جنیوا(نیٹ نیوز) اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور فیس بُک کے مابین شراکت داری کا ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اگر کوئی فیس بُک یا انسٹا گرام پر ویکسین یا ویکسی نیشن کے بارے میں معلومات تلاش کرے گا تو اسے صرف عالمی ادارہ صحت ہی کے متعلقہ صفحات نظر آئیں گے ۔اگر پاکستان میں پولیو ویکسین کے خلاف پروپیگنڈے پر مبنی، جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کا بازار گرم ہے تو دوسری جانب امریکا کی 31 ریاستوں میں بھی خسرہ نے وبائی صورت اختیار کرلی ہے ۔ جہاں اب تک خسرہ کے 1200 مصدقہ مریض سامنے آچکے ہیں۔ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ خسرہ کی ویکسین دستیاب ہونے کے باوجود، لوگوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں گردش کرنے والی افواہوں اور بے بنیاد معلومات کو درست سمجھا اور اپنے بچوں کی ویکسی نیشن کروانے سے گریز کیا۔