BN

اوریا مقبول جان


پاکستانی سیاست کا ’’نیرو‘‘


پاکستان کے نظریاتی وجود سے نفرت کرنے والے دانش ور، ادیب، صحافی اور کیمونزم کے زوال کے بعد آنے والی امریکی برسات میں پھوٹ پڑنے والی سول سوسائٹی کے ارکان کا ایک عمومی رویہ یہ ہے کہ جیسے ہی پاکستان کے کسی صوبے یا علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑیں، ماحول کشیدہ ہو جائے اور ریاستی مداخلت کرنا پڑجائے تو ان کی زبان پر ایک فقرہ سج جاتا ہے، ’’ہم نے 1971ء سے سبق نہیں سیکھا‘‘ اور ساتھ ہی سیاسی گفتگو میں پاکستانی کی نظریاتی اساس پر حملے سے بات شروع ہو گی ،کہا جائے گا کہ ’’یہ ملک دراصل بنا
جمعرات 05 نومبر 2020ء

’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘ (آخری قسط)

اتوار 01 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
مغربی دنیا کو اس بات سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیںکہ توہینِ رسالت یا توہینِ مذہب کی ’’وارداتوں‘‘ کا مسلم دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پوری مسلم دنیا ایسی ’’قومی ریاستوں‘‘ کا مجموعہ ہے، جو آئینی اور عملی طور پر جمہوری، سیکولر اور لبرل حکومتیں ہیں۔ ان تمام اسلامی ممالک میںدیکھنے کو تو مسلمان رہتے ہیں، لیکن ان کی بود وباش ، طرزِ تعلیم ، معیارِ قیادت اور معیشت و معاشرت سب کی سب’’ سیکولر‘‘ اور’’ جمہوری‘‘ ہے۔ برونائی سے لے کر مراکش تک جہاں کہیں بھی الیکشن ہوتے ہیں، وہاں وضع قطع سے ہی
مزید پڑھیے


’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘…(2)

جمعه 30 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سیکولر، لبرل اور جمہوری معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہر ظلم کو کوئی نہ کوئی خوبصورت نام دے کر اس کی سرپرستی اور وکالت کرنے لگتے ہیں۔ فرانس اور یورپ میںبیسویں صدی کے آغاز یعنی،1900ء کے بعد سے قائم ہونے والے سیکولر، لبرل اور جمہوری معاشرے، دو انتہائی خونیں اور نفرت انگیز اجتماعی تعصب کے ادوارسے عبارت ہیں۔ پہلا دور یہودیوں کے خلاف تھا، جسے ’’سامیت کے خلاف‘‘ (Antisemitism)کہا جاتا ہے۔ یوں تو یہودیوں سے نفرت صدیوں سے عیسائی معاشرے کا حصہ رہی ہے ، لیکن یہ نفرت اپنے عروج پر ان جمہوری ادوار میں ہی پہنچی۔
مزید پڑھیے


’’دیارِ مغرب میں رہنے والے‘‘

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
مسلمانوں کی اس سیکولر، جمہوری اور لبرل ملک میں اوقات ہی کیا ہے۔ تم ساٹھ لاکھ مسلمانوں کا وہ جمِ غفیر ہو ،جسے سید الانبیاﷺ نے ’’پانی پر بہتے ہوئے خس و خاشاک‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ تمہیں بہت زعم تھا کہ تم فرانس میں نو فیصد ہواور تمہارے ووٹ کی جمہوری نظام میں اہمیت ہے۔ یہ والٹیئر، وکٹر ہیوگو اور سارترجیسے فلسفیوں اور سیاسی دانشوروں کی دی گئی سیکولر اخلاقیات کا فرانس ہے۔ ان کے انقلاب کوانقلابات کی ’’ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔اسی کی کوکھ سے جمہوریت ، سیکولرازم اور لبرل ازم نے جنم لیا۔ مذہب کو’’ خونی عفریت‘‘ بنا کر
مزید پڑھیے


ایک بار پھر ٹرمپ

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اگر کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ دنیا کے جمہوری ممالک میں الیکشن آزادانہ اور منصفانہ ہوتے ہیں تواس غلط فہمی کو اسے دل سے نکال دینا چاہیے۔ ہر ملک کے انتخابات پر اثرانداز ہونے والی قوتیں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیئے مخصوص قیادت کو سامنے لاتی ہیں اور پھر اس کے جیتنے کے لیئے ایک سازگار ماحول تخلیق کیا جاتا ہے۔’’سرمایہ‘‘ اور’’ میڈیا‘‘ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جو الیکشن کے دوران پوری منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ’’جمہوریت‘‘ کا یہ سارا کھیل اسقدر منظم ہے کہ ایک عام
مزید پڑھیے



گھناؤنی حد تک امیربننے کا طریقہ

هفته 24 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان

یہ کہانی پاکستان کے ہر اس شخص کی ہے،جو دیکھتے دیکھتے اسقدر امیر ہو گیا کہ اس کی دولت کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔یہ کوئی سیاستدان بھی ہو سکتا ہے اور کاروباری شخصیت بھی۔لیکن کہانی بیان کرنے والے نے اپنے اس ناول میں ان تمام حربوں اور شاطرانہ چالوں کو ایک ترتیب سے بیان کر دیا،جو کسی بھی ایشیائی ملک میں امیر ہونے کے لیئے کارآمد ہو سکتی ہیں۔محسن حامد کے اس ناول کا نام ہے ’’How to Get Filthy Rich in Rising Asia‘‘ ( اُبھرتے ایشیا میں کیسے غلیظ حد تک امیر بن سکتے ہیں)۔ ایک کشمیری
مزید پڑھیے


ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا

جمعه 23 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ سب سے بودا، کمزور اور ناپائیدار رشتہ انسان کا زمین کے ساتھ تعلق، وابستگی اور محبت کا رشتہ ہے۔ دنیا بھر کی تہذیبوں میں انسان، زمین کو دھرتی ماتا، مادرِ وطن اور مدر لینڈ (Mother land) کہہ کر پکارتا ہے۔ لیکن اس ’’ماں‘‘ سے انسان کی محبت اتنی کمزور ہے کہ جب کبھی یہ بنجر ہو جاتی ہے، اس کے پانی کے سوتے خشک ہو جاتے ہیں، اسے آفتیں، بلائیں، طوفان اور زلزلے گھیر لیتے ہیں، یہ روزگار فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتی ،تو وطن سے محبت کا دعویدار انسان جو کچھ
مزید پڑھیے


ایک نعت،ایک نعت خوان اور ربیع الاوّل

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ہمدان ۔۔ کہ جس شہر میں رہنے والے، علامہ اقبالؒ کے بارے میں ایک خودساختہ حکایت بیان کرتے ہیں کہ اقبال یہاں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے شخص سے کسی دکاندار کی گفتگو طویل ہو جائے اور بات یہاں تک آجائے کہ وہ یہ سوال پوچھ بیٹھے کہ ’’از کجا می آید‘‘، کہ’’ آپ کہاں سے آئے ہیں‘‘ اور آپ کا جواب یہ ہو کہ،’’ پاکستان کے شہر لاہور سے آیا ہوں‘‘،تو ایک دم اس کی آنکھوں میں چمک سی آجائے گی اوروہ پکار اٹھے گا ،’’از شہرِ اقبال لاہوری‘‘یعنی ’’اقبال لاہوری کے شہر سے‘‘۔ شاید ہی کوئی
مزید پڑھیے


ریاستِ مدینہ کی معیشت : تمام بحرانوں کا حل

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ صدی میں جس جدید سودی معیشت نے اپنے پنجے ایک عالمی مالیاتی نظام کے زبردستی نفاذ کے ذریعے گاڑے تھے، 2008ء سے ایک ایسے زوال کی سمت اپنے سفر کا آغاز کر چکی ہے، جس سے نجات کی راہ کسی کو نہیں سوجھ رہی۔ اٹھارویں صدی میں یورپ میں جو صنعتی انقلاب آیا، اس نے اخلاقیات سے تہی اور استحصال سے عبارت ایک جدید معاشی نظام کو جنم دیا۔ سرمائے میں اضافہ اور کاروبار کی وسعت ، دو ایسے اہداف ہیں جنہوں نے ہر لوٹ مار کو جائز قرار دے دیا۔ پہلی جنگ عظیم کی فتح کے بعد کے
مزید پڑھیے


جمہوریت اور اکثریت کا حقِ استحصال

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت کی فطرت میں یہ انسانی جبلّت بھی پیوست ہے کہ جو کوئی بھی جمہوری اصولوں کی بنیاد پر’’ اکثریت کا ووٹ‘‘ لے کر برسرِ اقتدار آتا ہے، اس کے اندر چھپا بیٹھا ’’آمر‘‘ اچانک بیدار ہو جاتاہے۔’’ اکثریت‘‘ کا غرور اس میں سمایا ہوتا ہے، اقتدار کے ایوانوں کا نشہ اس غرور کی پرورش کرتا ہے اور پھر ایک دن وہ ایک بہت بڑے’’ عفریت‘‘ کی صورت سامنے آجاتا ہے۔ جو معاشرہ جس قدر عدم برداشت اور مخالفین کو کچلنے والے جذبات سے معمور ہوگا، یہ عفریت اسی قدر خونی اور بے رحم ہوگا۔ دنیا کی قدیم ترین جمہوریتوں
مزید پڑھیے