’’افغانستان میں ہر کوئی آپ کو بتائے گا کہ انتخابی مہم کے دوران ، افغانستان کے طول و عرض میں سب سے بڑے اور پر ہجوم جلسے اور جلوس ، اسی پارٹی کے تھے ۔ہم نے ثابت کر دیا کہ ہماری پارٹی کسی خاص نسل اور علاقہ کی نمائندگی نہیں کرتی ہے، بلکہ پورے ملک کی نمائندہ تنظیم ہے۔‘‘ انتخابی نتائج کا ابھی اعلان تو نہیں ہوا ہے۔ مگر پروفیسر صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے اعلان کے بعد کسی بحران سے نمٹنے کیلئے ان کی پارٹی کے ذمہ داران دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط بنائے ہوئے ہے۔ ‘‘ جب انتخابات کا ذکر آیا ، تو میں نے پوچھا کہ افغانستان میں انتخابات اکثر متنازعہ ہو جاتے ہیں۔ آخر شفاف انتخابات کو روبہ عمل میں لانے میں کیا رکاوٹ ہے؟ پروفیسر وزین، جو خود نائب صدر کے امیدوار ہیں ،نے کہا، کہ بیرونی مداخلت ، ذاتی مفادات اور ایک ٹولہ کا رویہ ، جو ہر حالت میں اقتدار کے ساتھ چمٹ کر رہنا چاہتا ہے ، نے انتخابات کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ افغانستان کی 35ملین کی آبادی میں صرف 1.5ملین افراد نے حالیہ ووٹنگ میں حصہ لیا۔ جبکہ 9.7ملین افراد نے اپنے آپ کو بطور ووٹر رجسٹر کرالیا تھا۔بیرون ملک مقیم 6ملین افغان مہاجرین بھی ووٹنگ کے حق سے محروم تھے۔ ان کے علاوہ ملک کے اندر بسے تین ملین مہاجروں نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ علاوہ ازیںووٹنگ کا عمل بھی خاصا پیچیدہ تھا۔ کافی ووٹرز حق رائے دہی سے محروم رہ گئے۔ علاو ہ ازیں کئی غیر ملکی سفارت خانوں نے کھلے عام اپنے چہیتے امیدواروں کیلئے کام کیا۔ اگر کسی اور ملک میں اسطرح کا کوئی واقعہ ہوجاتا تو ایک طوفاں کھڑا ہو گیا ہوتا۔ امریکی صدر کو تو ابھی اسی طرح کی صورت حال کے حوالے سے مواخذہ کی تحریک کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ جبکہ وہاں کسی دوسرے ملک نے براہ راست مداخلت نہیں کی تھی۔ کسی بھی ملک کے جمہوری نظام میں غیر ملکی مداخلت کا مطلب اسکوسبوتاژ کرنا ہے، اسکے لئے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین بننے چاہئے۔ ’’انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں۔ یہ تنائو کو کم کرنے میں مدد نہیں کرینگے۔ بلکہ ان سے مزید بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہذا انتخابات سے پرے، سبھی فریقین اور اسٹیک ہولڈرز کو انٹرا افغان ڈائلاگ کی تیاری کرکے اس پر اپنا دھیان مرکوز رکھناچاہئے۔ یہ جتنی جلدی ہوگا ، افغانستان کے حق میں اچھا ہوگا ۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اختتام پر طالبان کو اس میں شرکت کرنی چاہئے۔ تاکہ کابل میں حکومت سازی پر ایک اتفاق رائے پیدا ہو ، اور یہ اتفاق رائے کسی بھی بیرونی مداخلت سے پاک ہو۔‘‘ میں نے پروفیسر وزین سے پوچھا کہ افغانستان تو فی الوقت بھارت اور پاکستان اور پھر چین اور امریکہ کے درمیان ایک مسابقت کا میدان بنا ہوا ہے، وہ آخر کیوں کر اتنی جلدی افغانستان کو بخش دیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی ان ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں مداخلت بند کردیں۔ ’’جس طرح افغانستان کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا ہے، آپ بھی افغانستان کی خود مختاری اور آزادی کا احترام کریں۔‘‘ میں نے سوال کیا کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ کابل میں طالبان کی واپسی سے اس خطہ میں دوبارہ بد امنی پیدا ہوسکتی ہے، تو پروفیسر وزین نے سخت لہجہ میں کہا کہ طالبان کوئی آسمانی مخلوق تو نہیں ہیں، وہ افغانستان کے شہری اور بچے ہیں۔ اس ملک پر ان کا اتنا ہی حق ہے، جتنا کسی اور کا ہے۔ ’’ہم سبھی ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ کابل میں اقتدار کیلئے اپنی پسند و ناپسند کا معیار نہ بنائیں ، بلکہ یہ حق افغان عوام کو دیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے افغانستان کے ساتھ قدیمی تاریخی و تہذیبی روابط ہیں ۔ ’’پاکستان کے ساتھ ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہاں، بھارت نے افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے جو سرمایہ کاری کی ہے، افغان عوام میں اس کی پذیرائی ہے، مگر جو کچھ آجکل کشمیر میں ہو رہا ہے، اور اسکی رپورٹنگ میڈیا کے ذریعے افغانستان پہنچ رہی ہے، اس سے افغان عوام خاصے رنجیدہ ہیں۔ دنیا کے دیگر امن پسند عوام کی طرح ان کا بھی بھارت سے مطالبہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھ کر اس مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈ نکال لیں، ورنہ ایک طرف افغانستان میں امن قائم ہو رہا ہے ، وہیں اسی خطہ کا دوسرا حصہ عدم استحکام کا باعث بنایا جا رہا ہے۔ اس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔ یہ صرف کسی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔اس خطے کے ممالک کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔‘‘ افغانستان میں داعش کے حوالے سے خاصی خبریں آجکل آرہی ہیں۔ ہم اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔ میں نے پروفیسر وزین سے پوچھا کہ اس میں کتنی حقیقت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایک باضابط پلان کے ذریعے چند عناصر داعش کا ہوا کھڑا کرکے غیر ملکی افواج کے انخلاء کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ داعش کا افغانستان میں کبھی کوئی وجود نہیں رہا ہے۔ کئی بار ان کو لانچ کرنے کی سازشیں ہوئی، مگر وہ ناکام ہو گئیں۔ امریکی محکمہ سی آئی اے اور ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس خود متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ آخر شام اور عراق میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد داعش مشرقی افغانستان میں کیسے نمودار ہوگئی؟ اور وہ بھی ایسے علاقہ میں جہاں امریکی اور افغان فوج خاصی سرگرم ہے۔ افغانستان ، افغان عوام کا ہے اور وہ اسکا برا بھلا سمجھتے ہیں اور اسکی آزادی اور خود مختاری کو برقرار اور بحال رکھنا بھی خوب جانتے ہیں۔ افغان باقی کوہسار باقی۔ اسی دوران پروفیسر وزین کی منزل آگئی۔ ان کی بات رہ رہ کر کانوں میں گونج رہی تھی ، کہ کشمیر کی صورت میں جنوبی ایشیا ء کے پچھواڑے میں ایک اور افغانستان بنایا جا رہا ہے۔ جہاں فی الوقت آٹھ ملین عوام اسیری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ایک لاوا جمع کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی وقت پھوٹ کر خطہ کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر اور اسکے انسانی عوامل کو نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ جتنی جلدی یہ عالمی برادری کی سمجھ میں آجائے ، بہتر ہے۔ مانا کہ بھارت ایک بڑی تجارتی منڈی ہے، مگر تجارت کیلئے بھی تو امن لازمی ہے۔(ختم شد)