BN

سعدیہ قریشی


بات نہیں کہی گئی‘بات نہیں سنی گئی


کالم لکھنے کے لیے بیٹھی ہوں مگر ذہن میں کوئی خاص موضوع نہیں۔ ایک گہری نامعلوم سی اداسی کی دھند میرے اندر باہر چھائی ہوئی ہے۔ کوئی اداسی کو کیسے صفحے پر اتار سکتا ہے‘ اداسی تو بس محسوس ہوتی ہے‘ اندر تک‘ دور تک۔ کالم لکھنے کے لیے مگر کوئی موضوع درکار ہوتا ہے اور میرے پاس آج کوئی موضوع نہیں۔ سیاست کی چالبازیاں یا سماج میں بکھری ہوئی بدصورتیاں‘ آج لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس آج لکھنے کو کوئی موضوع نہیں۔ کوئی بات نہیں جو میں اپنے قارئین سے کرنا
اتوار 03 جنوری 2021ء

کیونکہ اُمید ’’قرنطینہ‘‘ نہیں ہو سکتی…!!

جمعه 01 جنوری 2021ء
سعدیہ قریشی
2020ء دکھوں سے بوجھل اور خوف سے چھلکتا ہوا سال تھا۔ جو اب سال گزشتہ میں ڈھل گیا۔ اس برس کی دلخراش یادیں‘ ہمارے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکیں گی۔ زندگی تاحال وبا کے شکنجوں میں ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا میں ابھی کمی نہیں آئی۔ مگر نئے سال کی یہ نئی صبح ہے۔ جنوری 2021ء کا آج پہلا دن ہے تو کیوں نہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں اور دلوں میں اُمید کی فصل بوئیں۔ وبا اور بے یقینی کے اس تسلسل کے باوجود‘ مجھے نئے برس کی یہ صبح تروتازہ اور نئی نکور لگ رہی ہے۔ بے
مزید پڑھیے


ہم کتنا ایک سال کے اندر بدل گئے…!

بدھ 30 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
صرف ایک دن کی دوری پر، ’سن دو ہزار بیس‘ سال گزشتہ میں ڈھل جائے گا۔ مگر یہ سال محض ایک ’’اور برس‘‘ نہیں تھا، کہ آیا اور گزر گیا۔ اس برس کورونا وائرس کی صورت میں وبا کی جو آندھی چلی اس نے بہت کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے ایک سیٹ پیٹرن کو اپنی آنکھوں سے بدلتا ہوا دیکھا ہے۔ ہم خود برسوں سے جس زندگی گزارنے کے جن طور طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے، وہ بدل کر رہ گئے ہیں۔ انسان انسان کا
مزید پڑھیے


شہر اقتدار میں بے اماں فوڈ رائیڈز

جمعه 25 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ برقی پیغام‘ شہر اقتدار اسلام آباد میں کام کرنے والے ایک ڈیلیوری بوائے کا ہے۔ گزشتہ کالم ’’پیزا کی خوشبو‘ ڈیلیوری بوائے کو بھی آتی ہے‘‘ کی فیڈ بیک کی صورت یہ پیغام ملا تو اسے ہائی لائٹ کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ پہلے پیغام پڑھ لیں۔ ’’اسلام آباد میں ڈاکو‘ غریب فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کو لوٹنے لگے ہیں۔ اسلام آباد کے ایریاز f-10‘ f-12‘ g-7‘g-8‘ g-10کے سیکٹر میں رات کو گھر گھر کھانا پہنچانے والے فوڈ رائیڈرز ڈاکوئوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکو ان کو موٹر سائیکلوں‘ موبائل فون اور نقدی سے محروم کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے


ورکنگ وومن

بدھ 23 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کالم کسی اور موضوع پر لکھنا تھا لیکن اخبار میں چھپا آدھے صفحے کا اشتہار میری نظر میں اٹک کے رہ گیا ۔لکھا تھا کہ آج 22 دسمبر کو حکومت پنجاب صوبے بھر میں ورکنگ وومن کا قومی دن منا رہی ہے۔بتایا گیا تھا کہ صوبے بھر میں ایک سو ستاسی ڈے کیئر سینٹرز ورکنگ وومن کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔مجھے یہ پڑھ کر ایک سکول کی استانی یاد آ گئی جس کی ہیڈمسٹریس اسے اپنے شیر خوار بچے کو سکول لانے نہیں دیتی تھی اور اس کے گھر میں بچے کو سنبھالنے والا کوئی
مزید پڑھیے



دینے والے کا برتن بھرا رہتا ہے

اتوار 20 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
انسان بنیادی طور پر جمع کرنے کی خواہش میں مبتلا ہے، ہم اسی لئے تھڑ دلے ہیں۔ دینے سے گھبراتے ہیں۔ ساری عمر چیزیں‘ مال‘ جائیدادیں‘ کپڑے ‘ جوتے‘ بنگلے‘ فلیٹس برتن زیورات ‘ فرنیچر اور نہ جانے کیا کیا جمع کرتے رہتے ہیں۔ سال ہا سال بہت سی غیر ضروری چیزیں ہمارے گھروں میں پڑی رہتی ہیں‘سٹوروں میں دیمک زدہ ہو جاتی ہیں، مگر ہم انہیں کسی کو دینے کا حوصلہ نہیں پاتے۔ ایک گھر میں آنے والی بہو کے ہاتھ۔ اپنی ساس کا ایک پرانا صندوق لگا، جو سٹور کے سامان میں دھنسا پڑا تھا۔ صندوق پر زنگ آلود
مزید پڑھیے


’’ڈیلیوری بوائے کو بھی پیزا کی خوشبو آتی ہے‘‘

جمعه 18 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ویک اینڈ تھا اور رات کے تقریباً گیارہ بجے دروازے کی اطلاعی گھنٹی زور زور سے بجنے لگی۔ باپ دروازے پر دیکھنے کے لئے اٹھا تو 9سالہ بیٹا بھی ساتھ گیٹ کی طرف ساتھ چل دیا۔ سردیوں کی یخ بستہ رات باہر ایک پیزا کمپنی کا ڈیلیوری بوائے سردی سے سکڑا ہوا کھڑا تھا۔ سر آپ کا پیزا آرڈر تھا۔ ’’بابا پیزا‘‘ بچہ خوشی سے چلایا لیکن ہم نے پیزا کا آرڈر نہیں دیا ،باپ نے بچے کے خوشی سے بھر پور نعرے کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا غالباً تم ساتھ والوں کے گھر پیزا ڈیلیور کرنے آئے ہو۔ فلاں
مزید پڑھیے


کورونا ویکسین رضاکار

بدھ 16 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
سائرہ اشتیاق احمدمارکیٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے اور سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں ۔خواتین کے ایک گروپ کے ایڈمن بھی ہیں ۔سائرہ اشتیاق پاکستان کے ان دس ہزار لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے چائنہ سے آنے والی کوویڈ 19 کی ویکسین کے ٹرائل کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ۔   ایک ایسی ویکسین کے لیے خود کو تختہ مشق بنانا  جس کے نتائج کا کسی کو علم  نہیں ہے بلاشبہ بہادری کے زمرے میں آتا ہے۔سو اسی حوالے سے میری ان سے بات چیت ہوئی اور میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کو
مزید پڑھیے


مضحکہ خیز…!!

اتوار 13 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
"When things get so absured and so stupid and so ridiculous that you cannot help but turn everythings into a joke." پنجاب میں حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان جاری محاذ آرائی کچھ ایسی ہی مضحکہ خیز صورت حال اختیار کر گئی ہے۔ پی ڈی ایم لاہور مینار پاکستان کے سائے میں سیاسی جلسہ کرنے پر بضد ہے اور حکومتی مشینری پوری کوشش سے اپوزیشن کے احتجاج کو ’’کامیاب‘‘ بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ بزدار حکومت کی اہلیت کا یہ بڑا امتحان ہے اور وہ اس میں پوری جان مار کر بظاہر اپوزیشن کے جلسے کو روکنے کی
مزید پڑھیے


میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا

جمعه 11 دسمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
خبر ہے کہ جیکب آباد سندھ میں موجود تھیلسیمیا کے مریضوں کے قائم تھیلسیمیا سنٹر بند کر دیا گیا اور اسے بند ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس سنٹر کو چلانے کے لئے حکومت سندھ کے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں۔ سیاسی ہنگام کی خبروں اور وزیر اعظم کے فاتحانہ بیانات کے ہجوم میں بظاہر ایک عام سی خبر ہے جو کسی قسم کی سنسنی پیدا نہیں کرتی۔ کسی ٹاک شو کا موضوع نہیں بنتی۔ اس خبر میں بظاہر تو ایسی کوئی بات نہیں کہ اس پر تبصرہ کیا جائے ظاہر ہے جیکب
مزید پڑھیے