائری پر مشتمل کتاب مرتب کی ’’زندگانی ۔جیل کہانی‘‘قابل مطالعہ کتاب ہے جس میں صرف مولانا گلزار احمد مظاہری کے حالات زندگی مذہبی خدمات‘ سیاسی جدوجہد اور خطیبانہ فتوحات کا احاطہ نہیںکیا گیا بلکہ یہ 1950ء ‘1960ء ‘ 1970ء کے عشرے میں برپا ہونے والی تحریکوں کا آنکھوں دیکھا حال اور نامور سیاسی و مذہبی شخصیات کا نامہ اعمال بھی ہے۔ مولانا مظاہری سے میری نیاز مندی رہی اور تادم آخر انہوں نے راقم اور برادر عزیز صاحبزادہ خورشید گیلانی مرحوم
مزید پڑھیے


سینٹ انتخابات۔ حکومت کی آزمائش

جمعرات 11 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان کی طرف سے اوپن بیلٹنگ کی تجویز سینٹ انتخابات میں شفافیت لانے کے لئے تھی اور شائدنیک نیتی کا مظہر‘ اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لئے مگر مناسب ہوم ورک ہوا نہ بامقصد مشاورت اور نہ اس کے نتائج و عواقب پر سنجیدہ غور و فکر۔ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے بعد پارلیمنٹ سے رجوع اور پھر اچانک صدارتی آرڈی ننس کا اجراء عجلت پسندی اور غیر سنجیدگی کے سوا کیا ہے؟ گزشتہ روز وفاقی وزراء نے ایک ٹی وی چینل پر چلنے والی فوٹیجز کو اوپن بیلٹنگ کی تجویز کے حق میں
مزید پڑھیے


یہ خون خاک نشیناں تھا‘ رزق خاک ہوا

منگل 09 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
کوئٹہ میں ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے دن دیہاڑے ٹریفک سارجنٹ کو اپنی قیمتی گاڑی سے کچل کر موت کے گھاٹ اتارا تو کئی روز تک میڈیا میں شور مچا‘ سول سوسائٹی نے بھی قاتل کو قرار واقعی سزا دلانے کے لئے چیخ و پکار کی مگر بالآخر طاقتورقاتل مقامی عدالت سے باعزت بری ہوا‘ موقع کے گواہ‘ سیف سٹی کے ٹی وی کیمرے اور دیگر شواہد سب جھوٹے قرار پائے‘ اندھے گونگے ‘ بہرے نظام عدل نے صرف عبدالمجید اچکزئی کی بات مانی اور مقتول پولیس سارجنٹ کا خون رائیگاں چلا گیا‘ اسلام آباد میں وفاقی خاتون محتسب
مزید پڑھیے