لاہو(خبرنگارخصوصی) انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کو قرض دینے کیلئے کوئی انوکھی شرائط نہیں رکھیں بلکہ دنیا بھر میں قرض لینے والے کسی بھی ملک کیلئے اسی طرز پر شرائط ہوتی ہیں تاہم ان کی نوعیت کچھ تبدیل ہو سکتی ہے ،عالمی اداروں کو کسی ملک کی عوام کی حالت زار سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ،ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے قابو میں رکھنے کی بجائے اسے وقت کیساتھ ساتھ مینج کرنا چاہیے ، غیر ملکی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کئے مضبوط معیشت اور ترقی یافتہ ممالک کی صف کھڑا ہونے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ’’ زبوں حالی کا شکار معیشت اور ہماری پالیسیاں ‘‘کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے سابق صدر و کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن پرویز حنیف نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے قابو میں رکھنے کانقصان ہوا ہے ،ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ایکچوئل ویلیو کو مینج کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ڈالر کی قیمت یکدم نہ بڑھے ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا کہ بے یقینی اور ہیجان کی کیفیت کی وجہ سے سرمایہ کار اور تاجر محتاط ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ کی سر گرمیاں منجمد ہوتی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے بڑھنے سے پاکستان پر قرضوں کے حجم میں مزید اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے جس سے ہماری معیشت مزید دبائو میں آ گئی ہے ۔معروف کاروباری شخصیت خوشحال خان نے کہا کہ کسی بھی ملک کے ادارے اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہاں کوئی اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ ٹیکسیشن کانظام اتنا پیچیدہ اور اس کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ ٹیکس دینے کی استطاعت رکھنے والے بھی چور راستے تلاش کرتے ہیں اور ہر سال اربوں روپے قومی خزانے کی بجائے کسی اور کی جیبوں میں چلا جاتا ہے ۔ دوسرے ممالک میں سرمایہ کاروں کو وی وی آئی پی کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں مختلف ادارے اتنی رکاوٹیں کرتے ہیں کہ سرمایہ کار متنفر ہو کر ہاتھ کھینچ لیتا ہے ۔