لاہور(جوادآراعوان)پنجاب حکومت وفاقی دارالحکومت کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبہ سے اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے پر غور کررہی ہے ۔ممبرز پنجاب کابینہ نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے ایک حالیہ میٹنگ میں جمعیت علماء اسلام(ف)کوصوبہ سے اسلام آباد مارچ لانچ نہ کرنے دینے پر غور کیا جس پر حتمی فیصلہ اگلے ہفتے ہو گا۔ انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں کہ جے یوآئی (ف) کے مارچ کی صورت میں وفاقی دارالحکومت کو سکیورٹی تھریٹس ہو سکتے ہیں اسلئے انہیں مارچ لانچ کرنے سے روکا جائے ۔ صوبائی حکومت کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جے یوآئی (ف) نے جنوبی پنجاب کو فوکس کرتے ہوئے پورے صوبہ میں موجود اپنے مدارس اور جماعتی نیٹ ورک کو اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہر طریقہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں قانون نافذ کرنیوالے اور انکی بیک اپ سپورٹ میں آنیوالے سکیورٹی اداروں سے تصادم کی ہدایت بھی شامل ہے ۔جنوبی پنجاب میں جے یوآئی(ف) کا سب سے بڑا مدارس کا نیٹ ورک ہے اور اس نے اپنے تمام مدارس اور جماعتی نیٹ ورک کو متحرک کر دیا ہے ۔تعداد کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے بعد شمالی اور پھر وسطی پنجاب میں اسکا مدارس کا نیٹ ورک موجود ہے ۔ایسی انفارمیشن موجود ہے کہ پنجاب میں مارچ لانچ کرنے کی آڑ میں گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کی جائیگی جسے آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے ساتھ خیبر پختوانخوا اور بلوچستان کے بارڈرز تک لے جانے کی کوشش کی جائیگی۔ مکمل انتشار کی صورتحال پیدا کرنے میں پرائم ٹارگٹ پنجاب کو رکھا جائیگا۔ مذکورہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے شر پسند عناصر کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا، ضرورت پڑنے پر انکونظر بند اور 16ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیجا جا سکتا ہے ۔