آذربائیجانی صحافی جیحون علییوف کے مطابق 1990سے مذاکرات کی میزوں پر اور بین الاقوامی برادی کے توسل سے متواتر آذر بائیجان بتانے کی کوشش کر رہا تھا ، کہ اگر آرمینیا ٹرانزٹ کوریڈورز میں آمد و رفت بحال کرنے، مہاجرین کی واپسی اور کاراباخ کے نچلے علاقوں کو واپس کرنے پر آمادہ ہوتا ہے ، تو وہ اس کو بطور حتمی حل ماننے کیلئے آمادہ ہے۔ مگر آرمینیا ہمیشہ اسکو ٹھکراتا آیا ہے۔ اب جنگ کے بعد روس اور ترکی کی ایما ء پر ایسا ہی معاہدہ عمل میں آیا ہے۔ اب نچلے تمام علاقوں سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ آمینیا کو اپر کارا باخ کے اہم شہر شوشا سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، جو اس علاقے کا ثقافتی اور تجارتی قلب ہے۔ تزویراتی لحاظ سے بھی اسکی اہمیت دوچند ہے ، کیونکہ یہ اونچائی پر واقع ہے، اور اسکو حاصل کرنے کیلئے آذری افواج کو خاصی محنت کرنی پڑی ۔ یہاں آرمینیائیوں کا آپوسٹولک چرچ بھی واقع ہے۔ جنوبی قفقاز ( North Caucasus) میں نگورنو کارا باخ کو 1923ء میں آذربائیجان کا علاقہ بنادیا گیا تھا۔سوویت یونین کے تحلیل ہونے کے بعد سے اس علاقے کے کنٹرول پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان 1988 سے 1994 تک چھ سال طویل جنگ ہوئی جس میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے جب کہ لاکھوں افراد کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔اس وسیع پیمانے کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے روس نے ثالث کا کردار ادا کیا ، لیکن کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ اس جنگ کی وجہ سے لاکھوںآذریوں کو ہجرت کرنا پڑی اور یہاں آرمینیائی باشندوں کی اکثریت ہو گئی جب کہ حکومت بھی آرمینیا کی حمایت یافتہ بن گئی۔ 2016 میں بھی اس علاقے میں پانچ روز تک دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری رہی جس کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ۔ روس کی مداخلت کی وجہ سے جنگ پھر رک گئی۔ مگر حا ل ہی میں اختتام پذیر جنگ 90 ء کی دہائی کے بعد چھڑنے والی سب سے بڑی جنگ تھی۔ اس میں خاص بات آذر بائیجان کو ترکی کی پشت پناہی، ڈرون طیاروں کی حصولیابی، جس نے آرمینیا کی ایر فورس کو تباہ کردیا ، مزید آرمینیا کے اتحادیوں روس اور ایران کا اس دورا ن غیر جانبدار رہنا تھا۔ روس نے تاہم خبردار کیا تھا ، کہ آرمینیا کی سرحدوں کے اندر کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں وہ مداخلت کرنے پر مجبور ہوگا۔ آذربائیجان نے اسی لئے جنگ کو قا کارا باخ تک ہی محدود رکھا ۔ آرمینیا نے گو کہ آذر بائیجان کے شہری علاقوں پر راکٹوں کی بارش کی، مگر روس کی مداخلت کے خوف سے آذر بائیجان نے ان کا جواب نہیں دیا۔ معاہدے کی رو سے جو علاقے اب آرمینیا اب خالی کر رہا ہے ، اس کی فوج اور لوگ مکانات، سرکاری عمارات اور جنگلاتی اراضی کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور روسی نیوز سائٹ سے نشر ہونے والے ویڈیو مناظر میں کیل بیجیر کے مختلف علاقوں میں مقیم آرمینیوں کو نکلنے سے پہلے عمارتوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ خاص طور پر 27 سال قبل آذریوں کے پیچھے چھوڑے ہوئے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر انہیں آگ لگاتے ہوئے نظر آئے۔ صرف گھروں کو نہیں اسکولوں اور درختوں تک کو تباہ کیا جا رہا ہے۔کارا باخ کے شمال مغربی علاقے کیل بیجیر پر 1993 کو آرمینیا نے جب قبضہ کیا تھا تو اس علاقے میں مقیم تقریباً 60 ہزار آذری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ 10 نومبر کو طے پانے والے سمجھوتے کی رْو سے آرمینی فوج کو 15 نومبر تک کیل بیجیر کو خالی کرنا تھا۔ آذربائیجان کی خاص بات یہ ہے اس کے پہاڑی علاقوں میں ازخود آگ بھڑک اٹھتی تھی۔ اس مناسبت سے زرتشتی اسکو ایک مقدس جگہ مانتے تھے۔ مگر ماہرین کے مطابق ازخود بھڑک اٹھنے والی آگ کا موجب علاقے میں پائے جانے والے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ بحر گیلان یا کیسپین سی کے کنارے آباد اس علاقے میں ہمہ وقت چلنے والی تیز ہوائیں بھی ا س آگ کو بھڑکاتی رہتی ہیں۔ عالمی جریدے کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق آذربائیجان روزانہ آٹھ لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کرتا ہے اور یورپ اور وسطی ایشیا کو تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے ،جس نے اس علاقے کو ترقی اور خوشحالی بخشی ہے۔ اس تیل اور گیس کو یورپ پہنچانے کیلئے دو راستے ہیں ، ایک شمال مغربی روس اور دوسرا جنوب مغربی قفقاز یا کاکیشیائی ریاستوں سے ہوکر ترکی سے گزرتا ہے۔ یورپ اپنی گیس کی ضروریات کو یہاں سے پورا کرنے کے لیے مستقبل میں یہاں سے مزید پائپ لائنوں کی تعمیر کا خواہشمند ہے۔گو کہ کارا باخ کا پہاڑی علاقہ خود گیس یا تیل کی پیداوار نہیں کرتا، مگر اس کے کیل بیجیر ، لاچن، زنگی لان اور تار تار اضلاع میں سونے، چاندی، پارے، تانبے، جست اور کوئلہ کے وافر ذرائع موجود ہیں۔اس جنگ سے ایک بات تو طے ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعد قفقاز میں بھی ترکی کا قد خاصا بلند ہوا ہے اور ایک طرح سے اس کا سفارتی اور ملٹری رتبہ روس کے ہم پلہ ہوگیا ہے۔آذر بائیجان ، آرمینیا کی یہ جنگ شاید نئے ورلڈ آرڈر کی نوید ہے، جس میں ترکی، روس اور چین ایک اہم رول ادا کرنے والے ہیں۔جنگی برتری حاصل کرنے بعد ترکی اور آذر بائیجا ن کیلئے بھی لازم ہے کہ آرمینیا کی اشک شوئی کرکے اس کو بھی اتحاد میں شامل کرکے اقتصادی طور پر اسکی مدد کرکے مغربی ممالک کا کھلونا نہ بننے دیںاور مفتوحہ علاقوں میں آرمینیائی مذہبی علامتوں کی حفاظت کی جائے۔ شاید اسی لئے ترکی کی ایما ء پر آذر بائیجان کی افواج نے اسٹیپن کرت پر فوج کشی نہ کرکے آوٹ ریچ کی گنجائش رکھ دی ہے۔(ختم شد)