دلچسپ بات یہ ہے کہ چوتھی کمیٹی میں ہر سال اتفاق رائے سے حق خود ارادیت یعنی Right to Self Determination اور نوآدیاتی نظام کے خاتمہ پر بھی ایک قرار داد منظور ہوتی ہے۔ ابھی تک اس قرار داد کوبھارت کی حمایت حاصل رہی ہے، کیونکہ اس میں کسی خطہ کا نام درج نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ یہ حق خود ارادیت کے پرنسپل اور اسکی افادیت کا اعادہ کرتی ہے۔ دیکھنا ہے کہ کیا پاکستان اس بار اس میں ترمیم پیش کرکے جموں و کشمیر کو شامل کرنے کی کوشش کریگا؟ اسکے لئے پاکستانی سفارت کاری کو اپنا جلوہ دکھانا پڑے گا۔ اسی طرح تیسری کمیٹی جو سماجی، انسانی اور کلچرل حقوق کا احاطہ کرتی ہے، میں بھارت میںہندو تو اور فاشزم کے بڑھتے واقعات کو اجاگر کیا جاسکتا ہے، اور اس پر کوئی سخت قرار داد بھی پاس کروائی جاسکتی ہے۔ مغربی ممالک میں حکومتوں سے پرے سول سوسائٹیز گروپ نیز خواتین اور بچوں کیلئے کام کرنے والے ادارے رائے عامہ پر اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تجارتی مفادات کے باوجود کوئی بھی حکومت ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کر سکتی ہے۔ بجائے سڑکوں پر یا سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کروانے کے، ان اداروں پر اثر انداز ہونے کی ضرورت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا آخر حکومت پاکستان، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی گروپس یا تعلیم یافتہ اور فصیح خواتین کو مغربی ممالک میں موجود ان اداروں اور خواتین اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کیلئے کیوں نہیں بھیج پا رہے؟یہ افراد دنیا کو اپنے اوپر اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر ہونے والے ظلم کا سفارت کاروں سے زیادہ نہایت موثر انداز میں احاط کرکے ان ملکوں میں ایک ماحول تیار کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، جس کا فائدہ براہ راست سفارت کار اقوام متحدہ کے اندر اجلاس میں اٹھا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں میں کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی انسانی کونسل کی رپورٹوں کو بھی زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے جس طرح بھارت میں بڑھتے ہوئے فاشزم اور راشٹریہ سیویم سنگھ یعنی آر ایس ایس کو جس طرح نشانہ بنایا، اس نے مغربی ممالک کو سوچنے پر مجبور تو کر دیا ہے، مگر اس کو فالو اپ کی شدید ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے بھارت مسلمانوں کی ایک قدیم تنظیم جمعیتہ العلماء کے ذمہ داران کو استعمال کرکے فاشزم اور آر ایس ایس کے خلاف بڑھتے رجحان کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور سادگی ‘دانستہ یا نادانستہ پاکستان کی مخالفت میں اندھی یہ جمعیت بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی ایما استعمال بھی ہو رہی ہے۔ مغربی ممالک میں بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھی اپروچ کرکے بتانے کی ضرورت ہے کہ جس فاشزم کو یورپ نے 1945ئمیں شکست دی تھی و ہ اب بھارت میں نہ صرف سرکاری سرپرستی میں پنپ رہا ہے، بلکہ خود سرکار اس کی فروغ دے رہی ہے ۔ آر ایس ایس کو عملاً بیشتر فنڈنگ مغربی اور خلیجی ممالک سے ہوتی ہے۔ بابری مسجد کی شہات کے حوالے سے بھارت کی ٹیکس و سیکورٹی اداروں کی ہی تحقیق نے انکشاف کیا تھا، کہ اس کی فنڈنگ خلیجی ممالک سے ہوئی تھی۔ بھارت میں اقلیتی فرقہ کیلئے زمیں کتنی تنگ ہو رہی ہے، یہ ایک مسیج مجھے دہلی سے ایک جاننے والے نے بھیجا، کہ کس طرح ایک سائیکل رکشہ والے نے انکو بٹھانے سے منع کیا۔ ’’میرے شوہر جمعے کی نماز کی لیے سریتا وہار (جنوبی دہلی) کی مسجد میں جاتے ہیں اور وہاں دو گھنٹے گذارنا پسند کرتے ہیں۔عموما بیٹا ڈرائیور بھیج دیتا ہے لیکن کل ڈرائیور نہیں تھا تو میں انھیں لینے گئی۔وہاں ایک ہی رکشا والا تھا ،گلے میں گیروا پٹکا گلے میں ڈالے۔میں نے پوچھا جسولہ چلوگے۔وہ بولا۔نہیں۔ میں نے پوچھا کیوں نہیں؟۔ وہ بولا۔میں تم لوگوں کو اپنے رکشا میں نہیں اٹھاتا۔اتنے میں ایک موٹر سے چلنے والا رکشا آیا۔ میں نے اس سے بات کی۔وہ راضی ہوگیااورہم بیٹھ گے۔ پہلے رکشہ والے دوسرے کو بلا کر کچھ کہا۔واپس آکر وہ بولا آپ لوگ اتر جاؤ مجھے ادھر نہیں جانا.آپ کوئی اور کشا لے لو۔ہم پندرہ منٹ دھوپ میں کھڑے رہے ،پھر ایک ملا جی رکشا والا آیا اور ہم گھر آئے۔وہ دونوں رکشہ والے خالی کھڑے رہے لیکن ہمیں نہیں اٹھا یا۔‘‘ مجھے یاد ہے کہ اتر پردیش صوبہ کے انتخابات کی کوریج کے دوران میں ایک کالج کے اسٹاف روم میں اساتذہ کے خیالات نوٹ کر رہا تھا، کہ ایک پروفیسر صاحب، جو ذرا دیر سے ہماری گفتگو میں شریک ہوئے تھے، جارحانہ انداز میں وزیر اعظم مودی اور حکمران بی جے پی کی پالیسیوں کو کوس رہے تھے۔ بعد میں وہ مجھے چھوڑنے کیلئے باہرتک آئے۔ کالج گراونڈ میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، کہ مودی نے ایک کام تو اچھا کیا، جس کیلئے اسکی تائید ضروری ہے۔ میں نے جب اسکی وضاحت جاننی چاہی، کیونکہ اندر اسٹاف روم میں یہ حضرت مودی کی طرف سے نوٹ بندی اور دیگر پالیسیوں کی سخت نکتہ چینی کررہے تھے، تو دور ایک مدرسہ اور مسجد کے مینار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، کہ مودی نے ان مسلمانوں کی عقل ٹھکانے لگائی ہے اور انہیں کسی حد تک کنٹرول میں رکھا ہے۔ بھارت کے اکثریتی طبقہ کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ مسلمانوں نے یا تو ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے یا انکے ذریعے ادا کئے گئے ٹیکسوں پر ہی وہ زندہ ہیں۔یہ مذہبی منافرت کا دوسرا مرحلہ ہے، جو فسطایئت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح کا پرپیگنڈا یورپ میں دوسری عالمی جنگ سے قبل یہودیوں کے خلاف عام تھا۔بھارت میں مذہبی منافرت ابھارنے کا کام اب منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے۔ (ختم شد) ٭٭٭٭٭