اسلام آباد( سپیشل رپورٹر ) قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا ۔اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کا گھیرائو کر لیا اور شدید نعرے بازی کی ۔ منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں پانچ بجکر پانچ منٹ پر شروع ہوا ۔جس وقت اجلاس شروع ہوا ایوان میں فرنٹ نشستوں پر کوئی وزیر اور اپوزیشن ارکان موجود نہ تھے ۔ وزیر اعظم اجلاس شروع ہونے کے بعد پانچ بجکر بارہ منٹ پر ایوان میں آئے تو حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا ۔وزیر مملکت حماد اظہر نے جب بجٹ تقریر شروع کی تو ایوان میں اپوزیشن موجود نہ تھی ۔پانچ بجکر بیس منٹ پر اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں آئے ۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت اپوزیشن ارکان نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں ۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کرتے رہے ۔ بعدازاں اپوزیشن ارکان نے سپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا اور وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر کے ڈائس کی طرف بڑھنے لگے تو حکومتی ارکان نے وزیر اعظم اور وزیر مملکت حماد اظہر کے گرد ہاتھوں سے حفاطتی دیوار بنادی اور اپوزیشن کو آگے جانے نہ دیا ۔اس موقع پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے مابین شدید ہاتھا پائی اور دھکے مارے گئے ۔اپوزیشن ارکان آئی ایم ایف نامنظور،جھوٹے وعدے نا منظور، مک گیا تیرا شونیازی ،گو نیازی ،گونیازی و دیگر نعرے لگاتے رہے ۔حکومتی بنچوں سے بھی اپوزیشن کیخلاف چور مچائے شور و دیگر نعرے بازی کی جاتی رہی ۔وزیر مملکت حماد اظہر تسلسل کے ساتھ بجٹ تقریر پڑھتے رہے ۔انہوں نے ایک گھنٹہ بیس منٹ سے زائد دیر تک تقریر کی ۔جب انہوں نے بجٹ تقریر ختم کی تو وزیر اعظم اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور اپوزیشن کی جانب فاتحانہ انداز میں کئی بار ہاتھ بلند کئے ۔ارکان اسمبلی نے وزیر مملکت حماد اظہر کو بجٹ تقریر مکمل کرنے پر کندھے پر تھپکی دی ۔