BN

عدنان عادل


آبنائے تائیوان میں کشیدگی


امریکہ اور چین کی سرد جنگ میں تائیوان کا جزیرہ اور آبنائے تائیوان ایک بڑا فلیش پوائنٹ ہے۔اس علاقہ میں چین اور امریکہ کی فوجی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چین تائیوان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلے گا کیونکہ وہ اسے اپنا باغی صوبہ سمجھتا ہے۔ جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد ‘ خود مختار ملک قرار دیتا ہے گو دنیا کے صرف چودہ چھوٹے چھوٹے ممالک نے اسے الگ ملک تسلیم کیا ہُواہے۔پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر ممالک اسے چین کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ اقوام متحدہ کا رُکن بھی نہیں
اتوار 11 اپریل 2021ء

وزیراعظم کے آپشن

بدھ 07 اپریل 2021ء
عدنان عادل
اگلے روز وزیراعظم عمران خان نے عوام کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے قدرے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ کرپشن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اکیلے کرپشن ختم نہیں کرسکتے۔ قوم اور عدلیہ کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی خواہش کے برعکس سیاسی لیڈروں کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں خاصی حد تک رعایت مل چکی ہے۔ ڈھائی برس ہوگئے کسی ایک سیاسی لیڈر کو بدعنوانی کے کسی مقدمہ میں سزا نہیں سنائی گئی۔ مقدمات التوا کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیے


چین یا امریکہ

اتوار 04 اپریل 2021ء
عدنان عادل
پاکستان ایک دورہے پر کھڑا ہے۔ چین یا امریکہ۔ کس بڑی طاقت کا اتحادی بنے۔ عالمی سیاست میں امریکہ اور چین کی مسابقت زوروں پر ہے۔ معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میںچین کی ترقی سے امریکہ کے پسینے چھوٹے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر اور وزراء دنیا بھر میںچین کے مقابلہ میںاتحاد تشکیل دینے کے لیے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ دوسری طرف‘ چین کے وزیرخارجہ نے حال ہی میںترکی‘ خلیج فارس اور عرب ممالک کے دورے کیے ہیں۔ چین کا مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ چین عالمی تجار تی راستوں پر امریکی غلبہ ختم کرنے کے لیے
مزید پڑھیے


اڑھائی سال کی کارگزاری

بدھ 31 مارچ 2021ء
عدنان عادل
وزیراعظم عمران خان کی حکومت بنے اڑھائی سال سے زیادہ ہوگئے۔ وہ اپنی حکومت کی نصف مدت گزار چکے۔ وہ خوش قسمت انسان ہیں کہ ملک کی دو بڑی‘ پرانی سیاسی جماعتوں کو پچھاڑ کروزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچ گئے۔لیکن انکی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں بہت خراب حالات میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو ملک کو نادہندگی کا سامنا تھا۔ انکا ایک ڈیڑھ سال زر مبادلہ کا بحران حل کرنے کی تگ و دو میں گزر گیا۔ عالمی مالیاتی فنڈز کی کڑی شرائط نے انکے ہاتھ باندھ دیے۔ اسکے بعد ایک سال سے
مزید پڑھیے


پاکستان کے روس سے تعلقات

اتوار 28 مارچ 2021ء
عدنان عادل
امریکہ کی بھارت سے قربت اور پاکستان سے سرد مہری بڑھتی جا رہی ہے ۔واشنگٹن کے دہلی کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات قائم ہونے کے بعد علاقائی سیاست میں بڑی بڑی تبدیلیاں رُونماہورہی ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے لیے نئے خطرات جنم لے چکے ہیں۔امریکی ماہرین کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اگر امریکہ کے لیے اہم ہونا ہے تو اسے خود کو بہت تبدیل کرنا ہوگا یعنی اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔اِن بنیادی تبدیلیوں کاآسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ چین سے فاصلہ کرو‘ بھارت کی جنوبی ایشیا میں بالادستی
مزید پڑھیے



بھارت سے تعلقات کی بحالی

بدھ 24 مارچ 2021ء
عدنان عادل
امریکہ کے دو قریب ترین اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خفیہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے اور انکے تعلقات بہترکرنے کے لیے سرگرم ہیں ۔ ظاہر ہے ان ممالک کا یہ عمل امریکہ کی آشیرباد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اِس سفارتی کوشش کا عملی نتیجہ ہم نے گزشتہ ماہ دیکھا جب دونوں ملکوں نے کشمیر میں لائن ٓف کنٹرول پر اچانک سیز فائر کا اعلان کردیا۔خفیہ سفارت کاری کی خبروں کو اس بات سے بھی تقویت ملی کہ گزشتہ ہفتہ پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پاک بھارت
مزید پڑھیے


امریکہ کی چین‘ روس سے کشیدگی

پیر 22 مارچ 2021ء
عدنان عادل
امریکی سلطنت دنیا پر اپنی بالا دستی اور واحدسُپر پاور ہونیکا مقام برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ اسوقت امریکہ کے تعلقات چین اور روس دونوں سے کشیدہ ہیں۔ امریکہ اب بھی ایک بڑی معاشی اور فوجی طاقت ہے لیکن چین اسکے ہم پلّہ معاشی طاقت بن چکا ہے ۔ یہ بات انکل سام کو ہضم نہیں ہورہی۔امریکی حکمران سر توڑ کوششوں میںمصروف ہیں کہ کسی طرح چین کی معاشی طاقت کو محدود کیا جائے۔ اس پر کسی قدر تجارتی پابندیاں عائد کرکے اور اسکے ارد گرد کے ممالک کو اپنا حلیف بنا کر ۔ اسی طرح
مزید پڑھیے


سیاسی تفریح

بدھ 17 مارچ 2021ء
عدنان عادل
اٹھارہ اگست 2018 کو عمران خان نے پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم کے طور پر حلف لیا تھا۔ اس دن سے آجتک ڈھائی سال میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب مخالف جماعتوںنے انکی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پہلے دن سے انکے ہر اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر صبح سے شام تک اس پر سیاسی بیان بازی‘ الزام تراشی‘ بدزبانی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ گزشتہ سال حزب اختلاف نے حکومت کیخلاف ملک بھر میں جلسے جلوس بھی منعقد کیے لیکن عوام رضا کارانہ طور پر سڑکوں پر نہیں نکلے۔
مزید پڑھیے


افغانستان کی دلدل

اتوار 14 مارچ 2021ء
عدنان عادل
افغانستان میں جاری 42 سالہ طویل خانہ جنگی نے افغانوں کو تو شاید نہ تھکایا ہو لیکن پُوری دنیا کے کڑاکے نکال دیے ہیں۔گزشتہ برس ہونیوالے دوہا معاہدہ کی ناکامی کے بعد اب امریکہ نے افغانستان میں قیامِ امن کیلئے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس پر اِن دِنوں سفارتکاری زوروںپر ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں خاصی سرگرم ہے۔ چند روز پہلے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بحرین کا دورہ کیا جہاںافغان امن عمل پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا
مزید پڑھیے


عمران خان کی مشکلات

بدھ 10 مارچ 2021ء
عدنان عادل
حکومت مِل جانا ایک بات ہے لیکن اسکا چلانا دوسری قسم کا کام ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اسوقت جس بحران سے دوچار ہے وہ نئی بات نہیں۔ پاکستان میں حکومتیںبار بار اس بھنورمیں پھنستی رہی ہیں۔حاکمیت کے بحران کے بڑے ذمہ دار دو طبقے ہیں۔ ایک تو نااہل‘ بددیانت روایتی سیاستدان اور دوسرے کرپٹ ‘ عوام دشمن بیوروکریسی۔ ان دونوں گروہوں پر انحصار کرتے ہوئے ان ہی کی پیدا کردہ خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا بہت سادگی کی بات ہے۔ عمران خان نے حکومت میں آنے اور الیکشن میں زیادہ سیٹیں جیتنے کے لیے روایتی مقامی
مزید پڑھیے