BN

ہارون الرشید


ایک سپاہی کی یاد


سینیٹ انتخابات میں اخلاقی افلاس سے اس جواں مردسپاہی کی یاد قلب و جاں میں چمک اٹھی۔کاش کہ ہماری سیاست اور اسٹیبلشمنٹ میں بھی ایسے کچھ امانت دار موجود ہوتے۔ادبار سے ہم بچ نکلتے، ضرور بچ نکلتے۔ فاروق گیلانی کے لہجے میں کسی چونکا دینے والی دریافت کی سرشاری تھی۔ ایک فوجی افسر کا ذکر کیا۔ وزارتِ زراعت جنگل اگاتی ہے۔ ادائیگی مشروط ہے کہ خاردار تار قائم ہو اور اسّی فیصد پودے صحت مند۔ بریگیڈیئر سے پوچھا: کتنے فیصد؟ جواب ملا: سوفیصد۔ حیرت سے سوال کیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟ وجیہہ آدمی بولا: اس لیے کہ 120فیصد
جمعرات 04 مارچ 2021ء

گنجِ گمشدہ کی طرح

بدھ 03 مارچ 2021ء
ہارون الرشید
دل میں درد اور ذہن میں شعور کارفرما ہو، مشاورت اہلِ دانش سے ہو تو معجزے رونما ہوتے ہیں۔ باتوں سے نہیں، زندگی عزم و عمل کے ولولے سے تعمیر ہوتی ہے۔کپتان کو کوئی بتائے کہ خلقت پامال اور ملک کی سب سے بڑی دولت برباد ہوئی جاتی ہے۔ پاکستانی زراعت پیہم زبوں حال کیوں ہے؟ گرتے گرتے کپاس کی پیداوار ایک کروڑ چالیس لاکھ سے پچپن لاکھ گانٹھ رہ گئی۔ کپاس کے پھول دیکھ کر دل دکھتا ہے۔گویا پولیو کا مارامعصوم بچّہ۔ حکومتیں بے نیاز رہیں، بالکل بے نیاز۔ شعیب بن عزیز کا شعر ہے کچھ اپنے دل کی
مزید پڑھیے


ریگِ رواں پہ نقشِ قدم اور کتنی دیر

منگل 02 مارچ 2021ء
ہارون الرشید
نہیں، تادیر یہ تماشہ باقی نہ رہے گا۔ یہ بساط اب الٹنے والی ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ دھماکہ ہو جائے گا۔ ریگِ رواں پہ نقشِ قدم اور کتنی دیر۔ایسے ہی بدنما کردار تھے، اقبالؔ نے جن کے بارے میں کہا تھا ابلیس کے فرزند ہیں ارباب سیاست اب باقی نہیں میری ضرورت تہہِ افلاک سپریم کورٹ کا فیصلہ بالاخر کیا نتائج مرتب کرے گا؟ ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ گستاخی معاف،محسوس یہ ہوتاہے کہ معزز جج حضرات کے احتیاط کی حدود خوف سے جا ملیں۔ کسی ایک یا دوسرے فریق کی ناخوشی کا اندیشہ کہ عدالت کو جانبدار کہا
مزید پڑھیے


بھٹو اور ضیاء الحق

جمعرات 25 فروری 2021ء
ہارون الرشید
اقوام کی نشو ونما کاانحصار حکام نہیں بلکہ عوام کی بیداری پر ہوتا ہے۔ علمی فروغ، جذباتی اور فکری توازن میں،مگر افسوس کہ محبت اور نفرت تجزیہ کرنے نہیں دیتی۔ دیا جلانے نہیں دیتی۔ وزیرِ اعلیٰ کی بساط الٹ دی جاتی لیکن پھر جنرل محمد ضیاء الحق لاہور پہنچے۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر انہوں نے اعلان کیا: نواز شریف کا کلّہ مضبوط ہے اور خدا کرے کہ میری عمر بھی اسے لگ جائے۔ 12اکتوبر 1999ء کے فوجی انقلاب میں اگرنواز شریف الگ نہ کر دیے جاتے تو کیا آج بھی شریف خاندان ان کے مزار پہ
مزید پڑھیے


ڈسکہ میں کیا ہوا؟

بدھ 24 فروری 2021ء
ہارون الرشید
سانحہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں خود کو رسوا کر رہی ہیں۔ ہیجان میں مبتلا، کمزور سے کمزور تر اور اسٹیبلشمنٹ مضبوط تر۔ وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا ڈسکہ کے الیکشن میں اصل سوال دھاندلی کا نہیں بلکہ فریقین کا اخلاقی افلاس۔ میڈیا بھی کنفیوژن پھیلانے کا ذریعہ بنا، حقائق واضح نہ کر سکا۔ کئی معتبر اخبار نویس بھی جذبات کا شکار ہو ئے۔ ہمیشہ تعجب رہا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہاتھ میں کون سا ہنر ہے کہ جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور پھر کپتان کے لیے بھی قابلِ قبول
مزید پڑھیے



اعتماد کا رشتہ

منگل 23 فروری 2021ء
ہارون الرشید
معاملہ ہے ریاست اور عوام کے تعلق کا۔ ناقص رشتے پر اعتماد کیسے استوار ہو؟ لیڈروں کو چھوڑیے، کیا دانشور غور فرمائیں گے؟ دردمندی سے کسی نے سوال کیا ہے کہ ہمارے لیڈر اور حکمران ٹیکس کیوں ادا نہیں کرتے۔ تاجر اور صنعت کار بھی۔ اوّل تو یہ تبلیغ کا کام نہیں۔ ہزاروں برس پہلے انسان نے ریاست تشکیل دی اور اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہوا تو یہ عین فطری تھا۔ سب سے بڑھ کر آدمی کو امن اور انصاف کی ضرورت ہے۔ حیاتِ اجتماعی میں یہ موزوں لیڈروں کے انتخاب ہی سے ممکن ہے۔ جنہیں اختیار دیاجائے، وہ
مزید پڑھیے


کب تک

جمعرات 18 فروری 2021ء
ہارون الرشید
کب تک، آخر کب تک آزمائے ہوؤں سے امید وابستہ کی جائے گی۔ ایک نئی سیاسی جماعت نہیں تو صاحبِ درد اور ہوش مند لوگ کم از کم ایک پریشر گروپ ہی قائم کر دیں جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا یہ جو بہت بے چینی ہے،کنفیوژن کے طفیل ہے۔ مفروضے بے حساب، خلط مبحث بے پناہ۔ قرآن کریم کہتاہے: تمہیں صبر کیسے آئے، تم جانتے جو نہیں۔ حکمرانوں کو ہم کوستے اور روتے ہیں کہ لیڈر شپ کا بحران ہے۔ دانشور نرگسیت کے مارے ہوئے۔ کہیں سے کوئی
مزید پڑھیے


امکانات

بدھ 17 فروری 2021ء
ہارون الرشید
اسلام آباد میں اٹلی کے سفیر نے پچھلے دنوں کہا: پاکستان امکانات کی سرزمین ہے۔ ایسا ہی تھا، 1960ء کے عشرے میں ساری دنیا یہ کہتی تھی۔ پھر ہم باہم الجھنے لگے اور مایوسی کی دلدل میں اترتے چلے گئے۔ اجلال حیدر زیدی مرحوم ان لوگوں میں سے ہیں، سول سروس کی تاریخ میں ہمیشہ جو یاد رکھے جائیں گے۔ شائستگی، اہلیت اور دیانت کی ایک نادر مثال۔ وہ کہ جنہیں ہمیشہ اس اعتماد کے ساتھ ذمہ داری سونپی جاتی کہ منصوبہ اور مقصد تکمیل کو پہنچے گا۔ ایک کے بعد دوسرے حکمراں کو ان پر بھروسہ تھا۔ ریاضت ان کا
مزید پڑھیے


پاکستانی قوم اور غلبے کا آرزومند بھارت

منگل 16 فروری 2021ء
ہارون الرشید
کبھی آزمائش اور امتحان کامیابی اور ظفرمندی سے زیادہ ثمر خیز ہوتے ہیں۔ پاکستانی عوام کیلئے موسمِ گل شاید اب چند برس کی بات ہے ع وصل میں مرگِ آرزو‘ ہجر میں لذتِ طلب آخری تجزیے میں پاکستانی قوم‘ بھارتیوں سے بہت بہتر ہے۔ 1988ء سے شروع ہونے والے جمہوری دور سے پہلے‘ کم و بیش ہر میدان میں پاکستان کو بھارت پہ برتری حاصل تھی۔ یہ جمہوری نظام کا نہیں‘ صدیوں میں تشکیل پانے والے ہمارے مزاج کا نقص ہے۔ ادنیٰ لوگوں کی حکمرانی ہم گوارا کرتے ہیں۔ ہیجان میں ہم مبتلا ہیں۔ غلط تجزیوں کی بنیاد پر
مزید پڑھیے


کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

جمعه 12 فروری 2021ء
ہارون الرشید
قلم لیکن خیال کی پیروی کرتا ہے۔ نہ کرے تو گل بوٹے کیسے کھلیں۔ خیالات کی اپنی ایک جنت ہے‘ ایک فردوسِ بریں۔ اقبالؔ نے کہا تھا: اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے پاکستانی تاریخ کے ایک منفرد کردار میجر عامر نے اچانک پوچھا: گلگت بلتستان میں کیا رکھا ہے کہ اس کے گن گائے جاتے ہیں؟۔خود مخاطب کے ذہن میں بھی یہی سوال تھا۔ محمد علی ست پارہ کے لئے بہت سے لوگ دعا کر رہے ہیں۔یہ ناچیز بھی ان میں شامل ہے۔ جی ہاں!یہ ست پارہ ہے۔ نواحِ سکردو کی ایک
مزید پڑھیے