BN

ریاض مسن


مفکرِ اعظم


سقراط کوجمہوری نظامِ حکومت کا مخالف مانا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس پر سب سے بڑا حملہ کارل پاپر کی جانب سے کیا گیا ہے جس نے اسے اپنی مشہور زمانہ کتاب "آزادہ معاشرہ اور اسکے دشمن " میں اسے غیر جمہوری سوچ کا امام قرارد یا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ سقراط جمہوریت کو ایتھنز کے وجودکے لیے خطرہ سمجھتا تھا ۔ وجہ یہ تھی کہ ریاستی معاملات پر تجارت پیشہ طبقے کی اجارہ داری تھی اور یہ طبقہ جمہوریت کے لبادے میں اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا تھا ۔ معاشرہ دولت جمع کرنے کی دوڑ میں
اتوار 11 اپریل 2021ء

کیا جرم سے سمجھوتا جائز ہے؟

اتوار 04 اپریل 2021ء
ریاض مسن
اپنی لگ بھگ دو دہائیوں پر محیط صحافتی زندگی میں کالم نگاری سے عشق رہا۔ اخبارات سے تعلق کی ابتدا یہیں سے ہوئی اور پھر یوں کہیں کہ کہیں کے نہیں رہے۔ مطلب ، ملازمت کی بھی تو اس لیے کہ کالم نگاری چلتی رہے۔ ایک فائدہ یہ ہوا کہ اس صحافتی "رگڑے" سے بچ گیا جواس وقت نواردوں کو لگتا تھا۔ رپورٹنگ کی طرف مجھے اسلام آباد سے نکلنے والے ایک اخبار ، جس سے میں نے کالم نگاری کی ابتدا کی تھی ،کے چیف ایڈیٹر لائے۔ انہوں نے مجھے دو شعبوں میں سے ایک چننے کا کہا۔ کرائم
مزید پڑھیے


پیچھے کیا رہ گیا ہے

اتوار 28 مارچ 2021ء
ریاض مسن
کشمیر اور پنجاب کی سرحد پر توپوں کی گھن گھرج کا خاتمہ، یوم پاکستان پر مودی کا پیغام تہنیت، چین اور روس کی مغربی تہذیب کو دی گئی للکار اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پرچم تلے اس سال پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی مشقیں۔ لگتا ہے تاریخ کا پہیہ پھر سے گھومنا شروع ہوگیا ہے، ہواوں کا رخ بدل رہا ہے، تبدیلی کا معاملہ ایک صحافی کی چھٹی حس کا نہیں بلکہ سائنسی طریقہ تحقیق کی روشنی میں نظر آنیوالے والے ناقابل تردید سچ کا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ تبدیلی کی آہٹ کو محسوس نہ کرسکیں
مزید پڑھیے


پیپلز پارٹی دو راہے پر؟

جمعه 26 مارچ 2021ء
ریاض مسن
پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی، اس وقت بظاہر دوراہے پر لگتی ہے۔ اس نے اپنے لیے راستے کا انتخاب کرنا ہے جس میں ایک طرف حزب اختلاف کا منہ زور ور ہَتھ چْھٹ قسم کا اتحاد، پاکستان جمہوری تحریک، ہے جو موجودہ پارلیمان کو ناجائز قرار دے کر اسے رخصت کرنے کے درپے ہے تو دوسری طرف اس کے، بطورسیاسی پارٹی ، اپنے مفادات ہیں جن سے فرار ممکن نہیں۔ پاکستان جمہوری تحریک کی تخلیق اور اسکے مقاصد واضح ہیں اور یہ بھی کہ اس حکومت مخالف تحریک کے پیچھے کون سے عوامل
مزید پڑھیے


اصلاحات یا انتخابات؟

اتوار 21 مارچ 2021ء
ریاض مسن
حال ہی میں ہالینڈ میں انتخابات ہوئے ہیں۔ یہ انتخابات قبل از وقت کرائے گئے ہیں کیونکہ مخلوط حکومت پر مخالفین کا الزام تھا کہ اس نے کورونا وائرس کی روک تھام میں لاک ڈاون کا استعمال غیر ذمہ داری سے کیا جس کی وجہ سے کاروبار اور معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔ کوئی تحریک نہیں چلی ، جلسے جلوس نہیں ہوئے، عوام کے رائے جاننے کے لیے حکمران اتحاد نے از خود انتخابات کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت حال واضح ہوسکے۔حکمران پارٹی اور حلیف زیادہ اعتماد کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کو کاری
مزید پڑھیے



باب القائد

اتوار 14 مارچ 2021ء
ریاض مسن
باب القاعد سرکاری شعبے میں قائم چوٹی کے تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا صدر دراوزہ ہے۔ یہاں پہنچ کر نوے ڈگری کے فرق سے دو راستے نکلتے ہیں، کسی پر بھی بغیر رکے چلتے جائیں تو واپس یہیں پر پہنچیں گے۔ یہ ایک گول دائرہ ہے۔ جو پچھلی دو دہائیوں میں دو گنا بڑھ چکا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے ترقی کی نئی منزلیں طے کی ہیں جن میں نئے ڈیپارٹمنٹس کا قیام اور چار دیواری اہم ہیں۔ طلبا کی تعداد میں ہوشربا تو نہیں لیکن نوے کی دہائی، جب مجھے اس کے ہاسٹلز میں
مزید پڑھیے


گردشِ دوراں

اتوار 07 مارچ 2021ء
ریاض مسن
تبدیلی اب اتنی بدنام ہوگئی ہے کہ ادھر آپ کے منہ سے ، یا قلم سے یہ لفظ نکلا لوگ شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں یہ صاحب اس کے حامیوں سے متاثر تو نہیں ہوگئے اور ہم ٹھہرے وہ کہ نہ کعبہ ملا اور نہ ہی وصال صنم۔ ٹھیک ہے ، بات نہیں کرتے ، گردش دوراں پہ طبع آزمائی کرلیتے ہیں۔ کبھی انقلاب کے نعرے لگے تھے، آفاق کے سرخی مائل ہونے کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا۔ تخت و تاج گرانے والی شاعری پہ سر دھنا جاتا تھا۔ اب وہ قصہ پارینہ ہوا۔
مزید پڑھیے


کورونا وباء ترقی پذیر ممالک کے لیے وارننگ

بدھ 03 مارچ 2021ء
ریاض مسن
یورپ اور امریکہ میں کورونا وائرس نے دیگر خطوں کی نسبت زیادہ تباہی مچائی ہے۔ یہاں پچھلی کئی دہائیوں سے حکومتوں نے بنیادی خدمات نجی شعبے کے حوالے کردی تھیں۔ خوراک کی فراہمی پہلے ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی تھی۔ سیاست اور کاروبار کے اتحاد کی اس نئے جہت کی سب سے بڑی خرابی صحت کے شعبے میں واقع ہوئی۔ جب کورونا وائرس آیا تو یہ شعبہ اپنے کمزور ڈھانچے کے ساتھ اس نئی آفت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ ویکسین موجود نہیں تھی ۔حکومتوں نے سرحدیں بند
مزید پڑھیے


چور مچائے شور

اتوار 21 فروری 2021ء
ریاض مسن
پچھلے عام انتخابات کے ساتھ در آئی سیاسی کدورتوں اور رنجشوں میں تاحال کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ جس طرح کا عامیانہ پن پارلیمان میں نظر آرہا ہے پتہ نہیں اسے ملک کی مالی صورتحال کا عکس قرار دیا جائے یا پھر وجہ۔ سیاسی پارٹیوں کو نہ تو وبا کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی اپنی ساکھ کی پرواہ۔ عوام کیا تاثر لیتے ہیں، کسی کو پرواہ نہیں ۔ گالی گلوچ ، گریبان پکڑنا ، ہلڑ بازی کرنا عام سی بات ہے۔ پارلیمان جیسا مقدس ادارہ مچھلی منڈی کا روپ دھار چکا ہے تو سیاسی پارٹیاں اپنے سوا
مزید پڑھیے


بستی

اتوار 14 فروری 2021ء
ریاض مسن
بہاولپور کے نواح میں واقع اپنی بستی کو میں نے پچھلی صدی کی آخری دہائی میں الوداع کہا تھا لیکن اس دن سے لیکر آج تک واپسی کے خیال سے نہیں نکل سکا۔ وہاں مجھے ساون کے گرد لپٹی لو اور حبس کے علاوہ زندگی گزارنے میں کبھی کوئی مشکلات نظر نہیں آئیں۔ زرخیز زمینوں کو پانچ سے چھ مہینے نہری پانی میسر ہوجائے تو کون سی فصل ہے جو یہاں نہیں ہوتی، کونسی سبزی اور پھل یہاں نہیں اگائے جاسکتے۔ پرندے اور جانور پالنا چاہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ ملوں اور دفتروں میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینے اور
مزید پڑھیے