BN

اوریا مقبول جان


یہودیوں کی سرزمینِ عرب پر واپسی


عربی زبان میں اس عدالت کو محکمۃ حاخامیہ‘‘ کہتے ہیں۔ حاخام، یہودی ربائی (Rabbi)کا عربی ترجمہ ہے۔ تورات، تالمود اور زبور کی الہامی زبان عبرانی میں اس عدالت کو ’’بیث ڈن‘‘ (Beth din)کہتے ہیں۔ یہ یہودی شرعی عدالت ہے جسے ایک یہودی ’’حاخام ‘‘کی سربراہی میں قائم کیا جاتا ہے اور اس کے دو ایسے معاون جج ہوتے ہیں، جو یہودی شریعت اور شرعی قوانین کے ماہرہوں۔ یہودیوں کی تمام شرعی عدالتیں، موسوی شریعت کے اس واضح حکم سے وجود میں آتی ہیں، ’’اور اپنے دروازوں پر عدالتیں قائم کرو اور حکمران بٹھاؤ‘‘ (بابِ ا ستثنیٰ) 16:18 (Deuteronomy)۔ نفاذ
جمعرات 18 فروری 2021ء

دھن، دھونس اور جمہوریت (آخری قسط)

اتوار 14 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
ایسے تمام جرائم پیشہ افراد کی اکثریت عموماًالیکشن جیت جاتی ہے۔اس وقت لوگ سبھا کے 371ممبران میںسے 174ممبران ایسے ہیں جو مختلف خطرناک جرائم کے الزام میں مقدمات بھگت رہے ہیں۔ جرم و سیاست کا یہ گٹھ جوڑ بھارت کی جمہوری سیاست کا جزو لاینفک ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا خمیر گروہ بندی اور معاشرتی درجہ بندی سے اٹھا ہے۔ چار بنیادی ذاتوں، برہمن، ویش، کھشتری اور شودر نے معاشرے میں ایسی تقسیم پیدا کر رکھی ہے کہ ہر ذات والا اپنے گروہ یا قبیلے کے کسی مجرم، چور، قاتل، ڈاکو اور اغوا برائے تاوان والے کوبھی اس کے
مزید پڑھیے


دھن، دھونس اور جمہوریت (1)

هفته 13 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
سینٹ کے ہر الیکشن کے وقت ممبرانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کا جو غلغلہ عموماً برپا ہوتا ہے، اس سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے باقی پورا جمہوری نظام تو صاف، شفاف، بے ایمانی سے پاک، سرمائے کی دوڑ سے دور اور ووٹوں کی خرید و فروخت سے مبّرا ہے ، بس صرف یہی منتخب ممبرانِ اسمبلی ہیں جو سینٹ کے الیکشن کے وقت اپنے ووٹ کی قیمت لگا کر جمہوریت کو بدنام کرتے ہیں۔ ایک اور تاثر یہ بھی قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسا خرید و فروخت
مزید پڑھیے


سرکاری ملازم:ہماری بے زبانی دیکھتے جاؤ

جمعه 12 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
آج سے چند سال قبل جب مجھ پر امریکہ اور یورپ کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے تو بیرونِ ملک رہائش پذیرپاکستانی چہرے تفکّر اور پریشا نی لئے اکثریہ سوال کرتے کہ پاکستان کا کیا حال ہے؟ ہم یہاں دور بیٹھے روز بری بری خبریں سنتے ہیں، یہاں کے اخبارات اور میڈیا تو ایسے بتاتا ہے جیسے وہاں جنگل کا قانون نافذ ہے، امن و سکون نام کو نہیں، ایک افراتفری ہے، ہر کوئی اپنی جان بچا کر بھاگتا چھپتا پھر رہا ہے۔ایسے ملک میں آپ کیسے زندگی گذارتے ہیں۔ میں ہنس کر ٹال دیتا کہ وہاں بحث کا کیا
مزید پڑھیے


جمہوریت کی اکثریت میں اقلیت کی غلامی

جمعرات 11 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
گجرات ،کاٹھیا وار کا تاریخی علاقہ جسے 1197ء میں قطب الدین ایبک نے اپنی سلطنت میں شامل کیا تھااوراس خطے پر مسلمانوں کا یہ اقتدار 1614ء تک قائم رہا۔بحرِ ہند کے کنارے آباد اس خطے میں ولندیزی، پرتگالی، فرانسیسی اور انگریز، چاروں نو آبادیاتی قوتوں نے اپنے اپنے اڈے قائم کیے۔ یوں اس علاقے میں آپ کو ہر مذہب کے ماننے والوں کی ایک نمائندہ تعداد ضرور مل جائے گی، لیکن اتنی زیادہ نو آبادیاتی قوتوں کی حکومتوں کے باوجود آج بھی یہاں ہندو آبادی 90فیصد کے قریب ہے ،جبکہ ایک فیصد آبادی میں عیسائی، پارسی، جین اور بدھ شامل
مزید پڑھیے



جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل

اتوار 07 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
عالمی تجزیہ نگار اور میدانِ سیاست کے دانشور جوآجکل جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید میں لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی کشمکش کا مسلسل جائزہ لے کر ان پر گفتگو کرتے اور تجزیے تحریرکرتے ہیں،ان کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا موضوع یہ ہے کہ برما میں سیاسی تبدیلی کے بعد اگلا کونسا ملک نشانے پر ہوگا، بنگلہ دیش یا پاکستان۔ چین کی دفاعی حکمتِ عملی کیلئے ان دونوں ملکوں میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔ پڑوس کا افغانستان بھی اس کی کامیابی کیلئے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میںاس وقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کی
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل……(2)

هفته 06 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
بھارت کے تازہ ترین فوجی بجٹ میں اضافے اور اسلحہ کی خریداری کا جس طرح مذاق اس وقت چین کے دفاعی تجزیہ نگار اُڑا رہے ہیں ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین ایسے امریکی چار ملکی اتحاد سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ بھارت اس اتحاد کا فرنٹ لائن لڑاکا ہے۔ چین کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں سے اسلحہ خرید کر کوئی ملک دنیا کے فوجی نقشے پر ایک قوت کے طور پر کبھی نہیں ابھرسکتا۔ چینی اخبار نے کرونا سے مارے ہوئے بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اپنی گرتی ہوئی
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل

جمعه 05 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور دانشوربرادری روزمرہ کے لایعنی اور فضول جھگڑوں میں مستقل اور مسلسل الجھی ہوئی ہے، جلوسوں، جلسوں، شور مچاتے ٹی وی ٹاک شوز اور’’مہذب‘‘ پارلیمنٹ کے اکھاڑوں میں گونجتی آوازوں میں ان شخصیات کو نہ تو خطے میں آنے والی جنگ کے ڈھولوں کا شور سنائی دے رہا ہے اور نہ ہی آسمان پر منڈلاتے جنگ کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔میرے ملک کے محدود زاویۂ نظر رکھنے والے اکثر دانشور اور تجزیہ نگار جو عوامی مقبولیت کے لیئے روز پاپڑ بیلتے ہیں اور ’’ریٹنگ‘‘ کی دوڑ میں اندھے ہوچکے ہیں، ان کی حالت بالکل بغداد
مزید پڑھیے


گراں خوب چینی سنبھلنے لگے

جمعرات 04 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
ابھی ڈونلڈ ٹرمپ کے عرصۂ صدارت میں پورا ایک سال باقی تھا کہ 4نومبر 2019ء کوامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دستخطوں سے ایک دستاویز جاری ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ایک آزاد اور کھلا بحرِ ہند و بحرالکاہل‘‘ (A free and open Indo-Pacific)۔ تیس صفحات پر مشتمل اس لائحہ عمل کا خواب نومبر 2017ء میں ویت نام میں ہونے والے پینتیس ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا تھا۔ یہ تمام ممالک ’’ہند چینی‘‘ علاقے میں امریکہ کے حلیف اور دوست قرار دیئے گئے تھے، جن کی امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم دو ہزار ارب ڈالر تھا۔ان ممالک
مزید پڑھیے


ہمیں کس جہنم میں لے جایا جارہا ہے (آخری قسط)

اتوار 31 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
میڈیا اور نصابِ تعلیم کے گٹھ جوڑ سے معاشروں کو بدلنے کا تجربہ مغرب میں انتہائی کامیاب رہا۔ وہ معاشرے جہاں خاندانی اقدار و روایات، شرم و حیا اور مذہبی بالادستی چھائی ہوئی تھی وہاں سب سے پہلے ’’تحریکِ احیائے علوم‘‘ (Renaissance)کے نام پر آرٹ اور ادب میں نیم عریانی اور نیم فحاشی کے دروازے کھلے اور تحریر و تقریر میں جنسی جذباتیت کے اظہار کے لیے مذہبی اخلاقیات کو چیلنج کیا گیا۔ یوں تو اس تحریک کو اردو میں ’’احیائے علوم‘‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ اپنے تمام تر مقاصد اور اہداف کے اعتبار سے ایک معاشرتی تبدیلی (Cultural
مزید پڑھیے