کراچی / اسلام آباد(کامرس رپورٹر/این این آئی)گور نر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا بابر نے کہا ہے کہ مثبت معاشی رجحانات سامنے آرہے ہیں، اسٹیٹ بینک ایس ایم ای فنانس کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ پیر کو جاری بیان کے مطابق گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر رضا باقر اور اسٹیٹ بینک کے سینئر افسران نے ایوانِ صنعت و تجارت لاہور (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل دفتر کی دعوت پر ادارے کے سینئر نمائندوں سے سات ستمبر کو ملاقات کی تھی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایوان ِ صنعت و تجارت کے ارکان کو اسٹیٹ بینک کے خیالات ، ایس ایم ای فنانس تک رسائی بڑھانے کی غرض سے ایس بی پی کی کاوشوں اور فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور ساتھ ہی ایف پی سی سی آئی کے ارکان کو ایس ایم ای فنانس تک رسائی کے حوالے سے درپیش مسائل کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کی گئی۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ معاشی اصلاحات کا مقصد یقیناًگذشتہ برسوں میں مجتمع ہونے والے مسائل حل کرنا، معیشت میں استحکام لانا اور پائیدار نمو کی بنیاد فراہم کرنا ہے ، تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے نجی اور سرکاری شعبوں میں شراکت داری درکار ہے ۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، جاری کھاتے کا خسارہ، جو ہمارے بنیادی معاشی مسائل میں سے ایک تھا، نصف رہ گیا ہے ، برآمدات کا حجم بڑھ رہا ہے ، غیر قرض زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آنا بند ہوچکی ہے ، بلکہ ان میں اضافہ شروع ہوگیا ہے ، اور جاری مالی سال کی دوسری ششماہی سے مہنگائی میں کمی آنے کا امکان ہے ۔ آگے چل کر پالیسی اصلاحات میں تسلسل اور نمو کے لیے موزوں پالیسیوں پر توجہ برقرار رکھنا اہم ترجیحی ہوگی۔ ایس ایم ای فنانس کے مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے افسران نے واضح کیا کہاسٹیٹ بینک کا اس ضمن میں کردار محتاطیہ ضوابط کے ذریعے مددگار ضوابطی ماحول کی فراہمی اور خطرہ کم کرنے کے طریقوں کو فروغ دے کر مارکیٹ کی ترقی کو جلا بخشنا ہے ۔ انہوں نے ایس ایم ای فنانس کو فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے اہم ستونوں کے بارے میں کاروباری کمیونٹی کو بتایا گیا ۔ اس ملاقات میں اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے نو مالکاری کی سہولتوں کی بھی وضاحت کی گئی۔ اسِ دوران ڈاکٹر رضا باقر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایس ایم ایز کو جاری ہونے والے قرضوں کا حجم 2014 کے 288 ارب روپے سے بڑھ کر 2018ء میں 513 ارب روپے ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای فنانس کے فروغ کے لیے مزید گنجائش موجود ہے ، اور اس مقصد کے حصول کی خاطر متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے ایف پی سی سی آئی اور مختلف ایوان ہائے صنعت و تجارت کے سینئر نمائندگان کے سوالات کے جواب دئیے ۔ سارک سی سی آئی کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک اور ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین اور نائب صدر عبدالروف مختار نے ایوانِ صنعت و تجارت لاہور کا دورہ کرنے پر گورنر اور اسٹیٹ بینک کے دیگر اعلیٰ افسران کا شکریہ ادا کیا۔