BN

سجاد میر

ایک ’’کوفی‘‘ کا ’’سجدۂ سہو‘‘

جمعه 25 مئی 2018ء
بعض مضامین کا بار بار باندھا جانا قدرت کی طرف سے ہوتاہے۔ اچھا ہوا کہ بے ترتیبی نے راہ پائی اور یہ رحمت ٹھہری۔ جاوید چودھری کے خیالات پر ڈاکٹر حسین پراچہ اور عامر خاکوانی کی رنجش نے جو مہمیز کا کام کیا تھا اس طرح اس پر مرے تاثرات قہند مکرر کے طور پر دیکھنے کے ساتھ اب یہ موقع بھی ملا ہے کہ اس پر مزید مضمون باندھ جائے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ تو مرے لیے من بھاتا کھاجا ہے‘ ترنوالہ ہے۔ برسوں کراچی میں رہا ہوں‘ اس موضوع پر نہایت سنجیدگی سے
مزید پڑھیے


ایک ’’کوفی‘‘ کا ’’سجدۂ سہو‘‘

جمعرات 24 مئی 2018ء
یہ تو مرے لیے من بھاتا کھاجا ہے‘ ترنوالہ ہے۔ برسوں کراچی میں رہا ہوں‘ اس موضوع پر نہایت سنجیدگی سے نبردآزما ہوتا آیا ہوں۔ ویسے 70کے انتخابات کے نتائج کے بعد سے یہ نکتہ ایک چیلنج بن کر میرے سامنے رہا ہے۔ بڑے کشٹ کاٹے ہیں۔ ان انتخابات میں ’’ہمیں‘‘ شکست ہوئی تھی۔ ہم کہ ’’شوکت اسلام‘‘ کے گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم اس صورت حال کو سمجھ نہ سکے تھے۔ لیکن جلد بات سمجھ آنے لگی۔ جو بات پنجاب کے خلاف کہی جا رہی تھی‘ وہ ذرا گہرائی میں جا کر پنجاب کے لیے مایۂ فضیلت بن سکتی
مزید پڑھیے


خوابوں کے سوداگر

پیر 21 مئی 2018ء
مری اس تحریر کا عنوان تھا‘خوابوں کے سوداگر‘ پوری دنیا میں چرچا تھا کہ برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے اپنے لیے ایک شہزادی ڈھونڈی ہے۔ وہ بالکل آسمانوں سے اتری ہوئی ہے اس وقت ڈان گروپ کے اردو روزنامے ’’حریت‘‘ کی ذمہ داری نئی نئی مرے سپرد ہوئی تھی۔ میں بھی نئے نئے راستے ڈھونڈتا رہتا۔ شاید میں بھی سوداگر تھا‘ میں بھی کچھ بیچنا چاہتا تھا ۔اخبار ہی سہی وہ جس کی مارکیٹ میں قیمت ہو‘ ان دنوں ابھی ٹیکنالوجی بہت پیچھے تھی۔ رنگین تصویریں پلک جھپکتے سمندر پار کا سفر طے نہیں کرتی تھیں۔ میرے ساتھیوں
مزید پڑھیے


غدر یا جنگ آزادی

جمعرات 17 مئی 2018ء
بار بار کی تاکید کے باوجود میری بات کوئی نہیں سنتا تھا کہ ملک ایک غیر معمولی صورت حال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کوئی بتاتا کہ نواز شریف کو رک جانا چاہیے اور معاملات کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے کہ ملک کا نقصان ہو جائے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ وہ سب کچھ سہہ جائیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں کہ ملک کا نقصان ہو۔ دوسرا بتاتا کہ بھئی آپ ایک پالیسی کے تحت اس شخص کو دیوار سے نہ لگائیں صرف اس لیے کہ ملکی معاملات پر آپ کی بالادستی برقرار ہے۔ کوئی
مزید پڑھیے


یہ آپ کے مفاد میں نہیں

پیر 14 مئی 2018ء
اگر یک سرِ موئے برتر پرم فروغ تجلی بسوزد پرم یہ بات کتنی بھی سچ کیوں نا ہو‘ یہ موقف کتنا بھی درست کیوں نا ہو‘ اس کا اس وقت یوں بیان کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔ یہ سرل المیڈا کون ہیں۔ یہ ڈان لیکس میں بھی پیش پیش تھا اور آپ نے اسے اتنی چاہت سے انٹرویو دیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہمارے ذمہ دار افراد نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ممبئی سانحے کے کردار اس سرزمین سے گئے تھے۔ تاہم دنیا نے اس کا
مزید پڑھیے


کہاں گئی و ہ ہماری بیوروکریسی

هفته 12 مئی 2018ء
لگتا ہے اس بات کو معذرت خواہانہ انداز میں بتارہا ہوں، آج دل چاہتا ہے ذرا دو ٹوک انداز میں اسے تسلیم کریں۔ ہم نے بیوروکریسی کو بہت گالیاں نکالی ہیں۔ اسے ہمیشہ نوآبادیاتی نظام کی میراث قرار دیا ہے۔ ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس نوکر شاہی یا افسر شاہی نے ملک تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہ کالے صاحب، انگریز کے جانے کے بعد ملک کے حکمران بن بیٹھے تھے اور انہوں نے کسی کو کام نہیں کرنے دیا۔ مجھے آج اعتراف کرنا ہے کہ اگر یہ سب باتیں درست بھی ہیں تو بھی یہ
مزید پڑھیے


ہمارے بھی ہیں کچھ خواب

جمعرات 10 مئی 2018ء

نصف صدی گزر گئی‘ پتا ہی نہیں چلا۔ وہ واقعات جنہوں نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔ ان دنوں میں بھی سڑکوں پر تھا۔ ہمارے کیمپس بھی سراپا احتجاج تھے ادھر پیرس میں طلبہ بپھرے ہوئے تھے۔ پہلے انہوں نے کیمپوں پر قبضہ کیا‘ پھر فیکٹریوں پر قابض ہو گئے۔ مزدور بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ وہ صدر ڈیگال کی علیحدگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہم ایوب خاں سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ اس تحریک نے مغربی یورپ اور امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہماری تحریک سے اس کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ مگر تاریخ کا
مزید پڑھیے


انا کا نہیں بقا کا مسئلہ ہے

پیر 07 مئی 2018ء

جس بات کا ڈر تھا وہی ہو رہی ہے۔ چند ہفتے پہلے ہم اصرار کیا کرتے تھے کہ سینٹ اور اسمبلیوں کے الیکشن ہو لینے دو۔ نتیجہ کچھ بھی ہو ملکی معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ اب شاید بات بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ جب انتخابات کی بات ہوتی تو میں اسمبلیوں کے ساتھ سینٹ کا تذکرہ کر کے یہ سمجھتا تھا کہ گویا بہت باریک نکتہ بیان کر رہا ہوں ڈر تھا کہ ان انتخابات کو ملتوی کرانے کے لیے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ صوبائی اسمبلیاں بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ اور بھی بہت سے ٹوٹکے آزمائے جا سکتے
مزید پڑھیے


کچھ یادیں کچھ باتیں

جمعرات 03 مئی 2018ء

مجھے وہ دن یاد ہیں جب میں نئے کپڑے پہن کر اپنے والد یا ماموں کی انگلی پکڑے خراماں خراماں اس سٹیڈیم کی طرف عید کی نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ میرا بچپن بلکہ لڑکپن یہیں گزرا ہے۔ ہمیں ساہیوال والوں کو اپنے اس سٹیڈیم پر فخر تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس خطے میں یہ پہلا سٹیڈیم تھا جہاں بڑی تقریبات منعقد ہو سکتی تھیں۔ مجھے یاد ہے میں بہت چھوٹا تھا کہ ہمارے گھر دوسرے شہروں سے مہمان آئے۔ وہ ہمارے بڑے کزن یا انکل تھے۔ وجہ تھی کہ یہاں غالباً پاکستان کی سطح پر قومی کھیلوں کا
مزید پڑھیے


ظالما ذرا غور تو کر لے!

پیر 30 اپریل 2018ء

گزشتہ ہفتہ بہت ہی مصروف گزرا ۔ بہت ساری مصروفیات میں سے دو میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ دونوں کا تعلق یونیورسٹیوں سے ہے۔ ایک تو سیالکوٹ میں گجرات یونیورسٹی کا کیمپس ہے جو جلد ہی سیالکوٹ یونیورسٹی میں تبدیل ہونے والا ہے۔ چلتے چلتے یہ بتاتا جائوں کہ جب کوئی ایسا تجربہ ہوتا ہے تو اپنا شہر ساہیوال یاد آتا ہے جہاں نہ صرف سائنس میں پوسٹ گریجوایٹ کلاسیں ہمارے زمانے سے موجود ہیں اور بہائوالدین زکریا یونیورسٹی کا کیمپس بھی ہے۔ مگر ابھی تک یہ بحث جاری ہے کہ یہاں یونیورسٹی پوسٹ گریجوایٹ کالج کو بنایا
مزید پڑھیے