BN

مستنصر حسین تارڑ

گوری نہاکے چھپڑ چوں نکلی تے سلفے دی لاٹ ورگی

بدھ 20 جون 2018ء
بہر طور نہ میں اور میرے جاننے والے اور خاص طور پر میرے پڑھنے والے کبھی کبھی حتمی طور پر یہ فیصلہ کر سکے کہ میں ’’سونے کی چڑیا‘‘ ہوں یا ایک عدد’’پت پینڈو‘‘ کہ میری تحریروں میں بھی میری حیات عکس ہوتی ہے۔ اوائل جوانی اور وہ بھی پچاس کی دہائی میں انگلستان اور یورپ میں گزارے‘ واپس لوٹا تو اچھا خاصا کاٹھا انگریز یا برائون صاحب ہو چکا تھا یہاں تک کہ دیسی خوراک ہضم نہ ہوتی تھی اور میری امی مجھے خوش کرنے کی خاطر لکڑیوں کے چولہے پر روٹی پکانے والے سیاہ توے پر ’’سٹیک‘‘ بنانے
مزید پڑھیے


’’سونے کی چڑیا اور پُت پینڈو‘‘

جمعرات 14 جون 2018ء
میں اپنی تحریروں میں اقرار کرتا رہتا ہوں کہ میں زندگی بھر نہ کبھی مکمل گائوں کا ہوا اور نہ کبھی پورا شہری ہوا‘ بس درمیانی کیفیت میں مبتلا رہا۔ جب ایک برس نارمل سکول گکھڑ منڈی میں پہاڑے یاد کرتا رہا تو میرے بہتر لباس کی وجہ سے میری شامت آتی رہتی۔ امی مجھے ایک بچہ اچکن پہناتیں جیب میں رومال اڑستیں ۔ استری شدہ شلوار قمیض اور بوٹ لشکتے ہوئے پالش شدہ اور کبھی کبھار ڈیکوریشن کے لیے ابا جی کی گھڑی فیور لوبا بھی کلائی پر باندھ دیتیں البتہ اسے ایک رومال سے ڈھانک دیتیں تاکہ نظر
مزید پڑھیے


’’ایک واویلا کرنیوالی قوم‘‘

پیر 11 جون 2018ء
عین ممکن ہے کہ آپ واقعی منتظر ہوں کہ پاکستانی قوم کے مجموعی رویے اور نفسیات کے بارے میں جو کتاب شائد میں نہیں لکھوں گا لیکن میرے زرخیز ذہن نے اس کا عنوان مجھے سجھا دیا ہے یعنی ’’واویلا کرنے والی قوم‘‘ تو اس کے مختلف ابواب میں میں کون کون سے واویلے درج کروں گا یاد رہے کہ میں ہندوستانی اور اب برطانوی مصنف بزود چودھری کی کتاب ’’کانٹینٹ آف سرکے‘‘ کی پیروی نہیں کروں گا۔ میں نے مجموعی طور پر ہندوستانیوں اور خصوصی طور پر ہندوئوں کی ذہنیت کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ میں اتنا بیوقوف نہیں
مزید پڑھیے


’’مُنی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے‘‘

بدھ 06 جون 2018ء
اگر کوئی مجھ سے فرمائش کرے کہ آپ پاکستانیوں کی مجموعی نفسیات، رہن سہن کے رویوں اور روزمرہ کی گفتار کے بارے میں کوئی تحقیقی کتاب لکھیں تو مجھے چنداں دشواری نہ ہوگی بلکہ ماشاء اللہ ایسا زرخیز ذہن پایا ہے کہ اس میں تخلیق کے جتنے بیج بوتا ہوں، ان میں سے کم ہی پھوٹتے ہیں اور جو پھوٹ کر بوٹے بن جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کھلنے سے پیشتر مر جھا جاتے ہیں، یعنی حسرت ہی حسرت ہے ان غنچوں پہ وغیرہ… تو ماشاء اللہ ایسا زرخیز ذہن پایا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کے بارے میں
مزید پڑھیے


زرد چینی شہزادیوں کی لاہور میں بہار

اتوار 03 جون 2018ء
کیا ان دنوں اہل لاہور میں سے کسی نے غور کیا ہے۔ آس پاس نگاہ کی ہے کہ ہر سو ایک زرد قیامت آئی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان پر بھی عمل نہیں کرتے کہ غور کرو‘ فلاں شے میں تمہارے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ نہ جی اہل لاہور اور غور ۔ توبہ ۔ توبہ اپنے بارے میں خود ہی المشہور کر رکھا ہے کہ ہم زندہ دلان ہیں‘ ہاں اگر غور کرتے ہیں تو نہاری‘ سری پائے ہریسہ اور بونگ وغیرہ پر کرتے ہیں جنہیں کھا کھا کر ان کے دماغوں میں بھس بھر گیاہے(جی ہاں آج
مزید پڑھیے


’’ایک روزہ خور کے اعترافات‘‘

بدھ 30 مئی 2018ء
کہاں وہ دن تھے کہ ہم بھی اکثر روزے رکھا کرتے تھے اور کہاں یہ دن کہ مدت ہوئی ہے روزے کو مہماں کئے ہوئے۔ حسرت ہے ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو دو بجے دوپہر کے بعد’’ٹچ می ناٹ‘‘ ہو جاتے ہیں یعنی چُھونا نہ‘ چُھونانہ۔ روزہ لگنا شروع ہو گیا ہے اور ہم اس لیے بھی ان لوگوں کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ یہ وہ خوش نصیب ہیں جو آج افطاری میں دودھ سوڈا پئیں گے ۔ پکوڑے ‘ سموسے چاٹ اور کباب کھائیں گے اور پھر پراٹھے تناول فرمائیں گے اور ہم روزہ خور ان کا
مزید پڑھیے


تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں

اتوار 27 مئی 2018ء
ایک روائت ہے کہ کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں اور میری بجھتی ہوئی اسی برس کے منظروں‘ محبتوں اور دکھوں کو دیکھنے والی آنکھیں تو بہت ہی کچی ہیں۔ میں رونے سے‘ آنسو بہانے سے اجتناب کرتا ہوں کہ ہر آنسو کے ساتھ میری آنکھوں کے دھاگے ادھڑتے جاتے ہیں اور مجھے آنسوئوں کے پار کچھ نظر نہیں آتا اور اگر وہ بچوں کے جنازے ہوں تو گویا وہ میری آنکھوں سے نکل رہے ہوتے ہیں۔ مجھے مر جانے والے بچے اچھے نہیں لگتے۔ وہ بہت بُرے ہوتے ہیں‘ کچھ لحاظ نہیں کرتے کہ کہیں پاکستان کے شہر
مزید پڑھیے


چاند نے ایک خنجر ہوائوں پر منتظر رکھ دیا ہے

بدھ 23 مئی 2018ء
آپ جانتے ہی ہوں گے کہ میں دیگر لوگوں کی نسبت کچھ ابنارمل سا ہوں۔ میرا ذہن بھٹکتا رہتا ہے۔ ممکنات اور تصورات کے ویرانوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ میں اپنی حیات میں اورخاص طور پر اپنے ادب میں بہت کم سیدھے راستے پر چلا کہ میری جستجو مجھے ان راستوں میں پڑتی گلیوں میں جھانکنے اور کچھ دیر ان کے اندر سفر کرنے پر مجبور کرتی رہی اور یوں میں نے بہت کچھ ایسا عجب دیکھا کہ بعد میں مجھے بھی یقین نہ آیا کہ کیا واقعی میں نے وہ کچھ دیکھا تھا۔ کیا واقعی جب وہ مجھے ایک
مزید پڑھیے


لڑکی‘ قرطبہ چلی جائو‘ غرناطہ چلی جائو

اتوار 20 مئی 2018ء
اندلس میں‘ قرطبہ میں‘ مسجد قرطبہ میں‘ پاکستانی عمر رسیدہ سیاح خواتین اور ان میں کچھ کے ہاتھوں میں ’’اندلس میں اجنبی‘‘ جس کے ورق پلٹ پلٹ کر پڑھتی تھیں کہ اس تارڑ نے مسجد قرطبہ کے ستونوں کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ جب ان میں سے ایک نے میری بیگم سے دریافت کیا جبکہ وہ نہ جانتی تھی کہ وہ میری بیگم ہے۔ پوچھا کہ کیا آپ نے تارڑ کی یہ کتاب پڑھی ہے تو میمونہ بیگم نے ناک چڑھا کر کہا تھا۔ یہ تارڑ میرا خاوند ہے اور اس نے زبردستی مجھے یہ پوری کتاب پڑھ کر
مزید پڑھیے


نواز شریف ہندوئوں کے بھگوان ہو گئے

بدھ 16 مئی 2018ء
میں اپنے گزشتہ کالم ’’الحمرا کی کہانیاں اور اندلس میں اجنبی‘‘ کے تسلسل میں گارسیا لورکا کی شاعری کے حوالے سے کالم لکھ رہا تھا کہ اک سانحہ سا ہو گیا۔ ایک دھماکہ ہو گیا اور اس دھماکے نے پاکستان کی سلامتی اور عزت نفس کے درو دیوار ہلا کر رکھ دیے۔ میں نے سوچا کہ اندلس اور لورکا کی کہانی بعد میں بیان ہوتی رہے گی ذرا ادھر دھیان کر لوں کہ میرے بدن کے اندر بھی پاکستان کی جو ناقابل شکست فصیلیں ہیں۔ ان میں دراڑیں پڑتی محسوس ہونے لگی ہیں۔ میں عام طور پر سیاسی نوعیت کے
مزید پڑھیے