پشاور(92نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغان مذاکراتی عمل کی منسوخی کا فیصلہ مسئلہ افغانستان کا حل نہیں بلکہ فیصلہ سے حالات مزید خرابی کی طرف جائیں گے ،افغان امن مذاکرات کے ساتھ افغان عوام نے جو امیدیں باندھی تھیں یقینا اُن کو مایوسی ہوئی۔افغان مذاکراتی عمل کے خاتمے پر پنا ردعمل دیتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مسئلہ افغانستان کا مذاکرات کے بغیر کوئی دوسرا حل نہیں،جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مہذب لوگ مسائل کو مذاکرات اور سیاسی طور طریقوں سے ہی حل کرتے ہیں،انہوں نے کہا جن مذاکرات کی منسوخی کا اعلان ہوا ہے وہاں بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ مملکت افغانستان اُن مذاکرات کا حصہ نہیں تھی،یہاں تک کہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنا دورہ افغانستان بھی منسوخ کردیا جہاں ان کی امریکی صدر سے باضابطہ ملاقات طے تھی۔افغان مذاکراتی عمل کے دوران دہشتگرد کارروائیوں میں اضافہ بھی باعث تشویش تھا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جس پس منظر میں بھی مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا ہے وہ الگ سے ہے لیکن اس صورتحال میں ایسی فضاء قائم کی جائے کہ پاکستان،افغانستان،امریکہ سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہوں،طالبان کو اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ وہ نئے مذاکراتی دور میں کسی قسم کی دہشتگردی نہیں کرینگے ۔