جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر ا نتظام ہونے والی عالمی ’’افغان ڈونرز‘‘ کانفرنس میں مختلف ملکوں نے افغانستان کے لیے 1.1ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانفرنس جس میںچالیس ملکوں کے وزیروں اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی، امریکہ نے 6کروڑ 40لاکھ ڈالر کی نئی امداد کا وعدہ کیا جبکہ نیوزی لینڈ نے مزید تیس لاکھ اورناروے نے ایک کروڑ پندرہ لاکھ ڈالر کی اضافی امداد دینے اور فرانس نے گیارہ کروڑ اسی لاکھ کی امداد کا اعلان کیا ۔ ادھر روس نے بھی کہا ہے کہ انسانی بنیادوں پر جلد افغانستان کو امداد فراہم کی جائے گی ۔امر یکی انخلا اور طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد کی صورتحال میں افغان حکومت اور عوام کو بڑے پیمانے پر عالمی امداد کی ضرورت ہے ۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے ایک کروڑ 40لاکھ افراد قحط کے کنارے پر ہیں، افغانستان کے عوام کو اس وقت خوراک کی شدیدضرورت ہے ،اس کے لئے تمام بڑے ممالک کوکھانے پینے کی اشیاء کی صورت میں بھی امداد کی فراہم کو یقینی بنانا چاہیے،عالمی ڈونرز کی جانب سے حالیہ امداد اگرچہ حوصلہ افزا ہے لیکن یہ محض وعدوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے اور یہ جلد از جلد طالبان حکومت کے ہاتھوں میں پہنچنی چاہیے۔ افغانستان اور خطے کے استحکام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ امداد کے ساتھ ساتھ امریکہ افغانستان کے دس بلین ڈالر اور سونے کے منجمد اثاثے بحال کرے تاکہ افغان حکو مت اپنے وسائل سے خود اپنے پائوں پر کھڑی ہونے کے قابل ہو سکے ۔