BN

محمد اظہارالحق

کُھرچے ہوئے لفظوں کا وارث

اتوار 20 مئی 2018ء
یہ ایک اداس کرنے والی صبح تھی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر یوں لگتا تھا۔ جیسے دل کے اندر دن ڈھل رہا ہو اور سائے لمبے ہو رہے ہوں۔ ایک پارسل موصول ہوا یکدم فضا بدل گئی۔ یہ معین نظامی کی شعری کلیات تھی۔ پا کر‘ دیکھ کر اور ورق گردانی کر کے یوں لگا جیسے ؎ بہت رونق ہے دل میں‘ بھاگتی پھرتی ہیں یادیں حلب سے قافلہ جیسے روانہ ہو رہا ہے معین نظامی میرا پسندیدہ نظم گو ہے۔ معین نظامی‘ وحید احمد اور فرح یار۔ یہ جدید نظم کی تکون ہے اور کیا غضب کی تکون ہے!
مزید پڑھیے


تجھے دروازہ بند ہونے کی خبر ملتی ہے اور مجھے کھُلنے کی

هفته 19 مئی 2018ء

وزارت عظمیٰ میاں محمد نواز شریف صاحب کے لیے کیا تھی؟ ایک پکنک!یا تفریحی تعطیل!!

آپ کلنٹن یا اوباما کی وہ تصاویر دیکھیے جب وہ صدارتی محل میں داخل ہوئے قابلِ رشک صحت! عرصۂ اقتدار کے بعد کی تصویریں ملاحظہ کیجیے۔ جوانیاں ڈھل گئیں۔ چہروں پر جھریاں پڑ گئیں۔ بال کہیں کھچڑی، کہیں سفید ہو گئے اس لیے کہ حکومت کرنا پھولوں کی سیج پر بیٹھنا نہیں، خاردار جھاڑیوں سے گزرنا ہے۔ صبح سے لے کر آدھی رات تک، ایک اجلاس کی صدارت پھر دوسرے کی، پھر تیسرے کی! پھر غیر ملکی حکمرانوں سے میز پر اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھ
مزید پڑھیے


مہمان کے لیے جان بھی حاضر ہے

جمعرات 17 مئی 2018ء
مہمان گرامی کے لیے جان بھی حاضر ہے! جو مقدور میں ہے اس سے زیادہ کروں گا۔ سب سے پہلے تو تمام احباب اور اعزہ و اقربا کو رمضان مبارک کا پیغام بھیجوں گا۔ اس نیک مقصد کے لیے وٹس ایپ‘ ٹوئٹر ‘ فیس بک‘ ایس ایم ایس‘ ای میل‘ تمام ممکنہ ذرائع کا استعمال پورا پورا ہو گا۔ اس کے بعد مہینے بھر کی افطاریوں کے لیے ایک گرینڈ ‘ عالی شان‘ بلند معیار‘ خریداری ہو گی مارکیٹ میں موجود تمام فروٹ کیا تازہ اور کیا خشک ہر قسم کی چاٹ کے اجزا‘ کھجور اور زیتون کی تمام اقسام اچار‘ مربے‘
مزید پڑھیے


بدبختی کی آخری حد

منگل 15 مئی 2018ء

برصغیر کی تاریخ میں بڑے بڑے حادثے رونما ہوئے۔ نظام سقہ کا بادشاہ بننا اور محمد شاہ رنگیلے کا تخت نشین ہونا بڑے حادثے تھے۔ مگر دنیا کی عظیم اسلامی مملکت پر ایک ایسے شخص کی حکومت جو نیم تعلیم یافتہ تھا، جس نے کبھی کوئی فائل پڑھی نہ کسی فائل پر کچھ لکھا۔ جو کسی اجلاس میں کسی سنجیدہ ریاستی یا حکومتی مسئلے پر کچھ سمجھ سکتا تھا نہ بول سکتا تھا۔ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ماضی کا کوئی حادثہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

اس ملک کے خون سے ایک ایک قطرہ نچوڑ کر یہ شخص بیرون ملک
مزید پڑھیے


رہے نام اللہ کا

اتوار 13 مئی 2018ء

گیارہویں جماعت میں ایک کلاس فیلو تھا جس کا نام مکھن حسین تھا۔ عربی کے استاد مولانا ابوالقاسم عبداللہ تھے۔ غالباً یہ جماعت اہل حدیث راولپنڈی کے امیر بھی تھے۔

عربی بطور مضمون رکھنے کا قصہ یہ ہوا کہ دسویں جماعت پاس کی تو ضلع میں کوئی پوزیشن ووزیشن بھی تھی اور سکالر شپ بھی۔ جو ان دنوں مبلغ چھبیس روپے ماہانہ تھا۔ اس زمانے میں پنجاب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (تب لائل پور) کا بہت شہرہ تھا۔ چنانچہ وہاں داخل کر دیا گیا۔ وہاں کے ماحول میں دل نہ لگا۔ واپس آ کر ایف ایس سی پری میڈیکل میں
مزید پڑھیے


رضاکارانہ موت۔ جائز یا ناجائز؟

هفته 12 مئی 2018ء
اس نے بٹن دبایا۔ رنگدار محلول ٹیوب کے راستے اس کے بدن کی رگوں میں منتقل ہونے لگا۔ آنکھیں بند ہونے لگیں۔ یوں لگ رہا تھا وہ سونے لگا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ کیا قابل رشک کیریئر تھا۔ ڈیوڈ گڈال کا! لاکھوں میں ایک آدھ ہی ایسا نابغہ ہوتا ہے۔ شاید کروڑوں میں ایک آدھ! پہلی جنگ عظیم کے آغاز کا پرآشوب دور تھا جب وہ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ علم نباتات کا ماہر تھا۔ 1948ء میں آسٹریلیا منتقل ہو گیا اور یونیورسٹی
مزید پڑھیے


ڈاکہ صرف موبائل فون کارڈ کے ذریعے تو نہیں ڈالا جا رہا

جمعرات 10 مئی 2018ء

تو پھر سپریم کورٹ بھی نوٹس نہ لے!

کوئی روک ٹوک نہ ہو! عوام کی کھال اترتی رہے۔ بوٹیاں نوچی جاتی رہیں!

یہ خود تو اپنے اور اپنے خاندانوں کے جملہ اخراجات قومی خزانے سے پورا کرتے ہیں! حفاظتی پہریداروں سے لے کر اپنے اور اپنے ذلّہ خواروں کے راتب تک‘ سب عوام پر ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سابق سفیر کرامت غوری لکھتے ہیں کہ الجزائر میں خصوصی باورچی منگوائے گئے۔ انہوں نے بھنڈی کا مطالبہ کیا کہ زرداری صاحب کا دسترخوان اس کے بغیر ادھورا رہے گا۔ بھنڈی فرانس سے منگوائی گئی! قائد اعظم ثانی نے نواسی کا نکاح
مزید پڑھیے


گال پر انگلیوں کے نشان چھوڑ جانے والا تھپڑ

اتوار 06 مئی 2018ء

تھپڑ! اور ایسا تھپڑ جس نے چہرہ سرخ کر کے رکھ دیا ہے! گال پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے ہیں! یہ تھپڑ مغرب نے مسلمانوں کے چہرے پر مارا ہے۔ بڑے بڑے مسلمان ملکوں میں رائج نظام ہائے حکومت دیکھ لیجیے۔پوری عرب دنیا پر آمریت چھتری کی طرح تنی ہوئی ہے۔ مراکش سے لے کر مصر تک اردن سے لے کر بحرین تک! کیا سعودی عرب اور کیا یو اے ای! موروثی بادشاہتیں ہیں یا آمرانہ حکومتیں! ایران میں کہنے کو جمہوریت ہے مگر ایسی جمہوریت جس کے اوپر ایک غیر منتخب کونسل آمرانہ اختیارات کی مالک
مزید پڑھیے


شہر کے اندھے کنوئیں سے

هفته 05 مئی 2018ء

کھیت کی مٹی میں چلتا، واپس مڑا تو سامنے سے سباج آ رہا تھا۔ بچپن کا دوست! گائوں کی گلیوں میں ہم کھیلا کرتے تھے۔ سن اتنا کچا تھا کہ یادوں کے روزن سے اب صرف پرچھائیں دکھائی دے رہی ہے۔ ایک برات ہے۔ گائوں کی مغربی سمت آخری گلی ہے۔ کسی نے بہت سے سکے اچھالے اور ہم بچے انہیں چننے اور ڈھونڈنے لگ گئے۔ اٹھنی تھی یا چونی جو ہاتھ آئی کسی دوسرے بچے نے لے لی۔ خوشی یہ تھی کہ گلی کی، جس کے دونوں طرف جھاڑیوں کی باڑ تھی، مٹی میں سے سکہ مل گیا۔ سباج
مزید پڑھیے


برف پگھلنے کی صبح

جمعرات 03 مئی 2018ء

حیرت سے زبان گنگ ہو رہی تھی دماغ گھوم رہا تھا۔

یہ کیسے ممکن تھا؟

کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا!

کیا یہ سب کچھ میاں محمد نواز شریف کہہ رہے تھے؟

میاں محمد نواز شریف کہہ رہے تھے کہ افسوس! صد افسوس! پنجاب میں دس سال سے ہماری حکومت ہے۔ وفاق میں ہم تین بار آئے مگر کروڑوں بچے سکولوں سے باہر دھکے کھا رہے ہیں۔ غیر منصفانہ تقسیم کی حالت یہ ہے کہ آٹھ لاکھ بچے انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سوا تین کروڑ سرکاری سکولوں میں!میں نادم ہوں کہ اتنے طویل عہدِ اقتدار میں ایک بار
مزید پڑھیے