لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ کارہارون الرشید نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی اور سعودی مصالحت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف نے ایرانی قیادت سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی سعودی عرب سے صلح ہوجائے مصالحت سعودی عرب اور ایران دونوں کی ضرورت ہے ۔پروگرام مقابل میں میزبان علینہ شگری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصالحت کیلئے پاکستان کو پھونک پھونک کرقدم رکھنا ہوگا۔تاجروں کی ہڑتال کے بارے میں ہارون الرشید نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہونا چاہئے یہ اچھی بات ہے لیکن اس کا سلیقہ اور طریقہ ہوتا ہے جو موجودہ حکومت کے پاس نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں واقعی لوگ آئیں گے تاہم پی پی اور ن لیگ جھوٹ بول رہے ہیں دھرنے اورمذہبی کارڈ کے وہ مخالف ہیں صرف فضل الرحمان کو اخلاقی اورسیاسی حمایت کا کہہ رہے ہیں۔ ہارون الرشید نے کہا کہ عمران خان میڈیا سے بہت چڑتے ہیں وہ اخبارنویسوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیا عمران خان کی بجائے مولانافضل الرحمان پرتنقید کررہاہے لیکن پی ٹی آئی والوں کی طرف سے میڈیاکے حق میں ایک بھی ٹویٹ نہیں آیا ۔تجزیہ کار اویس توحید نے کہا ہے کہ ایران اورسعودی عرب کے درمیان ثالثی بہت بڑا مشن ہے ،شام کی صورتحال تشویشناک ہے ادھر ترکی نے کردوں کے خلاف جنگی آپریشن کا آغاز کردیاہے ۔ڈاکیومینٹیشن ہونی چاہئے لیکن ایف بی آر کا طریقہ کار بھی غلط ہے ۔ ایف بی آر میں بابو کلچر ابھی تک نہیں بدلا ۔حکومت روز بروز ٹیکس نظام کو مشکل بنارہی ہے ۔دھرنے کے حوالے سے کہا کہ ہم نے تو گزشتہ روزکہا تھاکہ فضل الرحمان 27اکتوبر کو پورے ملک سے اسلام آباد میں نہیں آئیں گے وہ ٹائم لے رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ فضل الرحمن کا مقصد حکومت گرانا نہیں بلکہ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مس انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔میرے خیال میں پی ٹی آئی میں برداشت کا مادہ نہیں ،میڈیا کے حوالے سے پی پی میں سب سے ز یادہ برداشت کا مادہ ہے ن لیگ والے کرپٹ کرتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی والے گالیاں بکتے ہیں۔اقتصادی ٹیم کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی والے ریکورہی نہیں کرپائے ۔عمران کی حکومت میں بیوروکریسی بہت خائف رہی ہے ایک بھی فائل پردستخط نہیں کررہی ہے ۔