BN

سعد الله شاہ


سانحہ ایسا بھی ہو گا یہ کبھی سوچا نہ تھا


بولے تو لفظ باعث الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے تھی تندوتیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے زندگی حادثات سے تو عبارت ہے۔ ویسے حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ سب یوسف رضا گیلانی کی جیت کو ایک بڑا اپ سیٹ کہہ رہے ہیں آپ ذرا سا غور کریں تو یہ ہرگز اپ سیٹ نہیں کہ پرورش لوح و قلم کسی نے کی ہے۔ سینٹ کے الیکشن برپا ہونے سے پہلے جو اپ سیٹ تھا یعنی جس طرح سے خان صاحب اپ سیٹ نظر آ رہے تھے
جمعه 05 مارچ 2021ء

ضابطے اور رابطے

جمعرات 04 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
وہ مجھ کو چھوڑ گیا ہے تو میں برا ہوں ناں زمانہ مجھ پہ ہنسا ہے تو میں برا ہوں ناں میں جانتا ہوں کہ دنیا برا ہی کہتی ہے مگر جب اس نے کہا ہے تو میں برا ہوں ناں کچھ کا خیال ہے کہ اچھا برا کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ انسان کی سوچ ہے جو کسی کو اچھا برا بناتی ہے۔ایسا کہاں سے لائیں سب اچھا کہیں جیسے ویسے ہمیشہ برا غریب ہوتا ہے ۔تمہید سے پہلے میرے پیش نظر موجودہ صورتحال تھی جس میں مرکزی نکتہ سینٹ کے الیکشن کا ہے۔ اگر کہا جائے کہ حکومت ہمیشہ بازو کو
مزید پڑھیے


ساتویں طرف

بدھ 03 مارچ 2021ء
سعد الله شاہ
اشک گردوں صدف میں پالتے ہیں تب سمندر گہر اچھالتے ہیں خود فراموشیاں نہ پوچھ اپنی زندگی کا عذاب ٹالتے ہیں ہائے ہائے خاک اڑنے لگے جب آنکھوں میں سارے دنیا پہ خاک ڈالتے ہیں۔ جب تک توانائی ہے کسی کو اپنی بھی ہوش کہاں!بس جہاں بھی نفس اڑائے پھرے۔جب تک خون موجزن ہے اور زندگی سیٹیاں بجاتی ہے تب تک کسے آرام۔ یعنی آرام ہی آرام کہ بیداری تو نری اذیت ہے اور آگہی قیامت ۔حالات بہت کڑے اور کرخت ہیں ۔سب اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں حکومت ہو‘ اپوزیشن ہو یا عوام سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی: رند
مزید پڑھیے


ہجر کو چولہے پہ چڑھائے رکھا

اتوار 28 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
ہماری آنکھ میں برسات چھوڑ جاتا ہے یہ ہجر اپنی علامات چھوڑ جاتا ہے یہ دن کا ساتھ بھی بالکل تمہارے جیسا ہے کہ روز جاتے ہوئے رات چھوڑ جااتا ہے احساس بڑی ظالم شے ہے۔ آپ اسے آگہی کہہ یا کچھ اور، اپنے بس میں کیا ہے کچھ بھی نہیں۔کوئی ضروری نہیں کہ جو آپ سوچیں وہ لکھ پائیں یا پھر جو آپ لکھ پائیں وہ چھپ بھی سکے۔ کچھ حدود و قیود میں آپ کو رہنا پڑتا ہے کچھ اندیشے اور کچھ امکان تو ہر کسی کے ذہن و دل میں انگڑائی لیتے ہیں پھر بندش نیا در کھولتی ہے کہ اک
مزید پڑھیے


ڈسکہ کا یادگار الیکشن اور دلچسپ جھلکیاں

هفته 27 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
وضعداری نہ تکلف نہ لطافت سمجھا دل کم فہم مروت کو محبت سمجھا قند میں لپٹا ہوا زہر تھا سب راز و نیاز میں کہ محروم وفا اس کو عنایت سمجھا وہ تو فراز نے بھی کہا تھادوست ہو تا نہیں ہاتھ ملانے والا ،پھر یہ تو اور بھی اذیت ناک ہے کہ جب ہاتھ دکھانے والے ملیں ۔بات کرتا ہے تو دامن بھی بچا جاتا ہے۔ کیا کریں ایسے ہی لوگوں کے درمیان میں جینا پڑتا ہے یا وہ جو ہمارے درمیان لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہماری حماقتوں پر قہقہہ بار ہوتے ہیں۔ سیاست میں تو محبت کی نہیں مفاد کی
مزید پڑھیے



ایک کتابی شخص زاہد ڈار

جمعرات 25 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کون دیکھے گا تہہِ آب نظارے سارے نظر انداز کیا میں نے کبھی اس دنیا کو اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے میں نے کبھی ایک فلم دیکھی تھی God forgives but I don't خدا معاف کر دیتا ہے مگر میں نہیں۔سچ مچ انسان میں اتنا حوصلہ ہی نہیں۔ یہ تو ظرف کی بات ہے تم ذرا چھیڑ کے دیکھو تو سہی دنیا کو۔ ۔ مجھے اس قسم کی تمہید سے ایک منفرد اور معصوم کردار زاہد ڈار پر لکھناہے کہ وہ اپنی شرائط پر ہی جیئے اور چلے گئے۔ آپ سب کو اپنی
مزید پڑھیے


خوابوں سے بنی ایک شاعرہ۔یادیں

منگل 23 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
شام فراق یار نے ہم کو اداس کر دیا بخت نے اپنے عشق کو حسرت و یاس کر دیا اپنی تو بات بات سے آتی ہے یوں مہک کہ بس جیسے ہمیں بھی یار نے پھولوں کی باس کر دیا آج ذرا سیاست سے ہٹ کر بات ہو گی کہ اسلام آباد سے ہمارے محبوب ظفر کا فون آیا اور پوچھنے لگے کہ ثمینہ راجا کے کلیات کی فائل کہیں سے مل جائے کہ بھارت میں ان پر پی ایچ ڈی ہو رہی ہے۔ خیر باتوں باتوں میں یادوں کا دبستان کھل گیا۔ مجھے یاد آیا کہ جب ہم لوگ ایک دوسرے سے کلام
مزید پڑھیے


آنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر

پیر 22 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
عشق کیا ہے فقط سحر باریابی ہے اور اس کے بعد جو عمروں کی نیم خوابی ہے میں ایک جھیل کی صورت ہوں آئینے کی طرح کسی کے دم سے یہ باطن بھی ماہتابی ہے بس یونہی بیٹھے بیٹھے میں رومانس کی وادی میں جا نکلا۔رنگ نے سارے اکھاں دے‘پھل تے کسے وی رنگ دے نیئں‘‘ بس اپنی اپنی فوج ہے کیا کریں اگر خود فریبی میں پناہ نہ لیں تو کیا کریں۔ غالب بھی تو گھبرا گیا تھا ’۔تواور آرائش خم کاکل۔ میںاور اندیشہ ہائے دور و دراز‘ سرکھپاتا ہوں کار دنیا میں،میں کہاں اور یہ وبال کہاں‘ مگر صاحب کیا کریں اغماض
مزید پڑھیے


ہوائے شمال اور چراغ

اتوار 21 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
تمہاری یاد کا اب تک چراغ جلتا ہے عجیب لذت غم ہے کہ داغ جلتا ہے مجھے تو رونا ہے جی بھر کے مجھ کو رونے دو وگرنہ شعلہ دل سے دماغ جلتا ہے چراغ تو چراغ ہے اسے جلنا ہے چاہے آپ اسے ہوا کے دوش پہ رکھ دیں کہ بجھ گئے تو ہوا سے شکائتیں کیسی‘وہی کمال ہوتے ہیں جو چراغ راہ بن جاتے ہیں۔ مگر کوئی ایسا بھی ہے کہ چراغ لے کر انسان ڈھونڈ رہا ہے مگر کہاں صاحب! بات تو توفیق کی ہے کہ جگنو بھی چراغ بن جاتا ہے۔وقت روکے تو میرے ہاتھوں پر۔ اپنے بجھتے چراغ
مزید پڑھیے


دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

جمعه 19 فروری 2021ء
سعد الله شاہ
مجھ کو اچھی نہیں لگتیں یہ شعوری باتیں ہائے بچپن کا زمانہ وہ ادھوری باتیں تجھ سے ملنا بھی بہت کام ہوا کرتا تھا روز ہوتی تھیں ترے ساتھ ضروری باتیں آج اخبار کی پیشانی کے ساتھ ایک خبر دیکھ کر کہ سینٹ الیکشن کے لئے لوگ اسلام آباد میں نوٹوں سے بھرے بیگز لے کر بیٹھے ہیں طبعیت اوبھ سی گئی ہے۔ سچی بات ہے منڈی مویشیاں سے بھی زیادہ عجیب منظر ذہن میں آتا ہے اسی لئے میں نے مندرجہ بالا شعر لکھ کر بچپن میں پناہ لینے کی کوشش کی کہ اب ہمارا یہ شعور ہمیں کس مقام پر لے
مزید پڑھیے