BN

عبداللہ طارق سہیل

نئے صوبے کا مطالبہ اور لعنت

جمعه 25 مئی 2018ء
چند دن پہلے وفاقی وزیر اطلاعات نے اخبار نویسوں کو ایک افطار ڈنر دیا۔ اس میں انہوں نے آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال پر اظہار افسوس والے فقرے کہے جو اخبارات میں نہیں چھپ سکے۔ بعض کالم نگاروں نے ان کے یہ فقرے نقل کئے ہیں‘ سیلف سنسر کی ذمہ داریوں کے تحت بہت محتاط انداز میں ۔ چلیے یہ بھی غنیمت ہے کہ بعض کالموں اور تجزیوں میں فی الحال کچھ نہ کچھ چھپ جاتاہے‘ آنے والے دنوں میں شاید یہ صورت بھی نہ رہے سوشل میڈیا میں البتہ کئی دنوں سے ’’احتجاج‘‘ جاری ہے اور صحافت کو آزاد
مزید پڑھیے


گن کلچر

جمعرات 24 مئی 2018ء
رمضان میں وہی لوگ خدا کا خوف کرتے ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف ہے۔ جو بے خوف ہیں ان کے لیے کوئی بھی مہینہ ہو‘ ایک برابر ہے۔ یہ خبر دیکھیے کہ پاکپتن میں بھٹہ مالک ظریف خاں نے ایک محنت کش عورت کو محض اس لیے قتل کر دیا کہ وہ پندرہ روز کی مزدوری مانگ رہی تھی۔ مقتولہ چھیماں بی بی نے اس توقع پر مزدوری مانگی ہو گی کہ کچھ پیسے ملیں گے تو آج وہ اور اس کے بچے بھی افطاری کر لیں گے لیکن ظریف خاں اور اس کے ملازموں نے اسے
مزید پڑھیے


جب ساری دنیا پر مسلمان حکومت تھی

بدھ 23 مئی 2018ء
عمران خان کے اس پروگرام کی خوب دھوم ہے جو انہوں نے برسراقتدار آ کر پہلے سودنوں میں پورا کرنا ہے۔ خاص طور پر اس نکتے کی تو دھوم ہی زیادہ ہے کہ وہ سو دنوں میں ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ یہ دھوم پر از حیرت ہے۔ حالانکہ خان صاحب کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ یہ ان کے بائیں نہیں تو زیادہ سے زیادہ دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بائیں ہاتھ سے وہ ایک ارب درخت لگا چکے ہیں، دائیں ہاتھ سے ایک کروڑ نوکریاں کیوں نہیں دے سکتے۔ یہ تو انہوں نے رعایت کی ہے، وہ یہ دعویٰ
مزید پڑھیے


یا اخی

منگل 22 مئی 2018ء
کوہ ندا سے رہ رہ کر صدا آتی ہے:یا اخی‘ دم بھر کے توقف کے بعد’’اخی‘‘ لبیک کہتا ہوا سر پٹ دوڑتا ہے اور بنی گالہ کے گنبد باور میں داخل ہو جاتا ہے۔ تازہ داخلہ سردار جعفر لغاری کا ہوا ہے۔ لبیک کی صدا سب نے سنی‘ یا اخی کی آواز چند ہفتے پہلے بلند ہوئی تھی۔ کسی کو یاد ہو گی‘ کسی کسی کو یاد نہیں بھی ہو گی۔ آنے والے ہفتوں میں یا اخی کی صدائیں تیز ہوں گی۔ لبیک لبیک کی گونج بھی بڑھے گی۔ لوگ تہنیت کہیں گے۔ یعنی الیکشن تک نیب کی مصروفیت ایسی رہے
مزید پڑھیے


پھر گئی کہاں

پیر 21 مئی 2018ء

استنبول میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں حکمران پارٹی نے ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا۔ یورپی نیوز ایجنسیوں کے مطابق اس میں پانچ لاکھ سے زیادہ شریک ہوئے۔

ترکی پاکستان کی آدھی سے کم آبادی کا ملک ہے اور استنبول کم و بیش اتنا ہی بڑا شہر ہے جتنا کہ کراچی ہے۔ لاہور سے یہ ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ ذرا حساب لگائیے پاکستان میں فلسطینیوں (یا کشمیریوں) کے حق میں بڑے سے بڑا مظاہرہ بھی کتنے لوگوں کا ہو گا؟ ساری مذہبی جماعتیں مثلاً مجلس عمل ‘ اہلسنت محاذ‘ ملی کونسل وغیرہ اجتماعی مظاہرہ کریں تو بھی بیس پچیس
مزید پڑھیے


پری پول دھاندلی اور ’’شفافیت‘‘

جمعه 18 مئی 2018ء
یہ عجیب اور انوکھا اتفاق ہوا ہے کہ اس بار سب جگہ رمضان ایک ہی دن شروع ہوا۔ علمائے دین اور ماہرین روحانیات شاید یہ بتا سکیں کہ آیا یہ کوئی مبارک اتفاق ہے یا محض اتفاق ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ صدیاں گزر گئیں‘ مسلمانوں پر ٹوٹنے والی آفات میں کمی نہیں ہوئی اور گزشتہ صدی سے جو وقت شروع ہوا ہے وہ تو بہت ہی پر از آلام ہے۔ اس وقت بھی عراق‘ شام‘ لبنان‘ لیبیا‘ یمن ‘ افغانستان ‘ پاکستان ‘ بھارت اور فلسطین کے علاوہ کئی افریقی ملکوں میں مسلمانوں کی جیسی شامت آئی
مزید پڑھیے


جنگ رمضان

جمعرات 17 مئی 2018ء
رمضان المبارک شروع ہو رہا ہے‘ دنیا بھر میں برکت اور پاکستان میں مہنگائی کا مہینہ‘ اس مہینے میں غیر مسلم ملکوں کے غیر مسلم دکاندار بھی اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمان دکاندار نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ یوں تو ہمارے ہاں سارا سال ہی مہنگائی کا موسم چلتا ہے لیکن رمضان کو یار لوگوں نے مہنگائی اور لوٹ مار کا موسم بہار بنا کے رکھ دیا ہے۔ ایک تو گناہ عظیم‘ دوسرا اس مہینے میں گویا دو آتشہ گناہ عظیم۔ بد قسمتی یہ بھی ہے کہ رشوت کے نرخ بھی اسی مہینے دوگنا ہو جاتے
مزید پڑھیے


سورۃ یٰسین پڑھنے کی گھڑی

بدھ 16 مئی 2018ء

ہر طرف غدار غدار لیجو پکڑیو کا وہ کہرام مچا کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دی اور اسی شور بے اماں میں امریکہ اپنے آدمی کرنل جوزف کو اٹھا کر لے گیا، پاکستانی دیکھتے رہ گئے۔ ساڈا کی اے زور تگڑے دے ہتھ ڈور یہ وہی کرنل جوزف تھا جس نے اندھی ڈرائیونگ کی اور دو پاکستانی نوجوان کچل دیئے اور یہ وہی کرنل جوزف ہے جس کے ’’فرار‘‘ کی ایک کوشش ریاست پاکستان ایک دن پہلے ناکام بنانے کا دعویٰ کر چکی تھی جو شور قیامت برپا ہے، سابق وزیر اعظم نوازشریف نے غداری کمیشن بنانے کا
مزید پڑھیے


مجلس عمل کا جلسہ

منگل 15 مئی 2018ء
افسوس کہ مجلس عمل نے وہ منصفانہ مشورہ قبول نہیں کیا جو دو روز پہلے اسی کالم میں دیا گیا تھا۔ یہ کہ جس طرح تحریک انصاف نے 17ہزار کرسیاں لگا کر دعویٰ چالیس ہزار کرسیاں لگانے کا کیا، آپ بھی 34ہزار کرسیاں لگائیں اور دعویٰ 80ہزار کا کریں۔ لیکن مجلس عمل نے چالیس ہزار کرسیاں لگائیں اور دعویٰ بھی چالیس ہزار کا کیا۔ جلسہ بہت بڑا تھا اور تاریخی بھی لیکن اسے دس روز پہلے ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے سے بڑا قرار دینے کی جسارت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ جرأت مہنگی پڑے گی کیونکہ نوجوان
مزید پڑھیے


بنی گالہ کی متحدہ یا…!

پیر 14 مئی 2018ء

12مئی 2007ء کی یاد میں پیپلز پارٹی اور اے این پی نے جلسے کئے۔ دونوں کے کارکن اس روز پرویز مشرف کی ’’طاقت‘‘ کا نشانہ بنے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس دن کی یاد میں تحریک انصاف نے بھی کراچی میں جلسہ کیا۔ تحریک انصاف کا 12مئی سے تعلق واسطے کا سراغ لگانے کے لیے سراغ رساں کہاں سے لائیں۔ مشرف اچھے آدمی تھے‘12مئی کا کارنامہ بھی ان کی سنہری خدمت ہے پھر تحریک نے تعزیتی جلسہ کیوں کیا؟ تعزیتی نہیں‘ اسے اصل میں ’’تعریفی‘‘ جلسہ کرنا چاہیے تھا۔

بلاول زرداری نے اپنے خطاب میں متحدہ اور تحریک انصاف
مزید پڑھیے