BN

ارشاد احمد عارف


انتظار کرنا پڑے گا


میاں نواز شریف نے نعرہ مستانہ بلند کر دیا ‘ مسلم لیگی متوالے خوش ہیں کہ قائد نے چپ کا روزہ توڑا اور اب عزت کی زندگی گزارنے کے لئے وہ سب راز کھولنے کو تیار ہیں جو سیاسی‘ خاندانی اور ذاتی مصلحتوں کے تحت عرصہ دراز سے ان کے سینے میں دفن تھے۔ میاں نواز شریف ایک کائیاں‘ موقع شناس اور تجربہ کار سیاستدان ہیں‘پرویز مشرف کو جل دے کر وہ اٹک قلعے سے نکلے اور جدہ کے سرور محل پہنچ گئے‘ آٹھ سالہ جلا وطنی کے بعد حالات نے پلٹا کھایا‘ کنڈولیزا رائس نے این آر او کی
جمعرات 01 اکتوبر 2020ء

تنظیم سازی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
طلال چودھری کو رات تین بجے کس نے اور کیوں بلایا؟لڑائی کس بات پر ہوئی اور سابق مسلم لیگی رکن اسمبلی کا بازو کیسے ٹوٹ گیا؟پولیس تفتیش کے بعد ہی پتہ چل سکتا ہے لیکن ایک مسلم لیگی خاتون رکن اسمبلی کے گھر کے اندر یاباہر ہونے والی اس مارکٹائی پر طلال چودھری کا موقف دلچسپ اور قابل دادہے۔ ٹی وی چینلز پر چلنے والی ویڈیو میں طلال چودھری کہہ رہے ہیں کہ انہیں خواتین نے تین بار فون کر کے گھر بلایا‘ ایک رکن اسمبلی کے صاحبزادے کے ہمراہ میں تنظیم سازی کے لئے یہاں آیا مگر مجھے زدو
مزید پڑھیے


زبیر لیکس

جمعه 25  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
جنرل(ر) غلام عمر کے صاحبزادے محمد زبیر گھر کے بھیدی تھے اور گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی‘ غلطی مگر اس بے چارے کی نہیں‘ مریم نواز شریف یہ دعویٰ نہ کرتیں کہ میاں نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کوئی ملاقات نہیں کی تو گھر کی بات گھر میں رہتی‘ اخبار نویس نے مسلم لیگ کی نائب صدر اور میاں نواز شریف کی صاحبزادی سے سوال ایک صحافی اور اینکر کی ٹویٹ کے پس منظر میں کیا تھا‘ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کے ایک خصوصی نمائندے
مزید پڑھیے


جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
اپوزیشن کی اے پی سی اور میاں نواز شریف کی انقلابی تقریر دو خفیہ ملاقاتوں کی مار ثابت ہوئی جس میں سے ایک کو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی نے مان لیا، دوسری ملاقات شیخ رشید احمد منوانے پر تُلے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ فی الحال مسلم لیگ اس ڈر سے انکار پر مجبور ہے کہ جونہی اس نے آرمی چیف یا آئی ایس آئی چیف سے دوسری ملاقات کا اقرار کیا،کایاں شیخ صاحب تیسری ملاقات کا ذکر لے بیٹھیں گے یہ شیخ صاحب کا پرانا طریقہ کار ہے۔ 1988ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو
مزید پڑھیے


انقلابی تقریر

منگل 22  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
میاں نواز شریف کی ’’انقلابی‘‘ تقریر پر متوالے خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ خاموشی کا روزہ ٹوٹا‘ میاں صاحب کی رضاکارانہ زبان بندی ختم ہوئی‘ مداحوں اور متوالوں کو اور کیا چاہیے؟۔ مخالفین تقریر کو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے بیانیے سے ہم آہنگ قرار دے رہے ہیں ۔پریشان مگر وہ بھی نہیں بعض ستم ظریفوں کا خیال ہے عمران خان اور آصف زرداری دونوں میاں صاحب سے ہاتھ کر گئے‘ فوج ‘ عدلیہ‘ نیب اور دیگر قومی اداروں سے میاں صاحب کی نفرت ڈھکی چھپی نہیں۔12۔اکتوبر 1999ء کے واقعہ نے میاں صاحب کے دل و دماغ
مزید پڑھیے



اے پی سی اور’’مظلوم شہباز شریف‘‘

اتوار 20  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
اگر کوئی فوری طبّی یا سیاسی رکاوٹ حائل نہ ہوئی تو میاں نواز شریف کی اے پی سی میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت یقینی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے وفد کی قیادت بظاہر میاں شہباز شریف کریں گے مگر باگ ڈور مریم نواز شریف کے ہاتھ میں ہو گی کہ میاں نواز شریف کی جانشین وہ ہیں‘ میاں شہباز شریف نہیں‘ اس وقت مسلم لیگ اور شریف خاندان میں میاں شہباز شریف کی حیثیت ‘کارکنوں اور میڈیا کی نظرمیں بقول مولانا ظفر علی خان ؎ بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں گو مشت خاک ہیں مگر
مزید پڑھیے


خوف خلق اور خوف خدا

جمعه 18  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
موٹر وے زیادتی کیس پر قوم مشتعل ہے اور شرمندہ بھی‘ اشتعال کا سبب بار بار ایسے واقعات کا ظہور اور ریاستی اداروں کی روک تھام میں ناکامی ہے اور باعث ندامت یہ احساس کہ نام ہم اسلام کا لیتے ہیں‘مشرقی اقدار کی مالا جپتے ہیں اور اپنی غیرت و حمیّت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں مگر برداشت اپنے اردگرد ایسے درندوں کو کرتے ہیں جو معصوم بچوں اور بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے علاوہ مائوں کو اپنے بچوں کے سامنے درندگی کا نشانہ بناتے اور فرار ہو جاتے ہیں۔عابد ملہی کے معاملے میں غصّہ اور احساس ندامت
مزید پڑھیے


آغا جی

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
معروف صحافی محمد رفیق ڈوگر نے اپنی آپ بیتی ’’ڈوگر نامہ‘‘ میں ماضی کی بعض اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی جو تصویر کشی کی ہے وہ نام بڑے اور درشن چھوٹے یا اونچی دکان پھیکے پکوان کی عمدہ مثال ہے۔ لیکن سبھی ایسے نہ تھے‘ ہو بھی نہیں سکتے۔ آغا شورش کاشمیری کے بارے میں مثبت اور منفی بہت کچھ لکھا گیا‘ رفیق ڈوگر صاحب نے بھی دونوں پہلوئوں پر روشنی ڈالی مگر دو واقعات ایسے بیان کیے جو نوجوان صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ دلیری ‘ کشادہ ظرفی‘ اور بے نیازی کا وصف ایک صحافی کو دوسروں
مزید پڑھیے


چور کا ہاتھ ، وزیر کی زبان کاٹ دو

منگل 15  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
پرانی حکایت ہے ایک بادشاہ نے جنگل میں شکار کے دوران کمہار کو دیکھا کہ گدھے ایک قطار میں چل رہے ہیں اور کوئی گدھا اِدھر اُدھر نہیں ہوتا، حیرت زدہ بادشاہ نے پوچھا ’’گدھوں کو یہ نظم و ضبط تم نے کیسے سکھایا‘‘، کمہار نے جواب دیا،’’ بادشاہ سلامت جب کوئی گدھا اِدھر اُدھر ہوتا ہے میں ڈنڈے سے اس کی خوب ٹھکائی کرتا ہوں‘ شام کو گھاس نہیں ڈالتا، نہیں دیکھتا کہ وہ بوجھ زیادہ اٹھاتا ہے یا کم، اس کی ڈھینچوں ڈھینچوں بھی نہیں سنتا‘‘، بادشاہ کو عقلمند کمہار پسند آیا اور اسے منصف مقرر کر دیا،
مزید پڑھیے


’’سچ تو یہ ہے‘‘

اتوار 13  ستمبر 2020ء
ارشاد احمد عارف
علامہ عبدالستار عاصم نے پاکستان کے نیک نام بیورو کریٹ تحریک پاکستان کے نامور محقق اور مہربان دوست ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب’’سچ تو یہ ہے‘‘ تاخیر سے ارسال کی‘11ستمبر گزر چکا ہے اور میڈیا پر موٹر وے لنک روڈ پر ایک خاتون سے انسان نما دو وحشی درندوں کے غیر انسانی سلوک کے چرچے ہیں‘ لیکن کچھ عرصے سے ہمارے میڈیائی دانشور اور بعض نام نہاد محقق تحریک و تاریخ پاکستان‘ قائد اعظمؒ اور لیاقت علی خان سے بغض و عناد یا کسی مخصوص مقصد کے تحت غلط فہمیاں پھیلانے میں مصروف ہیں ان کے ازالے کی کوششوں کو
مزید پڑھیے