امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں پاکستان پر ناکافی اقدامات کے الزام پر دفتر خارجہ نے اظہار مایوسی کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی رپورٹ پر سرکاری موقف دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے دو عشروں سے جاری پاکستانی کوششوں کو نظر انداز کیا۔ یہ رپورٹ اس لحاظ سے بھی باعث تعجب ہے کہ پاکستان پر الزام تراشی کرنے والے امریکی حکام اب تک پاکستان کی مدد سے اپنے تنازعات حل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متعلق دنیا ابھی تک تقسیم ہے۔ پسماندہ ‘ غریب اور کمزور ریاستوں کو مزید غلام اور کمزور بنانے کے لئے دہشت گردی کی مختلف تعریف کی جاتی ہے جو عموماً عالمی طاقتوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے کے ہم معنی ہے۔ دہشت گردی کی اصل تعریف انسانیت کے خلاف سنگین خطرات پیدا کرنے کے حوالے سے وضع ہونی چاہیے۔ اس بنیادی خرابی کے باعث امریکہ دہشت گردی کے انسداد کی کارروائیوں کی حیثیت کا تعین کرتا آ رہا ہے۔ امریکہ نے پہلے عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا اور عالمی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے عراق کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جو بالخصوص مسلمان ممالک میں جاری ہے اب تک 10لاکھ بے گناہوں کی جان لے چکی ہے ۔عراق میں جنگ میں مارے جانے والے لاکھوں نہتے عراقیوں کا خون اس لئے بھی امریکہ کے سر ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی وہاں موجود تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر غلط اور گمراہ کن تسلیم کر چکے ہیں اور برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئرنے انٹیلی جنس کی غلطی تسلیم کر کے شرمندگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی سازش کہنا اس لئے بھی غلط نہ ہو گا کہ عراق کو تباہ کرنے کے بعد امریکی حکمرانوں نے بشار الاسد حکومت گرانے کے لئے شام کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جس داعش کو شام کو تباہ کرنے کے لئے جواز بنایا گیا اس کا سربراہ ابوبکر البغدادی عراق میں امریکی تحویل میں رہ چکا تھا ۔ایک تاثر یہ بھی رہا کہ ابوبکر البغدادی امریکی خفیہ اداروں کا ہی شاہکار تھا۔ اس تاثر کو یکسر مسترد کرنا اس لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ گزشتہ دنوں روس کے وزیر خارجہ بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ابوبکر البغدادی امریکہ کا مہرہ تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ امریکہ کی نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جواز اور تعریف خود ساختہ اور فریب ہے بلکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مسلمان ممالک کو تباہ اور کمزوربھی کر رہا ہے۔ اس کا ثبوت امریکی صدر بش کا مسلمان ممالک پر حملوں کو صلیبی جنگ قرار دینا ہے۔ جہاں تک 3نومبر کو امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر عدم اطمینان کا اظہار کرنے کا تعلق ہے تو اس کو امریکی دوغلا پن قرار دینا اس لئے بھی غلط نہ ہو گا کہ امریکی حکمرانوں کا ہمیشہ یہ چلن رہا ہے کہ جب پاکستان کی امریکہ کو ضرورت ہوتی تو پاکستان کی خوش آمد‘ مراعات اور عنایات کی بارش شروع ہو جاتی اور جب مطلب نکل جائے تو پاکستان پر پابندیوں کے جواز گھڑے جاتے ہیں۔80کی دھائی میں امریکہ کوجب سوویت یونین کے خلاف ضرورت تھی تو پاکستان اورطالبان امریکہ کی آنکھ کے تارے تھے اور جب روس کا شیرازہ بکھر گیا اور امریکہ کا مطلب نکل گیا تو پاکستان پر پریسلر ترمیم سمیت متعدد پابندیاں عائد کر دی گئیں اور طالبان جو امریکہ کے لئے سوویت جنگ لڑنے والے مجاہد تھے دہشت گرد قرارپائے۔افغانستان پر حملہ کے لئے پاکستان کی سٹریٹجک امداد کی ضرورت ہوئی تو پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی قرارپایا۔ یہاں تک کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر تصور کئے جانے لگے مگر جونہی امریکہ کو طالبان سے امن مذاکرات کی مدد کی ضرورت پڑی تو امریکہ کے افغانستان کے خصوصی ایلچی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو سراہا جانے لگا۔ اب ایک بار پھر جب امریکہ طالبان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں تو امریکہ کو پاکستان کے دہشت گردی کے اقدامات اور اخلاص پر شک ہو رہا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ پر مایوسی اور عدم اطمینان فطری عمل ہے اور یہ کہنا بھی بجا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے سے مایوسی ہوئی۔ بہتر ہو گا کہ حکومت امریکہ کے ماضی کے ریکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے توقعات اور انحصار کو ہر ممکن حد تک کم کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک چین روس ایران اور ترکی کے ساتھ مل کر امریکہ کے دوغلے پن کو بے نقاب کرنے کی بھی کوشش کرے تاکہ مسلم ممالک کو تباہ کرنے کی امریکی پالیسی کا سدباب ممکن ہو سکے۔ دفتر خارجہ کو صرف اظہار مایوسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک تفصیلی ڈوزئیر تیار کر کے امریکی حکام اور اقوام متحدہ کو بھیجا جائے جس میں 75ہزارشہیدوں اور سو ارب ڈالر کے نقصان کا ذکر بھی ہو۔