BN

اوریا مقبول جان


ن۔والقلم


گھر کا کونساکونہ ہے جو ان کی خطاطی سے آراستہ نہیں ہے، زندگی کا کونسا ایسا مرحلہ ہے کہ جس پر ان کی تحریر کی مہر ثبت نہیں۔ دروازے پر لگی نام کی تختی سے لے کر علامہ اقبالؒ کے میرے دو پسندیدہ اشعار، جو انہوں نے ہیروں کی طرح جگمگ قطعات کی صورت تحریر کیے تھے، پہلے دفتر میں آویزاں رہتے تھے اور اب اس کمرے کی دیوار ان سے روشن ہے ،جہاں بیٹھ کر میں پڑھتا ہوا، کالم لکھتا ہوں، کیمرے کے سامنے گفتگو کرتا ہوں۔میری شاعری کی کتاب ’’قامت‘‘ کا سرورق جمیل نقش مرحوم نے بنایا تھا،
جمعرات 10 دسمبر 2020ء

پاکستان کے گرم پانیوں تک

اتوار 06 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کتاب میں نے کوئٹہ کی جناح روڈ پر واقع گوشۂ ادب سے خریدی تھی۔ ایک ایسا ٹھکانہ جہاں نواب اکبر بگٹی اپنے گھر سے سیر کرتے ہوئے نکلتے، رات پڑھنے کے لیئے کوئی کتاب یا رسالہ اُٹھاتے، تھوڑی دیر گپ شپ لگاتے اور چلے جاتے۔ ایسا ہی ایک اور ٹھکانہ زمرد حسین صاحب کا قلات پبلشر بھی تھا، جہاں غوث بخش بزنجو اور عطا اللہ مینگل سے لے کر میر گل خان نصیر تک سب آتے، محفل جمتی اور دنیا بھر کی سیاست پر گفتگوہوتی۔ بلوچستان کے سیاست دانوں سے زیادہ عالمی و علاقائی اور معاشرتی و تاریخی امور
مزید پڑھیے


گھر گھر پھیلا سوگ

هفته 05 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
محبی و مکرمی ہارون الرشید صاحب نے تقریباً ایک ماہ قبل 29اکتوبرکو ’’دستک‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا تو اس کی ابتدائی سطریں ایسی تھیں کہ دل ودماغ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی جو آج تک قائم ہے۔ برادرم اشرف شریف سے تذکرہ کیا کہ موت کا اس وارفتگی سے انتظار کسی نفسِ مطمئنہ والے شخص کا ہی خاصہ ہو سکتا ہے۔کیا اطمینان ہے، ’’اب زندگی سے دل اُچاٹ ہونے لگا ہے، اب ٹھنڈے سائے کی آرزو ہے، اب دل مدینے کو لپکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کس محبت سے جہانِ نامعلوم کا ذکر کیا کہ دِل سے موت کا
مزید پڑھیے


اگلے دس سال: یہودی علماء کی نظر میں……(2)

جمعه 04 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یوں تو آمون اسحاق، 1990ء سے ہی دنیا بھر کے یہودیوں میںایک مقبول ترین ربائی رہا ہے، لیکن گذشتہ سال 27ستمبر 2019ء کو جب اس نے کرونا وائرس کی پیش گوئی کی اور ساتھ ہی یہ انکشاف کیا کہ بل گیٹس اس وائرس کو پھیلانے والا ہوگا اور یہ کہا کہ کارپوریٹ دنیا ایک ایسی ویکسین تیار کروائے گی جس کے ذریعے لوگوں کے جسموں میں ایک مائیکروچپ (Micro chip) داخل کی جائے گی جس سے پوری دنیا کو کنٹرول کرتے ہوئے 2021ء میں نیا ورلڈ آرڈر نافذ کر دیا جائے گا۔ بل گیٹس سے نفرت تو سمجھ میں آتی
مزید پڑھیے


اگلے دس سال: یہودی علماء کی نظر میں

جمعرات 03 دسمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
آخرالزمان، آمدِمسیحا، یاجوج ماجوج اور قیامت سے پہلے برپا ہونے والے آخری معرکۂ خیر و شر جیسے موضوعات ، صرف علماء اسلام ہی کا موضوع نہیں، بلکہ عیسائیت اور یہودیت میں بھی یہ سب مدتوں سے زیرِ بحث اور زیرِ مطالعہ رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تینوں مذاہب کے وہ علماء جو ان موضوعات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، وہ سب گذشتہ تیس سالوں سے ان واقعات کے عنقریب ظہور پذیر ہونے کی اطلاع دے رہے ہیںاور بیشتر علامات کے ظہورسے ان کے شواہد بھی پیش کر رہے ہیں۔ اس علم کو ’’ایسکاٹا لوجی‘‘ (Eschatology)
مزید پڑھیے



ہے اگر کوئی خطرہ مجھ کوتو اس اُمت سے ہے

اتوار 29 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا کے کسی علم یا شعبۂ ہائے زندگی میںافراد کے دو طرح کے واضح گروہ بہرطور موجود ہیں۔ ایک روایت پرست اور دوسرے جدیدیت کے علمبردار۔ لیکن دونوں کا ہر شعبے میں اپنا اپنا احترام کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ ادب میں ایک گروہ ہمیشہ پرانی طرزِ تحریر کا علمبردار ہوتا ہے اور دوسرا روایت شکن۔ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل جب مبارک احمد اور اس کے ساتھیوں نے نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو غزل کو شاعری کا کمالِ فن قرار دینے والا طبقہ ان کے خلاف لٹھ لے کر پڑ گیا۔ تمام معاشرے، کہانی کہنے اور
مزید پڑھیے


تبدیلی کا کامیاب سفر

هفته 28 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک چالیس سال قبل جب میں منشیات کے خلاف کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’’یو این ایف ڈی اے سی‘‘ (United Nations Fund for Drug Abuse Control) کی تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن کی حیثیت سے بلوچستان کے دور دراز ڈویژن، مکران کے صدر مقام تربت پہنچا تو یہ ایک خاموش اور چھوٹا سا قصبہ لگتا تھا۔ ایک بہت بڑی برساتی ندی ـ’’کیچ کور‘‘ کے کنارے آباد شہر، جس میں واقعی تربت جیسا سکوت اور خاموشی تھی۔’’ کیچ ‘‘دراصل تربت کاقدیم نام ہے، لیکن ہم نے بچپن سے اس کی شہرت سسی پنوں کی
مزید پڑھیے


آنے والے پچاس دن

جمعه 27 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
امریکی صدارتی انتخاب کے بعد جنم لینے والی بحث آج بھی جاری ہے۔ جس ’’جمہوریت‘‘ میں مدتوں سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ ہارنے والا امیدواراپنی شکست کے ابتدائی آثار دیکھتے ہی ہار تسلیم کر لیتا تھا اور جیتنے والے امیدوار کو مبارکباد اور نیک خواہشات کے پیغامات دیتا تھا، وہاںایک ’’روایت شکن‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً بیس دن گذرنے کے بعد بھی، ابھی تک ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ وہ مسلسل امریکی اسٹبلشمنٹ پر بدترین دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہا ہے۔ اس کے یہ الزامات صرف بیانات کی حد تک محدود نہیں
مزید پڑھیے


قائد اعظم، پرویز مشرف اور اسرائیل

جمعرات 26 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ لوگ کون ہیں؟ اس کا جواب ہر اس شخص کو معلوم ہے جو اس مملکتِ خداداد سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًدو سو کے قریب ممالک میں سے واحد خطۂ ارضی ہے جو یوں تو ایک قومی ریاست کہلاتی ہے،مگر اس کی تخلیق کے وقت اس کی قومیت ،نسل، رنگ اور زبان کی بجائے’’مسلمان‘‘ تھی۔قیامِ پاکستان تک کوئی ایک بیان، تقریر، تحریر یا مراسلہ ایسا نہیں ملتا جو اس بات کا اعلان نہ کرتا ہو کہ یہ ملک ہم صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو بھی پاکستان کے اس’’
مزید پڑھیے


نیتوں کا فتور

اتوار 22 نومبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اشفاق احمد صاحب بلا کے مجلسی آدمی تھے۔ کہانی لکھنے میں تو تحریر کے آسمان کا درخشندہ ستارہ تھے ہی مگر کہانی کہنے اور داستان بیان کرنے کے فن میں بھی کوئی دور تک ان کا ہم پلّہ نظر نہیں آتا۔ برصغیر پاک و ہند کی اردو زبان کی تاریخ میں کوئی ایسا جامع الصفات ادیب پیدا نہیں ہوا جو بیک وقت اعلیٰ درجے کا افسانہ تحریر کرے، ڈرامہ لکھنے لگے تو اس جیسا منظر نامہ، کردار نگاری اور مکالمے کوئی اور نہ لکھ پائے۔ صدا کاری کے میدان میں اپنے لیئے خود تلقین شاہ کا کردار منتخب کرے،
مزید پڑھیے