عمران خان اور موجودہ حکومت کو پریشان کرنے کے لئے اپوزیشن کے پاس سینٹ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے ترپ کا پتہ ہیں‘ متحدہ اپوزیشن اگر ہمت کرے‘ادنیٰ ذاتی‘ خاندانی اور گروہی مفادات کو پس پشت ڈالے اور اتفاق رائے سے استعفوں کا کارڈ کھیلے تو ملک میں بحران پیدا کر سکتی ہے‘ عمران خان کہہ تو رہے ہیں کہ وہ ضمنی انتخابات کرا دیں گے مگر وسیع پیمانے پر چاروں صوبوں میں انتخابات کا انعقاد آسان نہیں‘ عام انتخابات سے ملتا جلتا مرحلہ ہے اور نتائج وسط المدتی انتخاب کی راہ ہموار کر سکتے ہیں مگر اپوزیشن کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس معاملے میں یکسو نہ یکدل و یک زباں اور نہ جرأت مندانہ فیصلوں کی اہل۔977ء میں صرف ایک بار اپوزیشن واقعتاً متحد ہوئی‘ ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابی دھاندلی کے ریکارڈ قائم کئے تو پاکستان قومی اتحاد کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھانے اور جھرلو سے وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ۔عوام کو اپوزیشن کی یہ ادا پسند آئی ۔جب احتجاجی تحریک کا اعلان ہوا تو مشتعل عوام نے درمے‘ سخنے قدمے اپوزیشن کا بھر پور ساتھ دیا ‘ہوا کے گھوڑے پر سوار قائد عوام نے مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے اپوزیشن کی منت سماجت شروع کر دی‘ مذاکرات کے دوران نئے انتخابات کا مطالبہ مان کر تسلیم کیا کہ وہ دھاندلی کے مرتکب ہوئے اور موجود اسمبلیوں کو برقرار رکھنا عوام و جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق‘ مذاکرات کے بعد سمجھوتے کی بیل منڈھے کیوں نہ چڑھ سکی؟ یہ الگ موضوع ہے دلچسپ‘ سبق آموز اور عبرت انگیز۔ 2007ء میں جنرل پرویز مشرف متحدہ مجلس عمل سے کیے گئے معاہدے کے بالکل برعکس 2002ء میں وجود میں آنے والی اسمبلیوں سے دوسری بار باوردی صدر منتخب ہونا چاہتے تھے۔ متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کی جگہ وجود میں آنے والے اتحاد نے یہ کوشش ناکام بنانے کے لئے اجتماعی استعفوں کی دھمکی دی‘ جمہوریت پسند حلقوں نے خوشی سے بغلیں بجائیں کہ جونہی اجتماعی استعفے آئے پرویز مشرف کا راج سنگھاسن ڈولنے لگے گا مگر ساری خوش گمانیوں کی لٹیا محترمہ بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمن نے ڈبو دی‘ قاضی حسین احمد‘ میاں نواز شریف اور دیگر مُنہ دیکھتے رہ گئے۔ استدلال ان دونوں کا یہ تھا کہ وہ فوجی آمر کی طرف سے جمہوریت کی بحالی کے تدریجی عمل کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتے‘ محترمہ کو صلے میں این آر او ملا وہ خود اور ان کے پتی دیو اربوں روپے کرپشن کے ثابت شدہ مقدمات سے بری ہو گئے۔ ’’اُصولی موقف‘‘ کے صلے میں مولانا کی وصولی کا ریکارڈ اب تک سامنے نہیں آیا۔ بعض ستم ظریفوں نے اسے کوئلوں کی دلالی قرار دیا مگر مولانا طرح دے گئے۔ دیوار سے لگے میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی تو اپنی نااہلی کا بدلہ چکانے کے لئے غالباً استعفوں سمیت ہر کارڈ کھیلنے کے لئے تیار ہیں مگر پیپلز پارٹی اور اے این پی ان سے متفق ہے نہ مولانا کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا آسان کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں گے۔ ؎ بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں لرز جاتا ہے آواز اذاں سے پیپلز پارٹی کے پاس سندھ میں حکومت ہے اور استعفے کیا‘ نئے انتخابات کی صورت میں بھی اُسے یقین نہیں کہ وہ دوبارہ سندھ کی حکمرانی حاصل کر پائے گی یا نہیں‘ سو موجودہ سواد سے محروم ہونا اسے گوارا نہیں‘ استعفوں کی دھمکی دے کر وہ حکومت اور اپوزیشن سے جو فوائد حاصل کر سکتی ہے وہ سندھ حکومت سے محرومی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر مکمل تصادم کی صورت میں ممکن نہیں۔ مسلم لیگ ن کے سارے ارکان اسمبلی استعفوں پر راضی ہیں؟ یہ بھی واضح نہیں‘ جن لوگوں کو اُمید تھی کہ میاں نواز شریف کی انقلابی تقریروں سے فوجی قیادت بیک فٹ پر چلی جائے گی اور وہ عمران خان سے فاصلہ کر کے اپوزیشن کی توقعات اور خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنے گا وہ جان چکے ہیں کہ ان تقریروں سے فاصلے بڑھے نہیں بلکہ تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں البتہ شریف خاندان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں جلسے کے بعد اپوزیشن کی آپشنز مزید محدود ہو جائیں گی‘ اگلے مرحلے میں اسے مجبوراًدھرنا دینا پڑے گا اور پھر استعفوں کا آخری کارڈ کھیلنا ہو گا‘ اگر یہ دونوں کارڈ بھی توقعات کے مطابق ازکار رفتہ ثابت ہوئے تو پی ڈی ایم کیا کرے گی؟ آج سربراہی اجلاس میں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔موجودہ احتجاج اور دھرنوں‘ استعفوں سے عمران خان کا تو شائد کچھ نہ بگڑے‘ میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن بھی اپنی جگہ مطمئن کہ انہیں تین چار ماہ تک دل کا غبار نکالنے کا بھر پور موقع ملا‘ دونوں کو قائد جمہوریت‘ محافظ جمہوریت‘ سقراط‘ حسین حلاج اور چی گویرا نہ جانے کیا کچھ سمجھا اور کہا گیا (ویسے سچی بات ہے سقراط‘ حسین حلاج اور چی گویرا سے یہ مذاق ماضی میں کبھی کسی نے نہیں کی کسی نے دعویٰ کیا نہ کوئی بدذوقی پر آمادہ ہوا)مگر ان خوش فہموں کو ضرورت سے زیادہ مایوسی ہو گی جو پی ڈی ایم کی تحریک سے پاکستان میں مثالی جمہوریت کی بحالی ‘ اسٹیبلشمنٹ کی شکست‘ شریف خاندان کی باردگر حکمرانی اور معلوم نہیں مزید کیسی کیسی توقعات وابستہ کئے بیٹھے ہیں‘ اجتماعی استعفوں سے اپوزیشن عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے مگر پیپلز پارٹی اس پر تیار ہو گی نہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے منتخب ارکان کی ایک بڑی تعداد راضی‘درون خانہ بُری بھلی جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کا کوئی منصوبہ ہے تو پھر لگے رہو منا بھائی۔