لاہور ( فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم، محمد فاروق جوہری) چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اوراسے ہٹانے تک اپوزیشن میں کوئی اختلاف نہیں ،ا پوزیشن کی نمبر گیم پوری ہے ، چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی ۔ چھوٹے صوبوں کو چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کے حوالے سے تحفظات ہیں اور یہی تحفظات چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنا دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے روزنامہ 92 نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی،تمام اپوزیشن جماعتیں اس حوالے سے ایک پیج پر ہیں، امید ہے ایک آدھ روز میں ہم چئیرمین سینٹ کے امیدوار کا نام بھی سامنے لے آئیں گے ، بعض رہنماؤں کا خیال ہے امیدوار بلوچستان سے ہی ہونا چاہئے ، اس حوالے سے مشاورت جاری ہے ،جلد نام کا اعلان کر دیا جائے گا ۔پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا جہاں تک چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بات ہے تو اس کیلئے فی الحال اپوزیشن کی نمبر گیم پوری ہے اور تحریک عدم اعتماد اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر لے گی، ہماری نمبر گیم پوری ہے ۔ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کے حوالے سے مشاورت جاری ہے ،، ایک آدھ دن تک ہم نام بھی فائنل کر لیں گے ۔تحریک انصاف کے رہنما نذر محمد گوندل نے کہا اپوزیشن کا دعوی ہے چئیرمین سینٹ کو ہٹانے کے حوالے سے ان کے نمبرز پورے ہیں لیکن چھوٹے صوبوں میں اس حوالے سے تذبذب پایا جاتا ہے چھوٹے صوبوں کا موقف ہے کہ اگر چیئرمین سینٹ بلوچستان سے لے لیا گیا تھا تو اس کو اپنی مدت پوری کرنے دینی چاہئے تھی،تحریک عدم اعتماد کا انجام اپوزیشن کی سوچ کے بر عکس مختلف بھی ہو سکتا ہے ، ابھی تک امیدوار کا نام بھی اپوزیشن اس لیئے فائنل نہیں کر سکی کیونکہ چھوٹے صوبوں کو اس پر اختلاف ہے ، امیدوار چھوٹے صوبے سے ہونا چاہئے ۔