مکرمی ! مصور پاکستان، مفکر نوجوان علامہ محمد اقبال شاعر ، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی تھے۔ آپ کو " شاعر مشرق " کا بھی خطاب ملا۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ ایک مصلح اور مفکر ہونے کی حیثیت سے، اپنی شاعری کے ذریعہ سب سے زیادہ توجہ قوم کے یوتھ پر دی۔چوں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی ترین اثاثہ ہوا کرتے ہیں۔ اس حقیقت کا کوئی منکر نہیں ہوسکتا کہ عین انسانی نے جتنے انقلابات دیکھے ہیں ان میں نوجوانوں کا کردار نمایاںرہا ہے۔اسی بنا پر اقبال کو بھی سب سے زیادہ اْمیدیں نوجوانوں سے ہی وابستہ تھیں۔نوجوانوں کے لیے علامہ نے ہمیشہ شاہین کا استعارہ استعمال کیا ہے۔وہ آرزو رکھتے تھے کہ اْمّتِ مسلمہ کے شاہین صفت نوجوان اْن کی فکر کو عام کرنے اور نظامِ زندگی کو اْس کے مطابق استوار کرنے کا ذریعہ بنیں۔ اقبال نوجوان نسل میں ایک شاہین کی صفات کے حامل مرد مومن کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ نوجوانوں کو پْرہمت اور خود مختار دیکھنا چاہتے تھے۔وہ کچھ یوں چاہتے تھے ، خود اعتمادی کو اپنا ہتھیار بنائیں، اور بلاخوف و خطر اونچی اڑان بھر سکیں اور ستاروں پر کمندیں ڈال کر ستاروں سے بھی آگے جہانوں کے لیے رخت سفر باندھ سکیں۔(آصف اقبال انصاری)