لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے 18 ویں ترمیم کے بعد لا اینڈ آرڈر صوبائی معاملہ ہے ۔پروگرام نائٹ ایڈیشن میں میزبان شازیہ ذیشان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کراچی کا ایشو جس طرح سے ہینڈل کیا گیا شا ید اس سے بہتر طریقے سے ہونا چاہئے تھا۔قائد کے مزار پر جاکرسیاست نہیں کرنی چاہئے ۔ ان ایشوز میں فوج اور حساس اداروں کو ملوث نہ کیاجائے ۔ حکومت اورحکومتی اداروں کے خلاف ضروربات کریں لیکن ریاستی اداروں کیخلاف بات نہ کریں۔میں برملا کہہ رہاہوں اپوزیشن اس وقت منافقت کی سیاست کررہی ہے ، اس نظام کو برا بھی کہتے اورفائدہ بھی اٹھارہے ہیں۔اپوزیشن کا اصل مسئلہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ این آراو ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما راناتنویر حسین نے کہا کراچی کے معاملے کی وزیراعظم کو چاہئے تھا انکوائری کراتے ، انکوائری رپورٹ آنی ہے اس کے بعد معلوم ہوجائے گا حقائق کیا ہیں۔ اگر ن لیگ اورپی پی میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تو سوال یہ پیداہوتا ہے یہ کس نے کی ہے ۔ تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا آئی جی سندھ کو اغوا نہیں کیا گیا یہ ساری سیاست ہے ،کورکمانڈر کراچی انکوائری کررہے ہیں امید ہے حقائق سامنے آئیں گے ۔ اس سارے منظرسے وزیراعظم غائب رہے ان کا کوئی اتا پتہ نہیں ،انہیں چاہئے تھا نوٹس لیتے ۔بلاول بھٹو کو بھی چاہئے تھا وہ مراد علی شاہ کے ذریعے وزیراعظم کو فون کراتے ۔ کہا جارہاہے پولیس کا مورال خراب ہوا ،میں پوچھتا ہوں جو فوج کیخلاف زبان استعمال کی جاتی ہے اس سے اس کی عزت ہوئی ہے کیا؟ یا د رکھیں اگر فوجی افسروں نے چھٹیوں کیلئے درخواستیں دیدیں تو ملک خطرے میں پڑ جائے گا ۔نمائندہ واشنگٹن خرم شہزاد نے کہا امریکہ میں صدارتی ا لیکشن میں کانٹے کا مقابلہ ہے ۔ مشی گن میں ٹرمپ کو مشکل کا سامناہے جبکہ ماضی میں انہیں یہاں دس ہزارووٹوں کی برتری حاصل ہوئی تھی۔ دونوں امیدواروں کی سوئنگ سٹیٹس پر زیادہ توجہ ہے ۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کو چیلنج کاسامنا کرنا پڑے گا۔