BN

سعدیہ قریشی


تہی کیسہ عبدالرشید اور بہتر ہوتے معاشی اشاریے


موڑ کھنڈا کے نواحی گائوں کا رہائشی عبدالرشید روزانہ زندگی کی جنگ ایک نئے جذبے سے لڑتا ہے۔ وہ اپنی خالی جیب کے بھاری پن کے ساتھ زندگی کو مشکل سے سانس سانس آگے دھکیلتا ہے۔عبدالرشید کی زندگی ان کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کی طرح ہمیشہ مشکلات اور آزمائشوں سے دوچار رہتی ہے جو سفید پوشی کے زخ میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ اور اکثر اس کے معاشی معاملات اتنے دگرگوں ہو جاتے ہیں کہ سفید پوشی سرکتے سرکتے غربت کے دہانے تک پہنچ جاتی ہے۔ پانچ بچوں ایک بیوی اور بوڑھے ماں باپ کے ساتھ وہ ایک بھرے پرے
جمعه 21  اگست 2020ء

پرانا مشغلہ

بدھ 19  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
ایسا میرے ساتھ پہلے بھی ہوا تھا۔ چند سال پہلے اگست ہی کا مہینہ تھا اور میں بہت سی کتابوں کے ساتھ ٹیگور کو بھی پڑھ رہی تھی۔ ٹیگور کے افسانوں اور گیتا نجلی کی نظروں نے گرفت میں لیا تو اس پر کالم لکھنے کا ارادہ کیا۔ عملی صحافت کا تربیت یافتہ کالم نگار‘ کالم کا موضوع چنتے ہوئے ہمیشہ اس کی ریلیوینسی‘ حالات حاضرہ سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے نہیں تو کوئی مطابقت کرنٹ افیئرز سے ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ اس لیے کہ صحافت ہے ہی کرنٹ افیئرز کا کام۔ ٹیگور کی سوانح عمری پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ
مزید پڑھیے


حرف باریاب کے رنگ

اتوار 16  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
رحمت سید لولاکؐ پہ کامل ایماں امت سید لولاک سے خوف آتا ہے والد صاحب نے فون کر کے خاص طور پر یہ شعر سنایا تھا۔ اس روز انہوں نے عطاء الحق قاسمی صاحب کے کالم میں یہ شعر پڑھا تھا۔ ان دو مصرعوں میں آباد معنی کے ایک جہان نے انہیں سرشار کر رکھا تھا۔ میں نے بھی یہ شعر دھرایا اور دو مصرعوں کے اندر موجود فصاحت و بلاغت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ اس وقت تک میرے علم میں نہ تھا کہ یہ شعر افتخار عارف کے قلم کا اعجاز ہے۔ ایسا کئی بار ہوا کہ کوئی شعر
مزید پڑھیے


’’تو استحکام ارض پاک لوں گا‘‘

جمعه 14  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
اللہ کا کروڑوں بار احسان ہے جس نے اتنے بڑے جیون ساگر میں ہم کو پاکستان کی شناخت دی۔دنیا کے 195ملکوں کے جھنڈوں میں سبز رنگ کا سب سے پیارا شیڈ ہمارے سبز ہلالی پرچم کا ہے۔ اس پر جگمگاتا چاند اور ستارہ شناخت کی روشنی سے ہمیں مالا مال کرتا ہے۔دیکھیے پروین شاکر نے اپنے سبز پرچم کو دیکھا تو کیسے دلار سے یہ شعر کہا: ننھے سے ایک ستارے کی کیا روشنی مگر پرچم پہ آ گیا تو بہت چاند پر کھلا 195ملکوں کے ہجوم میں اپنا سبز ہلالی پرچم لہرائے تو دل و روح ساتھ ہم رقص ہو جاتے ہیں۔واشنگٹن
مزید پڑھیے


المیہ

بدھ 12  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
چودھری صاحب اپنی بیٹی کا نکاح مسجد میں کریں گے۔!یہ بات پہلے پہل جس کے بھی کان میں پڑی وہ اس بات کو سراہے بنا نہ رہ سکا۔واہ بھئی اس دور میں اتنی سادگی سے بیٹی کو رخصت کرنا۔ یہ تو ایک مثال قائم ہو جائے گی اس سادگی کو ابھی سراہا جا ہی رہا تھا کہ شادی کارڈ خاندان میں بانٹ دیے گئے۔ مسجد میں نکاح تو شادی کی چھ سات روزہ تقریبات میں سے ایک تقریب تھی۔ پوری شادی برائیڈل شاور‘ مہندی مایوں ‘نکاح بارات ‘ ولیمہ اور چوتھی کی رسم پر مشتمل تھی، نکاح میں جن کو
مزید پڑھیے



اگر دن ہی منانا تھا تو…!

اتوار 09  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز پہلے ہمارے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ 9 اگست کو ٹائیگر فورس کا دن منایا جائے گا۔ اس دن سے میں اسی سوچ میں غلطاں ہوں کہ آخر ٹائیگر فورس نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ قوم ٹائیگر فورس کا دن منائے۔ تو صاحبو! آج 9 اگست ہے۔ بروز اتوار ٹائیگر فورس کا دن پاکستان میں منایا جارہا ہے۔ اعلان تھا کہ 9 اگست کوٹائیگر فورس لاکھوں پودے لگا کر شجرکاری کا آغاز کرے گی۔ تو اگر اس دن کا مقصد درخت لگانا ہے تو پھر اسے شجرکاری ڈے کا نام کیوں نہ دیا گیا؟ وزیراعظم
مزید پڑھیے


چھوٹے بچوں کے لئے آن لائن کلاسیں

جمعه 07  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
اللہ کا کروڑوں بار احسان ہے کہ کورونا کا عذاب ٹل رہا ہے۔حالات قابو میں آ رہے ہیں اور زندگی کا چہرہ رفتہ رفتہ شادابی کی طرف لوٹ رہا ہے۔اور یہ ہی سچ ہے کہ زندگی جس نارمل صورت میں پہلے تھی اب وہ کورونا کے بعد ایک نئے نارمل کے ساتھ ہمارے سامنے ہو گی جسے new normalکا نام دیا گیا ہے۔ ہم حفاظتی ایس او پیز کے ساتھ زندگی کو گزاریں گے۔ لیکن امید ہے کہ جلد ہی ہمیں ان شکنجوں سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔ تعلیمی ادارے کھولنے کا مسئلہ ابھی جوں کا توں ہے۔ اگرچہ فیصلہ
مزید پڑھیے


ریفلیکشن

بدھ 05  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
لگی بندی مصروفیت کے یکسانیت بھرے شب و روز میں سانس لیتی ہوئی زندگی تہواروں کی چھٹیوں میں سستانے لگتی ہے۔ تہوار کی خوشی، مل بیٹھنے کے اگرچہ وہ قرینے ابھی واپس نہیں آئے لیکن پھر بھی سماجی فاصلے کو قائم رکھتے ہوئے‘معانقے اور مصافحے سے گریز کرتے ہوئے منہ پر ماسک چڑھائے‘ کچھ وقت میل ملاقات میں ضرور صرف کیا۔ کچھ عیدالاضحی کی چھٹی۔ اور کچھ کالم کے دنوں کی چھٹی ایسے وقت میں آئی کہ لکھنے میں پانچ دن کا وقفہ پڑا۔ یعنی آج پانچواں روز ہے کہ قارئین کی چوپال میں اپنی کہانی لئے حاضر ہیں۔ چھٹی جہاں ہمیں
مزید پڑھیے


دو سال کی پرانی یادیں

جمعه 31 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
فیس بک ان دنوں جولائی کی دو سال پرانی یادوں کو دھرا رہی ہے اور یہ وہ یادیں ہیں جنہیں ہم کم از کم یاد کر کے اپنے جی کو مزید نہیں جلانا چاہتے۔ 25جولائی 2018ء کو چھپنے والا کالم میرے سامنے ہے ملک میں جنرل الیکشن کا جوش و خروش اور عام پاکستانی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی کرپشن سے سخت نالاں‘ تبدیلی کی خواہش اور ایک نئے پاکستان کا خواب لے کر ووٹ ڈالنے نکلا تھا۔ پرانا کالم پڑھا تو اندازہ ہوا کہ مجھ جیسے حقیقت پسند نے کچھ نہ کچھ بہتری کی امید کپتان سے لگا لی تھی حالانکہ
مزید پڑھیے


پاکستان کو معذوری سے بچائیں۔ پولیو وکرز کا ساتھ دیں

منگل 28 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
کبھی آپ نے پولیو ورکرز دیکھے ہیں؟ ان میں خواتین بھی ہوتی ہیں اور مرد حضرات بھی۔ پولیو ویکسین کا باکس پکڑے ایک رجسٹر اور قلم تھامے وہ پیدل چلتے جاتے ہیں۔ موسم کی سختیاں برداشت کرتے گھر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور پانچ سال تک کے بچوں کا پوچھتے ہیں تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطرے پیئے بغیر نہ رہ جائے۔ ان پولیو ورکرز کو سارا دن مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ بہت معمولی معاوضے کے عوض یہ لوگوں کی گھوریاں بھی سہتے ہیں‘ جھڑکیاں بھی سن لیتے ہیں‘ ناخوشگوار باتیں بھی برداشت کرتے ہیں لیکن گھر گھر
مزید پڑھیے