BN

اوریا مقبول جان


واپس آجاؤ !


وہ وقت بہت قریب آرہا ہے جب مسلمانوں کے لیئے دنیا بھر میں اپنے ممالک کے علاوہ کوئی’’ محفوظ جنت‘‘ (Safe Heaven) نہیں رہے گی۔ خصوصاً ان مسلمان سرمایہ داروں کے لیئے جنہوں نے اپنا جائز یا ناجائز سرمایہ ’’محفوظ سرمایہ کاری‘‘ کیلئے دنیا بھرکے ممالک میں منتقل کیا، جائیدادیں خریدیں، فیکٹریاں لگائیں اور کاروبار کیئے۔سید بابر علی پاکستان کی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا جینا مرنا اس پاکستان سے وابستہ رہا ہے۔وہ ان صاحب ِ حیثیت لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے اس ملک کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ نہر کنارے، ظہور الٰہی روڈ کے
اتوار 03 جنوری 2021ء

دورِ فتن کا ایک اور سال

هفته 02 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
مصر اور کوفہ سے آئے ہوئے چند شر پسند منافقین نے مدینۃ الرسول ﷺ میں شہیدِ مظلوم سیدنا عثمانؓ کے گھر کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ میں نے یہاں لفظ ’’منافقین‘‘ اور ’’شرپسند‘‘ خاص طور پر لکھے ہیں، کیونکہ سید الانبیائﷺ کی اس بارے میں واضح احادیث موجود ہیں جو اسماء الرجال کے ماہرین کے مطابق’’ حسن صحیح‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ پہلی حدیث یوں ہے ’’حضرت مرہ بن کعب بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپؐ نے فتنوں کا ذکر کیا اور قریب ہونے کا ارشاد فرمایا، اتنے میں ایک آدمی گذرا اس نے ایک
مزید پڑھیے


اسٹبلشمنٹ کے اصل دست و بازو (آخری قسط)

جمعه 01 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ صرف فوج یا اس کے زیرِ سایہ خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔چند سالوں سے ایسا تاثر پاکستان میں خاص طور پر بنانے کی منظم کوشش کی گئی ہے، جس کی وجوہات اور پس پردہ مقاصد ایک الگ موضوع ہے۔ ہردور میں وقت اور حالت کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ایک بازو زیادہ بااختیار ہو کر پورے گروہ کی قیادت کرنے لگتا ہے تو وہی اس کی پہچان بن جاتا ہے۔ سول بیوروکریسی کے بغیر فوج اپنا اثر و نفوذ مضبوط نہیں کر سکتی اور سیاست دانوں میں
مزید پڑھیے


اسٹیبلشمنٹ کے اصل دست و بازو

جمعرات 31 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اگر جدید دنیا کی تاریخ سے یہ سوا ل پوچھا جائے کہ تقریباً ایک سو سال سے قائم شدہ قومی ریاستوں میں اسٹیبلشمنٹ عوامی قوت سے زیادہ طاقت ور ہے ، تو اس کا جواب نفی میں آئے گا۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں ایسی تحریکیں اٹھیں جن کے پیچھے ایک واضح عوامی اکثریت موجود تھی تودنیا کے کسی ملک کی اسٹیبلشمنٹ اس کا سامنا نہیں کر سکی۔ کچھ دیرتک وہ عوام پر ظالمانہ اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی ہے، لیکن پھر اس عوامی سیلاب کے سامنے ڈھیر ہو جاتی ہے۔ ہمارے خطے میں اس کی تازہ ترین مثال
مزید پڑھیے


سیاست دانوں کی گیٹ تھرو گائیڈیں

اتوار 27 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستانی سیاست و صحافت اپنے آدرش یا آئیڈئل کے معاملے میں اسقدر گر جائے گی کہ اس کے ہاں قیادت کا معیار عرفِ عام میں ’’Crowd Puller‘‘ یعنی بھیڑ جمع کرنے والے بن جائیں گے۔ بھیڑ یعنی Crowd، دنیا کی ہر زبان میںایک غیر منظم اور بکھرے ہوئے انسانوں کے جتھے کو کہتے ہیںجو بغیرکسی ترتیب اور مقصد کے، ایک جگہ جمع ہو جائیں۔ بازاروں میں لوگوں کے ہجوم کو بھی ’’بھیڑ ‘‘کہتے ہیں، کیونکہ ہر کوئی اپنے اپنے کام سے وہاں کا رُخ کرتا ہے۔ بازار ویسے بھی ہر طرح کے افراد کی ضروریات بہم پہنچانے کی جگہ ہوتی
مزید پڑھیے



قائد اعظم ؒ اور جعل ساز مصنفین

هفته 26 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
قائداعظم ؒ کی تقریر میں جسٹس منیر کی ’’جعل سازی‘‘ کی تحقیق کرنے والی سلینہ کریم لکھتی ہیں کہ جب میں نے رپورٹ میں دیئے گئے قائداعظمؒ کے انٹرویو میں پاکستان سے متعلق ٹکڑے میں ، ’’جدید جمہوری ریاست‘‘(Modern democratic State) کے ساتھ ’’اقتدارِ اعلیٰ عوام کے پاس‘‘ (Sovereignty resting in the people) کے الفاظ پڑھے تو مجھے اچنبھاسا لگا۔ اس لیئے کہ جدید جمہوری ریاست میں تو یہ تصور بنیادی سمجھا جاتا ہے اور وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی کہ اقتدارِ اعلیٰ کس کے پاس ہوگا، یہ بحث تو دنیا کی تمام جمہوری ریاستوں میںآئین سازی کے وقت صرف
مزید پڑھیے


قائد اعظمؒ اور جعل ساز مصنفین

جمعه 25 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
جسٹس منیر احمد پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا متنازعہ کردار ہے جسے اپنے اس فیصلے کی بنیاد پر طعن و تشنع کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو اس نے سکندر مرزا کے مارشل لاء کو بحثیت چیف جسٹس پاکستان جائز قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’فاتح انقلاب جائز ہوتا ہے‘‘۔ اس نے یہ فیصلہ 27اکتوبر 1958ء کو صبح کے وقت سنایا اور اس کے بتائے ہوئے اسی اصول کا سہارا لیتے ہوئے سکندر مرزا کے وزیر دفاع اور افواجِ پاکستان کے کمانڈر ان چیف ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کو راتوں رات ایوانِ صدارت سے نکالا اور کرسیٔ
مزید پڑھیے


قائد اعظم اور سیکولر لبرل دانشور

جمعرات 24 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
قائد اعظم اور بُلھے شاہ جیسی عظیم شخصیات کو سیکولر ثابت کرنے والوں کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک خاص قسم کے لباس، بود و باش، ذوقِ طعام، حصولِ علم کی جدوجہد اور وضع قطع کو پہلے خود ہی سیکولر قرار دیتے ہیں اور پھر اس سانچے میں جس شخصیت کو چاہیں فِٹ کر دیتے ہیں۔ سیکولر اور لبرل ازم کا جدید تاریخ میں واضح اظہار آج سے ڈھائی سو سال قبل مئی 1789ء میں ’’انقلابِ فرانس‘‘ کے آس پاس ہوا تھا۔ تمام بڑے بڑے سیکولر اور لبرل ازم کے فلسفی اسی دور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے
مزید پڑھیے


’’البدر‘‘

اتوار 20 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
سولہ دسمبر 2020ء کو رات آٹھ بجے وہ میرے پروگرام ’’حرفِ راز‘‘ میں ان نوجوانوں کی ایمان افروز داستان بیان کر رہے تھے، جو مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج اور اس کی تیار کردہ ’’مکتی باہنی‘‘ کے مظالم کے سامنے سینہ سپر ہوئے تھے، تو میں باوجود ضبط و احتیاط اپنی آنکھ کے کونوں پر آئے ہوئے آنسوؤں کو نہ روک سکا تھا۔ قصہ طویل بھی ہے اور دلگداز بھی ۔ مکتی باہنی کے انہی مظالم کی داستان وارث میر صاحب نے اپنے ان کالموں میں بھی بیان کی ہے، جو انہوں نے 1971ء میں مشرقی پاکستان کے اپنے دورے
مزید پڑھیے


کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور (آخری قسط)

هفته 19 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
راجستھان کے ضلع اودھے پورمیں ایک پہاڑی مقام ’’موتی مگری‘‘ ہے جس کی سب سے بلند چوٹی پر ہندوؤں کی جدید تاریخ کے سب سے بڑے ہیرو ’’مہاراجہ پرتاب سنگھ‘‘ کا مجسمہ نصب ہے، جو اپنے پسندیدہ گھوڑے چیتک پر سوار ہے۔ یہ مجسمہ 17جون 1576ء میں ہونے والی ہلدی گھاٹی کی لڑائی کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ لڑائی مغل بادشاہ اکبر کی افواج اورمیواڑ کے راجہ پرتاب سنگھ کے درمیان ہوئی تھی۔۔ لیکن ہم سب کے لیئے حیرت کا ایک اور سامان بھی اسی موتی مگر ی کی پہاڑیوں پر موجود ہے اور وہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں