BN

اوریا مقبول جان


ہمیں کس جہنم میں لے جایا جا رہا ہے


گزشتہ کئی دہائیوں سے اس قوم کے زوال پرلکھنے والے اپنی تحریروں کا عمومی عنوان یہ رکھتے تھے کہ ’’ہم کہاں جارہے ہیں‘‘۔ ایسی تحریروں میں اخلاقی زوال، خاندانی روایات کے خاتمے، اور معاشرتی بے حسی کا تذکرہ ہوتا تھا۔ لیکن میں آج انتہائی دکھ ، کرب اور اذیت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے زوال کی طرف خود نہیں جارہے بلکہ ہمیں اس جہنم کی طرف زبردستی گھسیٹا جارہا ہے۔ اس اخلاقی زوال اور بدترین جنسی غلاظت کے گڑھے میں دھکیلنے کے ذمہ دار دو اہم گروہ ہیں، کار پردازانِ نظام تعلیم
هفته 30 جنوری 2021ء

یاجوج ماجوج کے آخری معرکے کی تیاریاں

جمعه 29 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
گیارہ جنوری 2007ء ایک ایسا دن تھا جس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکی عسکری ماہرین جو اپنی قوت و طاقت کا آخری مرکز و محور ’’خلا میں اپنی بادشاہت‘‘ کوسمجھتے تھے، سب کے سب انگشتِ بدندان رہ گئے۔اس دن چین کے خلائی مرکز ’’زی چنگ‘‘ (Xichang) سے خلا کی سمت ایک بلاسٹک میزائل نے اڑان بھری۔ اس میزائل کو ’’متحرک تباہ کن گاڑی‘‘(Kinetic Kill Vehicle) کہا جاتا ہے۔ میزائل تیزی سے پرواز کرتا ہوا زمین کے مدار سے نکلا اور خلا میں زمین سے 863کلومیٹر بلندی پر، چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ ’’فینگین
مزید پڑھیے


شام پھر خون آشام ہونے کو ہے

جمعرات 28 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ شخص امریکی سفارت کار ہے اور انگریزی کے علاوہ عربی، فرانسیسی، ترکی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ اس کیبنیادی تعلیم کا مرکز و محور، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، معاشرت اور معیشت رہی ہے ۔ اس نے جانز ہوپکنز (Johns Hopkins University) سے مشرقِ وسطیٰ کی معاشرت و معیشت میں ایم اے کیا اور پھرقاہرہ کی امریکی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی۔ اس نے اپنی تمام سفارت کاری کی نوکری مشرقِ وسطیٰ میں گذاری۔ جب عراق میں امریکی افواج داخل ہوئیں تو یہ ازمیر، قاہرہ، الجزائر، کیمرون اور بحرین میں سفارت کا تجربہ
مزید پڑھیے


پاکستانی سیاست کا مجرمانہ مزاج اور جسٹس عظمت سعید

اتوار 24 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی جمہوری سیاست کا خمیر دراصل اس ڈیرہ دار معاشرت سے اٹھا ہے جس میں کسی گاؤں، گوٹھ یا کِلّی کا چوہدری، وڈیرہ، خان یا ملک اپنے زیرِ سایہ افراد پر مکمل تسلط رکھتا ہے۔ لوگوں کی ضروریات اس سے وابستہ ہوتی ہیں اور ان کے مسائل کے حل کاہر راستہ اس کی دہلیز پر جانکلتا ہے۔ چند سو افراد کے چھوٹے سے گاؤں سے لے کر چند ہزار افراد کے گاؤں نما قصبے تک لوگوں کی معاشرت میں ایک شخص مرکز و محور ضرور ہوتا ہے جو ان کے جائز و ناجائز مفادات کا تحفظ کرواتا ہے۔ عمومی
مزید پڑھیے


پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

هفته 23 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
طالبان کی قید میں اسے تقریباً دو سال بیت چکے تھے۔ وہ اور اس کا ساتھی امریکی پروفیسر کیون کنگ (Kevin King) کابل یونیورسٹی سے گھر کی طرف جاتے ہوئے اغواکر لئے گئے تھے۔ اگست 2016ء میں اغوا ہونے والے اس آسٹریلوی استاد ٹموتھی ویکس (Timothy weeks) اور اس کے امریکی ساتھی کا ابتدائی طور پراخبارات اور دیگر میڈیا میں کوئی تذکرہ تک نہ کیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ اس خبر کے افشا ہونے کو عالمی طاقتوں کے اتحاد کی ذلت اور لڑنے والے سپاہیوں کے حوصلے پست کرنے کی وجہ خیال کرتا تھا، اسی لئے اس نے ان
مزید پڑھیے



تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

جمعه 22 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
بالآخر، بیس جنوری 2021ء کو امریکہ کی انچاس فیصد اقلیت پر اکیاون فیصد اکثریت کی آمریت کو نافذ کر دیا گیا۔ اس دن واشنگٹن شہر بالکل ویسا ہی منظر پیش کر رہا تھا جیسا منظر بغداد اور کابل میں امریکی حملوں، خونریز لڑائی اور قتلِ عام کے بعد ہونے والے الیکشنوں میں منتخب حکمرانوں کی تقریبِ حلف برداری کے وقت تھا۔ آج تاریخ کا یہ مغالطہ اور غلط فہمی بھی دور ہو گئی کہ ’’جمہوری نظام‘‘ اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وہ اپنے تسلسل کو قائم رکھ سکے۔ جو بائیڈن کا یہ فقرہ کہ ’’آج جمہوریت کی فتح
مزید پڑھیے


سفید کالروں والے چور

جمعرات 21 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستانی تاریخ کا بدترین مقبولِ عام جملہ ’’کھاتا ہے لیکن لگاتا بھی تو ہیــ‘‘، اس ملک کی بدقسمتی اور بدنصیبی کا آئینہ دار ہے۔ جس ملک میں عام آدمی اس بات پر راضی ہو جائے کہ اس کی قیادت ایسے چوروں کے ہاتھ میں ہی بھلی ہے جو گھر کا صفایا کرتے وقت ان کے لیے تھوڑا کچھ چھوڑ جاتے ہیں تاکہ نقصان کا احساس کم ہو اور مکمل طور پر نہ لٹ جانے کے احساس سے کوئی واویلا نہ مچائے،تو پھر ایسے ملک کے نصیب میں بحیثیت مجموعی کبھی خوشحالی آسکتی ہے اور نہ اطمینان۔ایسا سوچنے والے اگر کسی
مزید پڑھیے


سفید فام خبطِ عظمت اور ملین مارچ ملیشیا (آخری قسط)

اتوار 17 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
امریکہ میں تشدد کی لہر صرف اور صرف سفید فام اکثریت کی بالادستی کے نعرے سے وابستہ نہیں، بلکہ اس کی روح رواں وہ شدت پسندانہ مذہبی سوچ ہے جو عیسائیت کا سخت ترین مؤقف رکھنے والے گروہ ’’ایونجلیکل‘‘ (Evangelical) سفید فام عیسائیوں اور قدامت پرست رومن کیتھولک عیسائیوں نے مل کر ترتیب دی ہے اورجو بندوق اٹھا کر بزورِ قوت امریکہ پر عیسائی مذہب کی حکومت الٰہی (Theocracy) کے نفاذکے لیے امریکہ کے ہر شہر اور قصبے میں جانثاروں کے گروہ ترتیب دیتے چلے آرہے ہیں۔ سفید فام بالادستی کے گروہ تو امریکہ بھر میں مختلف تنظیموں میں بٹے
مزید پڑھیے


سفید فام خبطِ عظمت اور ملین ملیشیا مارچ

هفته 16 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
جس ملک میں عوام کے پاس چالیس کروڑبندوقیں ہوںاور ان میں سے بیشتر آٹومیٹک ہوں، اور جنہیں بچپن سے ہی گھروں، سکولوں اور دوستوں کے درمیان ’’سفید فام‘‘لوگوں کی عظمتوں کی داستانیں سننے کو ملی ہوں، یہ لوگ ایک دفعہ اچانک کیپیٹل ہل کی عمارت پر قبضہ کرکے اسے برقرار رکھنے میں ناکام تو ہوسکتے ہیں لیکن اگر وہ اگلی دفعہ آئیں گے تو زیادہ زور و شور اور منصوبہ بندی سے آئیں گے۔ ایسے میں ان کو روکنا کتنا مشکل ہوگا۔ یہ ہے وہ سوال جو ان امریکی اراکینِ کانگریس کے سامنے خوف بن کر ناچ رہا ہے، جو
مزید پڑھیے


آزادی کا تاوان

جمعه 15 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
مسلمان دنیا سے غلامی کو رخصت ہوئے تقریباً ایک ہزار سال ہو چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے غلاموں کی آزاد کرکے بلند ترین سماجی مقام پر فائز کرنے کی جو روایت چودہ سو سال پہلے قائم کی تھی، دنیا کے کسی معاشرے میں بھی اس کی مثال نہیںملتی۔ حضرتِ بلال ؓ کی وہ عزت و تکریم کہ دو عالمی طاقتوں کو شکست دینے والے عمر ابنِ خطابؓ انہیں سیدنا بلال (میرے آقا بلال) کہہ کر پکارتے تھے۔ ہندوستان میں خاندانِ غلاماں، ان غلام بادشاہوں پر مشتمل تھا جن کے آقاؤں نے یہ برصغیر فتح کیا اور پھر اس
مزید پڑھیے