BN

اوریا مقبول جان


ایک اور عالمی جنگ اور پھر۔۔۔


آج سے ٹھیک ایک صدی قبل، عوام کی حاکمیت، آئین کی بالادستی، قومی ریاست کے پرچم کی سربلندی،وطن کے نام پر زمین کے ٹکڑوں کی حفاظت پر انسانوں کے قتلِ عام کا تقدس اور عالمی سودی مالیاتی نظام کی اجارہ داری جیسے آدرشوں کے ساتھ جس سرمایہ دارانہ جمہوریت اور قومی ریاستوں کے نظام کی بنیاد رکھی گئی تھی، گذشتہ ربع صدی سے اس کی سانس کی ڈوریں ٹوٹنا شروع ہوگئی تھیں۔ اب یہ آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ عالمی سودی مالیاتی نظام کے زیرِ سایہ جمہوری قوتوں کے درمیان، جب کاغذ کی جعلی کرنسی کی لڑائی اپنے عروج
جمعرات 25 مارچ 2021ء

حکومتِ بینک دولتِ پاکستان

اتوار 21 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
کہانی کہنے والے، بادشاہوں کی داستانوں میں ایک ایسی حسینہ کی کہانی بیان کیاکرتے تھے، جسے فاتح حکمران سے انتقام لینے کے لیے پالا جاتا تھا۔ ایک انتہائی خوبرو،دلکش اور حسین بچی کو پورے ملک سے منتخب کیا جاتا اور اسے شاہی طبیب کی نگرانی میں پالاپوسا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی طبیب اسے ایک خاص قسم کے زہر کو ہزار درجہ کم مہلک بنا کر بچپن سے اس خاتون کی خوراک کا حصہ بناتا اور وہ خاتون اس زہر پر پلتی ہوئی جوان ہوتی۔ عمر کے ساتھ ساتھ زہر میں بھی اضافہ کر دیا جاتا اور ایک دن
مزید پڑھیے


دھرم پال جی اور پاکستان کے جھوٹے سیکولر لبرل

هفته 20 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے سیکولر طبقے نے جو چند تاریخی جھوٹ گھڑ رکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند میں آنے سے قبل یہاں جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، تعلیم تھی اور نہ ہی سائنسی ترقی۔ جبکہ اسکے برعکس یورپ میں یونیورسٹیاں بن رہی تھیں اور ہندوستان میں شالامار باغ اور تاج محل۔ لبرل سیکولر بیانیے کے اس بے بنیاد تاریخی جھوٹ پر پاکستان کے کئی دانشوروں اور کالم نگاروں کی دکانیں چلتی ہیں۔پاکستانی سیکولرلبرل طبقہ مسلمانوں کے ماضی، پاکستان کی اسلامی اساس اوراس خطے کی اسلامی تہذیب سے جنم
مزید پڑھیے


قائد اعظم کا سٹیٹ بینک،اب سودی معیشت کا اژدھا (آخری قسط)

جمعه 19 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
قائد اعظم کے اس دنیا سے چلے جانے کے ساتھ ہی پاکستان سٹیٹ بینک نے اپنی بنیادیں ان کی ہدایات کے برعکس, اسلامی اصولِ معیشت کی بجائے سودی مالیاتی نظام پر رکھ دی تھیں۔چونکہ اس نوزائیدہ ملک میں صنعتی پیداوار میں ترقی اور کاروباری دنیا کی وسعت زیادہ نہیں تھی، اس لیے پاکستان کا انحصار نہ تو غیر ملکی قرضوں پر تھا اور نہ ہی درآمدات برآمدات کیلئے فارن ایکسچینج کے اتنے بکھیڑے تھے، یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ بینک کا کردار بہت محدود رہا۔پاکستان کے پہلے دس سال حیران کن معاشی ترقی کے سال ہیں۔ اس دور کی
مزید پڑھیے


قائدِ اعظم کا سٹیٹ بینک ،اب سودی معیشت کا اژدھا

جمعرات 18 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے بننے کے بعد سودی معیشت، مغربی مالیاتی نظام اور جدید مغربی طرزِ حکومت پر سب سے توانا اور جاندار آواز بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی۔یہ وہ دور تھا جب موجودہ مالیاتی نظام اور سودی بینکاری ابھی عہدِ طفولیت میں تھی۔امریکہ میں اڑتالیس ممالک کے بریٹن ووڈ (Bretton wood) معاہدے کے بعد ایک نئے عالمی مالیاتی نظام کے وجود میں آئے ہوئے ابھی صرف تین سال ہی ہوئے تھے۔ سودی معیشت کا خوشنما شکنجہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) یوں تو 27 دسمبر 1945ء میں ہی قائم ہو گیاتھا ،لیکن اس نے اپنے آکٹوپس والے
مزید پڑھیے



ایک نظریاتی جاسوس

اتوار 14 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
آج کے دور میں کسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو محض ایک جاسوس کہنا، اس کی شخصیت اور کام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت طاقت، قوت ، معیشت اور غلبے کی جو بساط بچھی ہوئی ہے اس کے پیچھے عالمی قوتوں کے خفیہ ادارے ہی متحرک ہیں ۔یہ تمام ادارے اپنی ایک آئیڈیالوجی رکھتے ہیں اور ہر ادارے کا سربراہ ایک ’’نظریاتی‘‘ شخص ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک زمانے تک آئی ایس آئی کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ وہ ایک مکمل نظریہ رکھتی تھی ،پھر وقت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی کاسہ لیسی میں اب
مزید پڑھیے


مولانا ’’مظاہرہ‘‘

هفته 13 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
صرف آٹھ سال کے عرصے میں پاکستان کی چار جاندار تحریکیں ایسی ہیں، جن میں مجھے عملی طور پر ایک کارکن کی حیثیت سے حصہ لینے کا موقع ملا۔ بارہ سال کی عمر میں ایوب خان کے خلاف جلوسوں میں حصہ لینا شروع کیا تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی پر نظریاتی کیمونسٹوں کا غلبہ تھا۔اکبرعلی ایم اے ،کارل مارکس کی مشکل ترین کتابوں کو آسان لفظوں میں ڈھال کر چھوٹے چھوٹے پمفلٹ بنا کر تقسیم کرتے تھے اور پھر بہت ہی سادہ زبان میں سمجھاتے۔ عثمان فتح گجرات پیپلز پارٹی کے سربراہ تھے اور صاحبِ علم کیمونسٹ بھی۔ ان
مزید پڑھیے


وارننگ پر وارننگ

جمعه 12 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
ہم ایک بہت بڑے عالمی قحط کا شکار ہونے والے ہیں۔ کیا اس خوفناک وارننگ کا کسی کو اندازہ ہے جو گذشتہ چند مہینوں سے دنیا بھر کے سائنسدان، عالمی ادارۂ خوراک، ورلڈ بینک اور لاتعداد عالمی تنظیمیں دے رہی ہیں۔’’ کرونا‘‘کی وجہ سے جو خوراک کے ذخیروں میںجو کمی واقع ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں بھوکوں کی تعداد اسّی کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ کرونا سے پہلے یہ تعداد اندازاً تیرہ کروڑ تھی۔ ان اسّی کروڑ میں سے چوبیس کروڑ ایسے ہیں جو مکمل فاقہ زد گی کی وجہ سے موت کی آغوش میں
مزید پڑھیے


افغانستان: دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش

جمعرات 11 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
یوں تو یہ ایک خط ہے جو اس وقت دنیا کے نقشے پر اپنے آپ کو واحد سپر پاور سمجھنے والی قوت امریکہ کے وزیر خارجہ نے افغانستان کے صدر کو لکھا ہے۔ لیکن خط میں ایک جیتی جاگتی کہانی نظر آتی ہے، ایک تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی تصویرجس میں آپ کو افغان صدر اشرف غنی دست بستہ، سر جھکائے، کورنش بجائے نظر آئے گا، جسے اس کے ’’آقا ‘‘کا پیغام پڑھ کر سنایا جا رہا ہو۔ خط کے مندرجات پڑھنے کے بعد چشمِ تصور میں آنے والی اس تصویر کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو انیس سال
مزید پڑھیے


اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم

اتوار 07 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
عزت مآب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے جس دن سے اس مملکتِ خداداد پاکستان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر یہ کہا ہے، ’’لگتا ہے ہم پاکستان نہیں کسی گٹر میں رہ رہے ہیں‘‘، اس دن سے میں صحیح طور پر سو نہیں سکا۔ قاضی فائز عیسیٰ چونکہ نسلاً ہزارہ سے ہیں۔ان کے دادا قاضی جلال الدین افغانستان سے ہجرت کر کے ریاست قلات میں آئے تھے، اس لیے ہو سکتا ہے انہیں اپنی آبائی زبان فارسی ابھی تک بھولی نہ ہو،اس لیے میں شیخ سعدی کی وہ رباعی ان کی نذر کرنا چاہتا ہوں، جسے
مزید پڑھیے