لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے جو کرفیو نافذ کیا تھا وہ جار ی ہے ،وہاں صورتحال بری ہے اور مجھے ڈرہے کہ آگے چل کر مزید خراب ہوگی۔پروگرام ہوکیا رہا ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا حیرانی والی بات ہے کہ آرامکو اورریلائنس کمپنی میں گزشتہ روز بہت بڑا معاہدہ ہوا ہے اورجس سعودی عرب کی کمپنی ایسے سرمایہ کاری کریگی تو پھرمسلمانوں کی بات کون سنے گا۔انہوں نے کہا ہم سب اس غلط فہمی میں ہیں کہ امریکہ افغانستان سے ساری فوج نکالنے کیلئے تیار ہے ،ایسا نہیں ہے وہ اپنی کچھ فوج بھی افغانستان میں رکھے گا۔دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا جنرل راحیل شریف اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں، وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کررہے ، بھارت نے عالمی معاہدوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیرپر فیصلہ کیا ہے لیکن اب ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کیسے دنیا کے ضمیر کو اس حوالے سے جگاتے ہیں،انٹرنل سکیورٹی کے حوالے سے ہمارا سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ اور اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔تجزیہ کارعارف نظامی نے کہا وزیرخارجہ کا بیان شاید درست ہے لیکن انہیں یہ بات مظفر آباد میں نہیں بلکہ کابینہ میں کرنی چاہئے تھی۔ ایک سوال کے جواب میں عارف نظامی نے کہاحکومت اوراپوزیشن کو مل کر کشمیر سمیت ملک کے مسائل کاحل نکالناچاہئے ، عمران خان کو اب اس ملک کو اتحاد کا پیغام دیناچاہئے ۔