BN

سعدیہ قریشی


"We the wounded Healers"


ملتان سے آنے والی خبر نے بجا طور پر سب کو چونکا کر رکھ دیا۔ ابتدائی خبر یہ تھی کہ نامور سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر اظہر حسن نے اپنی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر علیزے کو گولی مار کر خودکشی کرلی ہے۔ مرنے والوں کی موت پر افسوس سے زیادہ جس بات پر حیرت میں لپٹا ہوا افسوس کیا جارہا تھا وہ یہ تھا کہ یہ کیسے اور کیونکر ہوا کہ ذہنی امراض کے ماہر معالج نے خود وہ جان لیوا حرکت کر ڈالی جس کا علاج وہ ساری زندگی اپنے مریضوں میں کرتے رہے۔ ذہنی مرض میں مبتلا مریضوں میں شدت پسندی اور بیماری
جمعرات 28 جنوری 2021ء

حکمران اور عوام۔پروفیسر خیال کی نظر سے

اتوار 24 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
ڈاکٹر اے ایچ خیال‘ انگریزی لسانیات کے استاد تھے گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے رہے۔ سنا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے بھی استاد رہے۔ اپنے شاگردوں کے بہت محبوب اور محترم استاد تھے۔80کی دہائی کے وسط میں نواز شریف پنجاب کے چیف منسٹر بنے ،تو انہوں نے اپنے استاد ڈاکٹر اے ایچ خیال کو وزیر اعلیٰ ہائوس کھانے پر کئی بار مدعو کیا ،ہر دفعہ ڈاکٹر خیال کی طرف سے انکار ہوتا۔ان کے چیف منسٹر شاگرد نے پوچھا کہ آپ دعوت قبول کر کے ہماری عزت افزائی کیوں نہیں کرتے ،تو پروفیسر خیال نے کہا جو میں
مزید پڑھیے


منو بھائی کو یاد کرنا…!!

جمعه 22 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
منو بھائی کو یاد رکھنا ایک عہد کو یاد رکھنا ہے اور منو بھائی کو بھلا دینا ایک عہد کو بھلا دینا ہے۔منو بھائی کو یاد رکھنا‘ انسان کے انسان کے ساتھ تعلق کو یاد رکھنا ہے اور منو بھائی کو بھلا دینا اس تعلق کی خوبصورتی کو بھلا دینا ہے۔ منوّ بھائی کو یاد رکھنا‘ ڈرامہ ادب اور صحافت کی تاریخ کو یاد رکھنا ہے اور منوّ بھائی کو بھلا دینا ڈرامہ ادب اور صحافت کی تاریخ کو فراموش کر دینا ہے۔منوّ بھائی کو یاد رکھنا قناعت اور درویشی میں گندھی ہوئی پروفیشنل کمٹمنٹ کو یاد رکھنا ہے اور
مزید پڑھیے


لاہور کی سڑکوں پر کوڑے کے ڈھیر کیوں لگے ہیں؟

جمعرات 21 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
لاہور کی سڑکوں پر کوڑے کے ڈھیر دراصل تحریک انصاف کی انتظامی ناکامی کے تعفن کی علامت ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کی تو میں خود بھی گواہ ہوں کہ لاہور کی سڑکوں پر کچرے کے ایسے ڈھیر جابجا کبھی دکھائی نہیں دیئے۔لاہور میں صفائی کے لیے ترک کمپنیاں تو ابھی دس برس پہلے آئیں تھیں جب شہباز شریف دو ترکی کمپنوں کو لاہور لائے اور شہرکا کچرا اٹھانے کا کام ان کے سپرد کیا۔اس سے پہلے بھی یہاں صفائی کا نظام ایسا برا نہیں تھا۔ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کارپوریشن کے اہلکار بروقت کچرا اٹھاتے اور ٹھکانے لگاتے تھے۔شہر میں
مزید پڑھیے


امیداور امکانات کی روشنی

اتوار 17 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
آپ اس کالم کو پڑھیں گے تو میری طرح ضرور سوچنے لگیں گے کہ آپ کو ثاقب اظہر کے بارے میں پہلے کیوں خبر نہ ہوئی۔ میں اس کی کامیابیوں کی وسعت اور خوابوں کی اڑان سے شدید متاثر‘ اس وقت یہی سوچ رہی ہوں۔ وہ خواب سے تعبیر کے سفر کا ایک روشن جگمگاتا ہوا نام ہے لیکن کبھی وہ بھی ایک ایسا دیا تھا جو اپنی لو کو برقرار رکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہتا مگر آج وہ امکانات اور امید کی روشنی بانٹ رہا ہے۔ اس کے کارناموں کی فہرست طویل ہے۔ کالم کی تنگ دامانی کے
مزید پڑھیے



امریکیو!دیکھ لو ہمارے حوصلے

جمعه 15 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
6جنوری 2021ء کی سہ پہر‘ امریکہ کے پرامن دارالحکومت ‘ واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے بپھرے ہوئے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول کر جو ہنگامہ برپا کیا‘ اس سے امریکی ابھی تک شاک کی کیفیت میں ہیں۔ کیونکہ انہیں سیاسی احتجاج کے ایسے پرتشدد منظر دیکھنے کی قطعی عادت نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ امریکیوں کے لاشعور میں یہ بات پختہ تھی کہ جو ہنگامہ آرائیاں‘ تشدد اور بدامنی کے منظر وہ آس پاس کے ملکوں میں دیکھتے ہیں وہ امریکہ میں کبھی نہیں ہو سکتے۔ ٹرمپ اور ٹرمپ کے حامیوں کے علاوہ سرکاری انتظامی اہلکاروں سے لے
مزید پڑھیے


 وٹو صاحب 

بدھ 13 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
صحافت۔میں آغاز کا زمانہ تھا میں اس وقت ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ تھی اور وہاں بچوں کے صفحے کے انچارج تھی،انہی دنوں میں میں نے پہلی بار یاسین وٹو صاحب کو دیکھا ،وہ جہاں بیٹھتے لوگ ان کے پاس آ جاتے  پتہ چلا کہ وہ زائچہ بناتے ہیں اور علم الاعداد کے بھی ماہر ہیں ،کچھ روحانیت سے بھی دلچسپی ہے،سچی بات یہ ہے کہ میں ایسے لوگوں سے تھوڑا فاصلے پر رہتی ہوں اور اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی کوئی مجھے مستقبل کا حال بتائے۔ایک روز وہ ہمارے کمرے میں بھی اسی طرح گھومتے گھماتے
مزید پڑھیے


’’تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے‘‘

اتوار 10 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
سات راتیں‘ اذیت ناک‘ کرب اور انتظار کی سولی پر گزار کربالآخر شہداء ہزارہ کی میتیں سپرد خاک کردی گئیں۔ایک اطمینان سا دل میں اتر گیا اور آنکھیں چھلک گئیں۔گزشتہ سال دنوں میں کئی بار آنکھیں نم ہوئیں‘ معمولات زندگی نبھاتے ہوئے عجیب بے چینی کا سامنا رہا‘ کبھی نصف شب کے بعد اچانک سے آنکھ کھل جاتی اور ایک ٹیس سی دل میں اٹھتی۔تازہ ترین صورت حال کے لیے ٹی وی آن کر کے دیکھتی تو کربناک احتجاج کا وہی نظر سامنے ہوتا۔ منجمد کردینے و الی سردی‘ میتوں کی قطاریں اور سوگواران‘ رنج‘ تکلیف‘ بے بسی مل کر
مزید پڑھیے


کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں!!

جمعه 08 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
بلوچستان کی سنگلاخ دھرتی پر‘ روح کو تڑپا دینے والا منظر کئی دنوں سے ضبط کے آنسوئوں کی طرح کنار چشم رکا ہوا ہے۔ میرے احساس میں نظم کی یہ سطریں بار بار ابھرتی ہیں اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں سبز سجادوں پر بیٹھی بیبیوں نے جس قدر حرف عبادت یاد تھے۔ پو پھٹے تک انگلیوں پر گن لئے اور دیکھا رحل کے نیچے لہو ہے شیشۂ محفوظ کی مٹی ہے سرخ۔!! نہ جانے اختر حسین جعفری نے ظلم‘ موت اور ماتم کے کون سے ایسے منظر دیکھے تھے کہ نظم کے ان مصرعوں میں ضبط کے
مزید پڑھیے


سانحے دہرائے جا رہے ہیں

بدھ 06 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
جنوری کا آغاز سانحوں سے بھرا ہوا ہے۔ کچھ سانحات کے درمیان ایک پراسرار سی مماثلت ہے۔ ایسی کہ جسے آپ قطعًا نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سنا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر یہاں تو سانحے اور بدترین حادثات بھی اپنے آپ کو دہراتے ہیں۔ نہ کوئی حالات کی رفو گری کرتا ہے نہ کہیں سے بہتری کی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جنوری 2021ء ہے۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کے لاشے لیے ان کے لواحقین اس یخ بستہ سردی میں دھرنا دیئے بیٹھے
مزید پڑھیے