قوم نے 11ستمبر کو بانی پاکستان کی اکہترویں برسی کے موقع پر ان کی دور اندیشی کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کئی برس تک ہندو مسلم اتحاد کے لئے کام کرنے کے بعد آخر کار نتیجہ اخذ کیا کہ ہندو اور مسلمان انگریز کے جانے کے بعد ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے یقینا انہیں کئی عوامل کا سامنا کرنا پڑا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے سرسید احمد خان کے اجاگر کردہ خیالات اور حضرت اقبال کے بار بار یاد دلائے جانے والی دو قومی سوچ کو جب ایک نظریہ کی شکل میں پیش کیا تو برصغیر کے بے سمت مسلمانوں کے سامنے ایک مقصد آ گیا۔ یہ درست ہے کہ قائد اعظم جیسی مستعد اور دیانت دار قیادت نہ ملتی تو برصغیر کے مسلمان آج بھی گائو رکھشکوں کے رحم و کرم پر ہوتے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے جان لیا تھا کہ ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے محکوم رہنے والے ہندو انگریز کی مدد سے جدید سیاسی نظام میں اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ مغربی جمہوریت دنیا کا پسندیدہ نظام بن رہا تھا۔ یہ نظام اکثریت کو ہر فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔ مہذب معاشروںمیں سیاسی اکثریت اقلیتوں کا تحفظ کرتی ہے مگر وحشی اور منتقم نظریات والے معاشروں میں اکثریت اس اختیار کو اقلیتوں پر ظلم کا ذریعہ بنا لیتی ہے۔ آج کا بھارت کہنے کو جمہوری ہے مگر اس کا سیکولر اور برداشت والا چہرہ مدت ہوئی قاتل کا روپ دھار چکاہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ مسلمان اور ہندو اپنی تاریخ ‘ کھانے پینے کی عادات‘ عقاید اور سماجی معاملات میں ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ کئی لوگوں نے اس وقت قائد اعظم کو غلط قرار دیا۔ اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ میں غفار خان کانگرس کے حامی تھے۔ ان کی جماعت کو اس علاقے میں اکثریت حاصل تھی۔ کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست کا سربراہ ہندو ڈوگرہ تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور دیوبند کے علماء کانگرس کے ساتھ تھے۔ احرار اور خاکسار قائد اعظم کے مخالف تھے مگر اتنی مخالفتوں کے باوجود قائد اعظم نے مطالبہ پاکستان سے پسپائی اختیار نہ کی۔ آج جب ان کے مخالفین کی صلبی اولاداور نظریاتی پیروکار بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کی بے بسی اور لاچارگی دیکھتے ہیں تو انہیں یہ اعتراف کرتے ہی بنتی ہے کہ قائد اعظم کی دور اندیشی برحق تھی۔ قائد اعظم نے پاکستان کا تصور پیش کیا اس میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل تھے۔ ان کے تصورپاکستان میں ایک متحد اور پرامن قوم تھی۔ ان کے خیال میں معاشی اور دفاعی لحاظ سے پاکستان اپنے پائوں پرکھڑا ہونا تھا۔ بدقسمتی ہے کہ بانی پاکستان کواپنے تصور پاکستان کو حقیقت میں ڈھالنے کا موقع نہ مل سکا۔ زندگی وفا کرتی تو پاکستان کو بہت آغاز میں ایک متفقہ آئین مل جاتا۔ اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی مشق ہو جاتی اور پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسیاں کسی بیرونی مداخلت کے بغیر تشکیل پا جاتیں۔ اس دکھ کی شدت اس لئے دو چند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ بعدازاں مفاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ پاکستان کا حصول اس لئے ممکن ہوا تھا کہ اس جماعت میں دیانت دار اور ہر طبقہ کے لوگ تھے‘ یہ جب حکمران اشرافیہ کی جماعت بنی تو ریاست پاکستان کے مفادات پس پشت چلے گئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ آج ہمارے سامنے جو صورت حال درپیش ہے اس میں کشمیریوں پر مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔37روزسے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔ بھارتی فوج جس کو چاہتی ہے دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کر لیتی ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کی اپیل کر رہا ہے۔ عالمی برادری زبانی طور پر کشمیریوں کی حمایت کرتی ہے لیکن کرپشن‘ ناانصافی‘ معاشی کمزوری اورناعاقبت اندیش حکمرانوں نے پاکستان کو قائد اعظم کے مضبوط پاکستان کے تصور سے کوسوں دور کر دیا ہے۔ یہ حضرت قائد اعظم کی دلیرانہ اوردیانت دار قیادت ہی تھی کہ مسلمانان برصغیر قیام پاکستان کی صورت میں آزادی کے سب سے بڑے تحفے سے سرفراز ہوئے اور آج پاکستان دنیا کے نقشہ پر ایک جگمگاتے ستارے کی طرح ہر طرف اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947ء کو وجود میں آیا اور قوم صرف ایک سال ایک ماہ بعد ہی اپنی آزادی کے سب سے بڑے محسن کی قیادت سے محروم ہو گئی۔ آپ کی وفات قوم کے لئے سب سے بڑا دھچکا اور عظیم نقصان تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا فضل و کرم شامل حال نہ ہوتا اور قائداعظم جیسی شخصیت ہماری رہنمائی نہ کرتی تو شاید آزادی ہمارے لئے خواب و خیال بن کر رہ جاتی۔ قائداعظم نے شہر شہر جا کر مسلمانوں کے اندر آزادی کا جذبہ پیدا کیا اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قائد نے ہمیں ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسے اصولوں سے متعارف کرایا۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم پاکستان کو خوشحال اور ترقی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا قیام قائداعظم کا ہم پر احسان عظیم ہے اور بحیثیت قوم ہم پر فرض ہے کہ ہم تجدید عہد کریں کہ ہم اپنی خودداری پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے اور پاکستان کی عظمت اور خوشحالی کے لئے اپنا تن من دھن سب اس پر قربان کر دیں گے کہ یہی پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے۔ ؎ یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران اے قائد اعظم ، تیرا احسان ہے احسان