BN

سعدیہ قریشی


ہمارے پاس سرسیدؒ کو یاد کرنے کی فرصت نہیں


سیاست کا ہنگام عروج پر ہے ،ہمارے ہاں سنسنی خیز حالات و واقعات کا تسلسل ہے۔ لیکن سماجی سطح پر بھی توجہ کھینچ لینے والے حادثات سانحے اور واقعے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔اس پر غضب یہ کہ ہمارے شب و روز سوشل میڈیا کے کھونٹے سے بندھے ہیں۔ جہاں سطحیت فروغ پاتی ہے‘خود نمائشی اور ستائش باہمی کے آئینے میں ہم ہمہ وقت خود کو دیکھے سراہے جانا پسند کرتے ہیں۔ تو پھر ایسے میں ہمیں سرسید کہاں یاد رہتے۔!17اکتوبر کو اس نابغہ روزگار شخصیت کا یوم پیدائش،آیا اور گزر گیا۔ ہمیں کیوں کر خیال آتا کہ تحریک علی گڑھ
جمعه 23 اکتوبر 2020ء

سہولت بازار‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حفیظ سنٹر

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی

لیجئے عوام کی سہولت اور آسودگی کے لیے حکومت نے سہولت بازار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ سہولت بازار‘ ریلیف بازار‘ سستے بازار‘ رمضان بازار بھی دراصل حکمرانوں کا ایک سیاسی سٹنٹ ہوتا ہے جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔

ہمارے وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار فرماتے ہیں کہ مصنوعی مہنگائی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس بیان سے تویوں لگتا ہے کہ اصلی تے سچی مہنگائی برداشت کرلیں گے لیکن مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کریں گے۔

اصلی مہنگائی وہ ہے جو آئی ایم ایف کی عوام دشمن معاشی
مزید پڑھیے


اصل سوال یہ ہے

جمعه 16 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
سات اکتوبر 2020ء کو ایک خاتون ملزم کی شناخت کے لیے کیمپ جیل پہنچی تو جیل کے دو تین اعلی افسران کے علاوہ کسی کو خبر نہیں تھی کہ یہ موٹروے پر ھونے والے ہائی پروفائل گینگ ریپ کی ستم رسیدہ خاتون ہیں ۔شناخت پریڈ کے لیے ایک جیسی قدوقامت اور عمروں کے دس ملزمان کو قطار میں کھڑا کیا گیا، ان میں گینگ ریپ کا شریک ملزم شفقت بھی موجود تھا،خاتون نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ڈی آئی جی پولیس اور متعلقہ سول جج اس موقع پر موجود تھے عموما ایسے کیسز میں انسپکٹر
مزید پڑھیے


پنک ربن:۔کمپین کے نام پر کاروباری سرگرمی…(آخری حصہ)

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
پنک ربن کمپین کے پس پردہ مقاصد کو بے نقاب کرنے والی، میڈیکل سوشیالوجسٹ گیل سولک (gayle sulik)اپنی کتاب پنک ربن بلیوز میں لکھتی ہیں کہ یہ جاننے کے کہ کیا واقعی پنک ربن کمپین کا کینسر کی آگاہی سے زیادہ منافع کمانے سے تعلق ہے، اس نے اکتوبر کے مہینے میں بڑے بڑے شاپننگ مالز میں خواتین سے متعلقہ اشیاء کے سٹوروں کا دورہ کیا۔ وہاں تمام اشیاء گلابی رنگ میں بیچی جا رہی تھیں۔ دکانوں اور سٹوروں کی تزئین و آرائش گلابی رنگ میں کی گئی تھی۔ وہ اشیاء بھی پنک ربن کے لوگو کے ساتھ بیچی جا
مزید پڑھیے


Think before you Pink

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
اکتوبر کا پورا مہینہ پنک ربن مہم جاری رہتی ہے کہا جاتا ہے کہ پنک ربن بریسٹ کینسر سے آگاہی کی ایک مہم ہے اس کے تحت ریلیاں نکالی جاتی ہیں‘ ریلیوں کے شرکاء گلابی رنگ کے ربن کو بطور بیج اپنے سینوں پر آویزاں کرتے ہیں‘ خبروں میں دیکھ رہی تھی کہ پنک ربن مہم کے تحت سائیکل ریس ہو رہی ہے۔ اسی طرح کی مختلف سرگرمیاں پورا اکتوبر جاری رہتی ہیں۔ اب کچھ عرصے سے مختلف قابل ذکر اور بڑی بڑی عمارتوں کو بھی گلابی رنگ کی روشنی سے سجایا جاتا ہے۔ اگلے روز اخبار کے صفحات پر تصویریں
مزید پڑھیے



چین سے چین تک!

جمعه 09 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کریم احمد‘ریڈیو براڈ کاسٹر ہیں اور ان سے تعارف ریڈیو پاکستان پر ہوا۔ وہ کرنٹ افیرز کے لائیو پروگرام پنجاب آن لائن کے سینئر پروڈیوسر تھے۔انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے کریم احمد ایک قابل پروفیشنل اور اپنے کام سے لگائو رکھنے والے تھارو جنٹلمین(Throu gentle man)ہیں جنہیں پنجابی زبان میں بیبے بندے بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس پروگرام میں منو بھائی سمیت‘نامور‘تجزیہ کار اور صحافی شریک ہوا کرتے تھے۔ ہفتے میں دو دن میں بھی یہ پروگرام لائیو کرتی تھی۔پروگرام کے بعد اکثر چائے کی دعوت بھی ہوئی۔ کریم احمد بہت مروت برتنے والے انسان ہیں۔ ان
مزید پڑھیے


کتاب سے محبت میرے ماحول میں رچی بسی تھی

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز پہلے ایک کالم لکھا کہ بچوں میں مطالعے کی عادت پروان چڑھانے میں گھر کے ماحول کا کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیمی ادارے اس کے بعد آتے ہیں۔کتاب پڑھنا بھی ایسی ہی عادت ہے جیسی دوسری عادات‘ بچہ اپنے گھر میں‘ اپنے گردوپیش سے سیکھتا ہے۔ وہ اپنے والدین کو کتاب پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ فطری طور پر کتاب کی طرف راغب ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے گھر میں یہی ماحول دیکھا اور یاد نہیں کہ کب کتاب سے تعلق بنا۔ ایسا لگتا ہے کہ کتاب سے محبت ورثے میں ملی ہے۔ میں نے
مزید پڑھیے


کتابیں کاپیاں‘ماسک اور سینی ٹائزر

جمعه 02 اکتوبر 2020ء
سعدیہ قریشی
آج اکتوبر کی پہلی تاریخ ہے۔ گرمیوں کا طویل موسم جو کورونا کے خوف ‘خدشوں اور مسلسل لاک ڈائون کی اذیت میں بسر ہوا۔ بالآخر بیت گیا ہے۔ آج کم و بیش چھ ماہ کے بعد دانیال کا سکول میں پہلا دن ہے لیکن اس بار بہت کچھ بدل گیا ہے۔اس کے بستے میں کتابوں، کاپیوں، پنسلوں اور لنچ باکس کے ساتھ ایک خانے میں سینی ٹائزر اور ایک سپیئر فیس ماسک بھی رکھا ہوا ہے۔ اس نے یونیفارم کے ساتھ اپنے منہ پر ایک حفاظتی شیلڈ بھی پہن رکھی ہے اور ساتھ ہی اپنا خوبصورت چہرہ آدھا ماسک سے
مزید پڑھیے


لکھنا چاہتے ہو تو پہلے پڑھنا سیکھو!

بدھ 30  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ایک وقت تھا کہ زندگی میں اخبار،ریڈیو، شاعری اور مشاعرے سب کچھ شامل تھا۔ میرے اخبار کا دفتر ڈیوس روڈ پر واقع تھا ،چند منٹ کی واک پر شملہ پہاڑی پریس کلب سے ہوتے ہوئے، ریڈیو پاکستان پہنچ جاتی۔ ہفتے میں دو دن، کرنٹ افیئرز کا لائیو پروگرام کرتی جو مختلف میزبانوں اور مہمانوں کے ساتھ سارا ہفتہ جاری رہتا تھا۔ میں دو دن یہ پروگرام بطور ماڈریٹر، معروف معنوں میں بطور میزبان کیا کرتی تھی۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم(ان کے نام کے ساتھ مرحوم لکھتے ہوئے عجیب لگا۔ اللہ مغفرت کرے) بھی اکثر ہمارے پروگرام میں بطور تجزیہ نگار تشریف
مزید پڑھیے


اہل اقتدار کی خوفناک بے حسی

اتوار 27  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
آج کالم لکھنے کا موڑ نہیں ہے۔ایک مایوسی کی سی کیفیت ہے کہ کیا لکھا جائے اور کیوں لکھا جائے۔ اور پھر لکھنے سے کیا فرق پڑے گا۔ کالم لکھنا بھی صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے اور کبھی کیکر پر انگور چڑھانے جیسی تکلیف دہ صورت حال۔ ان کالموں میں روز نوحہ خوانی ہوتی ہے، روز سانحوں اور حادثوں پر اشک بہائے جاتے ہیں۔ بے حس حکمرانوں کی بے حسی کا ماتم کیا جاتا ہے۔لیکن یہ نالہ و فغاں کب کسی اہل اقتدار اور اہل اختیار کی سنگ سماعت میں اترتا ہے۔ میرے سینئر محترم کالم نگار پچاس
مزید پڑھیے








اہم خبریں