BN

اوریا مقبول جان


طبلِ جنگ


سودی معیشت سے تخلیق کردہ مصنوعی کاغذی دولت سے تعمیر کردہ جدید عالمی جمہوری سیاسی نظام اپنے ظلم اور قتل و غارت کو درست، جائز اور انسانیت کے لیئے ضروری ثابت کرنے کے لئے اسی سودی معیشت پر پلنے والے ’’بھونپو‘‘ (Megaphone,Amplifier) یعنی ’’میڈیا‘‘ کا سہارا لیتا ہے۔ آپ گذشتہ ایک سو سال کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں آپ کو ہر بڑی جنگ، ہر بڑے قتلِ عام یا ہر بڑی سرکاری دہشت گردی سے کچھ عرصہ پہلے میڈیا پر ایک پراپیگنڈہ مہم ضرور نظر آئے گی، جس کے ذریعے ثابت کیا جارہا ہوگا کہ اگر فلاں جگہ فوجی ایکشن
هفته 06 مارچ 2021ء

کوٹھے سے کوٹھی تک

جمعه 05 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
تین مارچ 2021ء کی شام ’’جمہوریت پرست‘‘ پاکستانی میڈیا کا ہیرو صرف اور صرف آصف زرداری تھا۔ کون تھا جو اس شخص کو پاکستان کی جمہوری سیاست کی شطرنج کا بہترین کھلاڑی نہیں کہہ رہا تھا۔ پاکستانی اشرافیہ جس میں سیاست دان، بیوروکریٹس، اعلیٰ بزنس مین، بڑے زمیندار، جج، جرنیل اور مالدار صحافی شامل ہیں، ان سب کے ’’عزائم بلند‘‘ اور شوق ’’نرالے‘‘ ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کی صبحیں دولت سیمٹنے میں گذرتی ہیں اور راتیں رنگین ہوتی ہیں ۔ یہ اشرافیہ شوق ’’نئی منزلیں‘‘ تلاش کرتا رہتا ہے۔ آپ پاکستان کے پانچوں مراکزِ اقتدار
مزید پڑھیے


بھارت میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا

جمعرات 04 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
لوگ صبح ہی سے ہمیں بتا رہے تھے کہ ہندو نوجوانوں کے جتھے کسی بھی وقت آپ کے گھر پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ میرے والد نے انتہائی پریشانی کے عالم میں میری والدہ اور ہم بہن بھائیوں کو آگرہ کے سب سے اچھے ’’مغل ہوٹل‘‘ میں منتقل کر دیا۔ چند گھنٹے وہاں گذارنے کے بعد، میری والدہ نے فیصلہ کیا کہ آخر کب تک ہم یہاں چھپے بیٹھے رہیں گے اور ادھر تمہارے والد بھی تو اکیلے ہیں، اس لئے ہمیں واپس جانا چاہیے۔ ہم دوپہر کے بعد واپس آگئے۔ پورے شہر میں بابری مسجد کی جگہ رام
مزید پڑھیے


امن نہیں: صف بندیاں بدلنے کی کوشش (آخری قسط)

اتوار 28 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی نہ کرنے کے 2003ء کے معاہدے کی پاسداری کے اعلان اور لدّاخ کے علاقے میں چین اور بھارت کی افواج کا زمانۂ امن کے مقامات کی جانب لوٹنا، یہ سب صرف جنوبی ایشیا کا ایک علیحدہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ شمالی افریقہ کے ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا کے میدانوں تک پورے خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں اور نئی صف بندیوں کی ایک چھوٹی سی علامت ہے۔ موٹروے پر جاتے ہوئے آپ کو اچانک یہ خیال آجائے کہ تھوڑا پیچھے رہ جانے والے ایگزٹ (Exit)سے راستہ بدل
مزید پڑھیے


امن نہیں :صف بندیاں بدلنے کی کوششیں …(1)

هفته 27 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
’’اگر کشمیر کا مسٔلہ حل کئے بغیرامریکہ افغانستان سے نکل گیا تو پھر دنیا بھر کے جہادیوں کو ایک ایسا متبال ٹھکانہ مل جائے گا، جہاں سے وہ اس پورے خطے میں بڑی آسانی سے دخل اندازی کرسکیں گے‘‘۔یہ محض ایک تجزیہ نہیں، بلکہ ’’وارننگ‘‘ ہے جو امریکی افواج کے سب سے بڑے پالیسی تھنک ٹینک نے وائٹ ہاؤس کے نو وارد امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دی ہے۔ امریکی افواج کی سمت متعین کرنے، موجودہ اور مستقبل کی قیادت کی رہنمائی کرنے اور دنیا بھر کی پیچیدہ جنگی صورتحال میں قائدانہ کردار ادا کرنے
مزید پڑھیے



امتیاز علی تاج سے تحسین فراقی تک

جمعه 26 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
مجھے اندازہ تک نہیں تھا کہ اٹھارہ سال بعد اس ادارے کے حوالے سے ایک بار پھر قلم اٹھانا پڑے گا۔ پہلی دفعہ اکتوبر 2003ء میں اپنے قلم کو اپنے ہی ساتھی بیوروکریٹس کے خلاف تلوار بنانا پڑاتھا۔ ’’مجلسِ ترقی ادب‘‘کے سربراہ اس وقت احمد ندیم قاسمی تھے۔ایک ’’ہونہار‘‘ بیوروکریٹ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، انہوں نے احمد ندیم قاسمی صاحب سے کہا، ’’آپ کو اندازہ ہے کہ ایک کپڑے کی دکان کا تاجر چند تھانوں سے اپنے کاروبار کا آغاز کرتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ یا تو بہت بڑی فیکٹری کا
مزید پڑھیے


سینٹ: پاکستانی جمہوری نظام کی شاہ خرچی

جمعرات 25 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
جس طرح انگریزی زبان، لاطینی، فرانسیسی، ہسپانوی اور دیگر زبانوں سے مستعار الفاظ سے خود کو جاذبِ نظر بنائے ہوئے ہے، ویسے ہی اردو کا ذخیرۂ الفاظ بھی پرائی زبانوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان میں ایک مشترک لاطینی لفظ ’’سینٹ‘‘ ہے۔ کسی بھی زبان میں اس لفظ کا تلفظ یا ادائیگی کا طریقہ مختلف نہیں۔لاطینی وہ زبان ہے جو رومن ایمپائر کی اشرافیہ بولتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ شرفاء کی نقالی کرنے اور طاقت کے ساتھ تعلق نبھانے نے اسے پوری رومن سلطنت کی زبان بنا دیا۔ لیکن تمیزِ بندہ و آقا کہاں ختم ہوتی ہے۔ پرانی لاطینی
مزید پڑھیے


پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ : آخری قسط

اتوار 21 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے جمہوری نظام کی سب سے بڑی خرابی ’’حلقہ جاتی طریقۂ انتخاب‘‘ (Consititinecy Based Elections) ہے۔ یہ طریقہ انتخاب اس وقت دنیا کی صرف چند بڑی جمہوریتوں میں ہی رائج رہ گیا ہے ،جن میں برطانیہ اور بھارت سرفہرست ہیں،جبکہ بیشتر جمہوری ممالک نے اس نظام کو مکمل طور پر نمائندہ نہ ہونے کی بنیادپر مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح کے طریقۂ انتخاب کو دنیا بھر کے سیاسی ماہرین پاکستان جیسے کسی بھی منقسم معاشرے کے لیئے زہرِ قاتل خیال کرتے ہیں۔الیکشن اور جمہوری سیاست کے ماہرین دلائل کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ حلقہ جاتی الیکشنوں کی
مزید پڑھیے


پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ……( 2)

هفته 20 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کا موجودہ پارلیمانی نظام انگریز کا دیا ہوا ایک نوآبادیاتی تحفہ ہے ۔ اس نظام میںبنیادی اکائی ’’حلقۂ انتخاب‘‘ رکھے گئے تھے۔حلقۂ انتخاب کی سیاست انگریز کو اپنے مفادات کی تکمیل اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کیلئے بہت راس آئی تھی۔ اس نے تقریباً دو سو سال کی محنت سے ہر علاقے میں اپنے کچھ وفادار جانثار خاندان ایسے پیدا کر لئے تھے، جن کو سرکاری مراعات دے کر انگریز نے اس قابل بنادیا تھا کہ وہ اب اپنے علاقوں میں بلا شرکتِ غیرے ہر قسم کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے تھے۔ ان غداروں کا انتخاب 1757ء
مزید پڑھیے


پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ

جمعه 19 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے جمہوری نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس کی ترتیب ، تدوین اور انتظامِ کار میں جو لوگ مسلسل شامل رہے ہیں، ان کی اکثریت ذاتی مفادات، گروہی تعصبات، لسانی عصبیت اور علاقائی نفرت سے بلند اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر سوچنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی تھی۔ ہر کسی نے آئین کی ترتیب اور پھر اس میں بار بار ترامیم کرتے ہوئے اپنے انہی مفادات کا زہرآئینی دستاویز میں ضرورشامل کیا اور آج یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس سے ہر کوئی اپنی مرضی کی تعبیر نکال سکتا ہے۔ سیاست دانوں کی آئینی قلابازیوں
مزید پڑھیے