BN

سعدیہ قریشی


حسینہ معین اورڈرامے کاحسین دور


حسینہ معین اورکنول نصیر پی ٹی وی کے سنہری دور کی دو سنہری خواتین آگے پیچھے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ جانا تو ہر ایک کا ٹھہر گیا ہے، مگر وبا کے دنوں میں موت کی خبریں اس تواتر سے سنتے ہیں کہ اداسی بڑھنے لگتی ہے۔کنول نصیر پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا چہرہ اور اناؤنسر کی پہلی آواز تھیں۔ رہی بات حسینہ معین کی تو وہ ہماری جنریشن کے لئے یادوں کے پورے دبستان کا نام ہے، انہیں یاد کرنا آسان نہیں ،کہ ان کو یاد کرنے سے یادوں کے وہ دروازے بھی کھلنے لگتے ہیں، جو ہمیں
اتوار 28 مارچ 2021ء

خوابوں سے بھرے بستے

جمعه 26 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
میں جب بھی کسی غریب بچے کو پرانے بوٹ پائوں میں ڈالے‘کاندھے پر بستہ رکھے ہوئے سکول جاتا دیکھتی ہوں تو مجھے خان پور واپڈا کالونی کی ننھی مارتھا یاد آ تی ہے۔ مارتھا شریف مسیح خاکروب کی پوتی تھی۔ مارتھا کی دادی اور دادا شریف ہمارے گھر صفائی کیا کرتے تھے۔ بس یہی تعلق مارتھا کو ہمارے گھر لے آتا۔ وہ کسی نہ کسی کام سے ہمارے گھر آیا کرتی۔ اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی لے آتی۔ٹوٹی ہوئی چپل اور اونچا سا فراک پہنے ہوئے‘مارتھا جب اپنے خوابوں کے بارے میں بات کرتی تو دنیا
مزید پڑھیے


باغ گل سرخ

اتوار 21 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
افتخار عارف کی تازہ کتاب ’’باغ گل سرخ ‘‘جب مجھے ملی تو شہر لاہور گل نشتر کے سرخ پھولوں میں گندھا ہوا تھا۔ حسن اور تمکنت میں ڈوبے ہوئے گل نشتر جا بجا سڑکوں کے کنارے لگے ہوئے درختوں پر جھولتے تھے۔ یوں بھی موسم بہار ہے تو جاوداں گلاب کے پھول باغوں کی روش روش پر کھلے ہیں۔یہ جو 132صفحات کی مختصر شاعری کی کتاب باغ گل سرخ ہے۔اس میں ورق ورق شاعر کی زندگی کا حاصل تحریر ہے۔ ایک لو دیتا ہوا خیال ہے جو ہر مصرع میں مثل چراغ جلتا ہے۔ یا پھر سرخ گلابوں کا ایک
مزید پڑھیے


مارچ: تتلی کے پروں پر لکھا ہوا مہینہ…!

جمعه 19 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
سال کے بارہ مہینے میرے لیے بارہ مختلف مزاج کے دوستوں کی طرح ہیں،جیسے آپ اپنے ہر دوست سے مختلف طرح سے ملتے ہیں کیونکہ ہر ایک کی شخصیت کے گرد مختلف طرح کی وائبز کا دائرہ ہوتا ہے۔ ہر دوست سے ملنے کی فریکوئنسی اور اس سے کنیکٹ کرنے والی لہریں مختلف ہوتی ہیں۔یہ جو سال کے بارہ مہینے ہیں ،یہ بھی میرے لئے ایسی ہی 12 سہیلیاں ہیں جو الگ مزاجوں کی مالک ہیں۔ ہر ایک سے مجھے اس کے مزاج اور ناز نخروں کے مطابق بات کرنی پڑتی ہے جیسے کوئی بہت عزیز مگر نخریوالی سہیلی ہو
مزید پڑھیے


اگر میں سورج کے ساتھ ڈھلنے سے بچ گیا تو…!

جمعرات 18 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
شام کا وقت تھا دروازے کی گھنٹی بجی اور بار بار بجی۔گیٹ کھولا تو سامنے ایک خاتون کھڑی تھیں۔ سراپا‘تصنع اور تکلف سے عاری تیاری کے کسی اہتمام کے بغیر چادر لی ہوئی اور چہرے کو ماسک کے پیچھے چھپایا ہوا۔ میں ابھی پہچان کے مراحل طے کر رہی تھی کہ خاتون نے ایک کتاب میرے سامنے بڑھائی۔سلیم کوثر کی تازہ ترین کتاب’ خواب آتے ہوئے سنائی دیے‘سعدیہ یہ سلیم کوثر صاحب نے تمہارے لئے بھجوائی ہے۔ ارے تو یہ ہماری دوست باکمال شاعرہ خالدہ انور تھیں۔ مگر ہمیں جو انہیں پہچاننے میں دقت ہوئی وہ اس لئے کہ نہ انہوں نے
مزید پڑھیے



ڈاکٹر آفتاب کے لیے یہ شہر کس نے مقتل بنایا؟

اتوار 14 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
ڈاکٹر آفتاب احمد دیال سنگھ کالج کے پروفیسر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی اور عمر صرف 34 سال، لاکھوں تمناؤں اور ان گنت خوابوں کے سنہری قافلے لیے ،اس شہر خرابی میں پھرتا تھا ،جہاں گردنیں اوچھے پتنگ بازوں کی قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہیں۔ آہ! قیمتی زندگی شہر کی تاریک راہوں میں بے موت ماری جاتی ہے،پتنگ کی ڈور نوجوان پروفیسر کی گردن پر پھرتی ہے، تو اس کی قاتل دھار کے نیچے ان گنت خوابوں اور خواہشوں کا قتل ہو تاہے،اتنے بڑے سانحے پر شہر کی انتظامیہ میں کوئی تھرتھلی نہیں مچتی،کیونکہ کوئی اس قتل کا ذمہ
مزید پڑھیے


بچے بھی سیاسی ہو گئے

جمعه 12 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
ہر طرح کے سیاسی جوڑ توڑ  اور خریدو فروخت پاکستان کی انتخابی سیاست کا حصہ ہیںلیکن ہمیں خبر نہ تھی ہمارے دس سالہ صاحبزادے اس قدر سیاسی ہیں کہ پاکستانی انتخابی عمل سارے داؤ پیچ سمجھتے ہیں۔صاحبزادے چوتھی کلاس میں ہیں اپنے سکول میں ڈپٹی ہیڈ بوائے کا الیکشن لڑنے کے لیے میدان میں اتر چکے ہیںلیکن امریکی صدارتی الیکشن مہم کی طرز پر کل انہیں اپنے سیاسی حریف جوکہ کلاس فور سی کی طالب علم ہیں ،کے ساتھ ووٹرز کے سامنے اپنا انتخابی ایجنڈا پیش کرنا ہے۔   ہمارے گمان میں بھی نہ تھا کہ صاحبزادے اس قدر سیاسی ہوں گے
مزید پڑھیے


شمع خالد: آخری قسط۔آخری تصویر۔آخری پوسٹ

جمعرات 11 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
مجھے ان کی نئی کتاب ’’داستاں ہونے کے بعد ‘‘پر لکھنا تھا مگر اندازہ نہ تھا کہ میں اس وقت انہیں اپنے کالم کا موضوع بنائوں گی جب وہ خود داستان ہو چکی ہوں گی۔ کل جب سے شمع خالد کی وفات کی خبر نے دل کو ایک گہرے پچھتاوے سے دوچار کر دیا ہے۔ کل سے یہ خبر سنی ہے تو دل بے طرح اداس ہے۔بار بار سوچتی ہوں کہ میں نے اتنی دیر کیوں کی۔ اگرچہ کتاب پڑھنے کے بعد میں نے انہیں فون کر کے تفصیلی فیڈ بیک دی تھی۔ اگرچہ وہ ایسی درویش اور اعلیٰ ظرف انسان
مزید پڑھیے


سماجی دباؤ اور عورتوں کا استحصال

اتوار 07 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
چند سال پیشتر یہ خبر اخبار میں آئی تھی کہ مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والی ایک لیڈی ڈاکٹر کو اس کے والد نے پسند کی شادی کرنے پر قتل کر دیا۔میرے لئے یہ خبر کئی حوالوں سے پریشان کن تھی۔اپنی ڈاکٹر بیٹی کو قتل کرنے والے ڈرائیور کو میں ایک حوالے سے ذاتی طور پر جانتی تھی۔ منظور میرے بڑے بھائی نوید قریشی کے ساتھ مظفر گڑھ میں ان کی پوسٹنگ کے دوران بطور ڈرائیور ڈیوٹی دیتا رہا تھا۔غریب شخص تھا اور اور اپنے بچوں  کو غربت میں تعلیم دلا رہا تھا۔ ایک بیٹی بہت لائق نکلی، ایف ایس سی
مزید پڑھیے


نئے منظر کھلنے کو ہیں

جمعه 05 مارچ 2021ء
سعدیہ قریشی
عین موسم بہار میں حکومت کا سامنا موسم خزاں سے ہے ۔اس منظر کی خزاں رسیدگی کا اندازہ لگائیے، جب سینٹ کے الیکشن میں سب کی مرکز نگاہ سیٹ پر حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد کے یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوئے اور وزیراعظم کے منتخب کردہ امیدوار حفیظ شیخ یہ سیٹ ہار گئے حالانکہ حکومت کے نو رتن اعتماد سے کہہ رہے تھے کہ حفیظ شیخ کا جیتنا مسئلہ نہیں کیونکہ عمران خان جس کو بھی ٹکٹ دیں ووٹ عمران خان کو ہی پڑتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان کو ووٹ
مزید پڑھیے








اہم خبریں