شہید پاکستان حکیم محمد سعیدمرحوم اپنی ذات میں انجمن تھے۔ مرحوم کے بنائے ہوئے بہت سے اداروں میں سے ایک ہمدرد شوریٰ بھی ہے جہاں ہر ماہ سنجیدہ قومی مسائل زیر بحث لائے جاتے ہیں اور ممکنہ حل تجویز کیا جاتا ہے۔ پانچ ستمبر کو ہمدرد شوریٰ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر زیر بحث تھا۔ اجلاس کے ڈیڑھ صد شرکاء پڑھے لکھے اصحاب پر مشتمل ہیں جن سے سنجیدہ فکری کی توقع کی جاتی ہے۔ تاہم حیران کن امر ہے کہ بیشتر تقاریر اور تجاویز فہم و دانش سے عاری اور محض جذباتیت کا مظہر تھیں جن سے ہماری ناپختہ سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔ بیشتر افراد کاحال تھا کہ ہماری فوج بھارت کے 5اگست کے اقدام کے بعد اب تک کیا کر رہی ہے؟ہم نے اب تک مقبوضہ کشمیر پر حملہ آور ہو کر اسے فتح کیوں نہیں کر لیا اور ہم کب تک مظلوم کشمیری بھائیوں پر یہ ظلم و ستم ہوتا دیکھتے رہیں گے؟ ایسے سوالات کرنے والوں کی تعداد کم سہی لیکن ان کی آواز سب سے بلند تھی اور ان کے سوالات پر زور دار تالیاں بھی پیٹی گئیں جس سے ان کا اپنے موقف کی درستی پر یقین مزید پختہ ہو گیا۔ تشویش کی بات یہ تھی تقریباً نصف درجن شرکاء اس بات پر مصر تھے کہ ہم نے اب تک ایٹمی اسلحہ کیوں استعمال نہیں کیا؟ فوج کو یہ ’’شرلی پٹاخے‘‘ کیا شب برات پر چلانے کے لئے فراہم کئے گئے ہیں؟ راقم نے ان سوالات کا تفصیلی جواب دیا کہ ماضی میں تین دفعہ کی فوج کشی کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوا نہ ہی جنگ سے یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ عصر حاضر میں سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ نہتے کشمیری بالآخر اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور بتدریج اقوام عالم بھی انسانی حقوق کے ضمن میں پاکستان کی ہم نوا ہوتی جا رہی ہیں۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا گیا ہے اور چون برس بعد مسئلہ کشمیر پر تمام قرار دادوں کی تجدید ہو گئی ہے۔ بھارت کا ’’اندرونی مسئلے‘‘ والا موقف مسترد کر دیا گیا ہے اور اسے ایک بین الاقوامی مسئلہ مانتے ہوئے اس کے حل کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوںنے بہت متاثر کن مظاہرے کئے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ نیو یارک کے مغرب میں واقع ہیوسٹن میں سب سے بلند ٹاور پر کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے حق میں فلک بوس پوسٹر نصب ہو چکے ہیں۔ ادھر بھارت میں خالصتان‘ ناگا لینڈ اور جھاڑ کھنڈکی علیحدگی کی تحریکوں میں ازسر نو جان پڑ گئی ہے۔ بھارت کے اندر بھی فہمیدہ اور اصحاب دانش کہہ رہے ہیں کہ مودی کے اس اقدام اور حالیہ فوجی مداخلت کے باعث ہم کشمیر کو ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں۔ اب کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہ سکے گا۔ افواج پاکستان دفاعی ضروریات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اضافی ذمہ داریوں کے باعث کسی بڑے فوجی اقدام کے لئے وسائل فراہم نہیں کر سکتیں ۔ ملکی معیشت کی زبوں حالی بھی جنگ کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی ہماری جانب سے فوج کشی کے باعث دنیا کی توجہ کشمیر کی اندرونی صورت حال سے ہٹ کر دوسری جانب مبذول ہو جائے گی جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچے گا۔ مت بھولئے کہ 1971ء میں ہم نے اندرونی معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنے کے بجائے بنگالیوں پر فوج کشی کی فاش غلطی کی تھی جس کے نتیجے میں ہم مشرقی پاکستان کو کھو بیٹھے۔ ٹھیک اڑتالیس سال بعد بھارت نے بھی کشمیر پر فوج کشی کر کے وہی بھیانک غلطی دہرائی ہے اور انشاء اللہ اس کا نتیجہ بھی کشمیر کی آزادی کی صورت میں نکلے گا۔ جیسے 1970ء میں اندراگاندھی نے طوفانی دورے کر کے دنیا پر اپنا موقف واضح کیا تھا ویسے ہی ہمیں بھی جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے عالمی طاقتوں کو اپنا ہمنوا بنانا ہے۔ اس سلسلے میں بہت کچھ ہو رہا ہے اور انشاء اللہ ہم اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ جب کسی قوم میں جذبہ حریت بیدار ہو جائے تو وحشیانہ طاقت کا استعمال آزادی کو مؤخر کر سکتا ہے اسے ختم نہیں کر سکتا جہاں تک ایٹمی ہتھیاروں کا تعلق ہے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی دہشت اور ہیبت ہی دشمن کو کوئی احمقانہ قدم اٹھانے سے باز رکھتی ہے۔ جوہری اسلحے کو Weapon of Deterrenceکہاجاتا ہے یعنی اگر دشمن نے کوئی مہم جوئی کی حماقت کی تو اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہی خوف اسے مہم جوئی سے باز رکھتا ہے۔ تاہم ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا نتیجہ ’’یقینی باہمی تباہی‘‘ ہو گا۔ اسی لئے بڑی طاقتوں نے بھی کولڈوار کے عرصے میں اور تمام اختلافات کے باوجود کبھی ایٹمی اسلحہ استعمال نہیں کیا۔وزیر اعظم اور آرمی چیف نے متعدد بار اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اس سلسلے میں تمام وسائل استعمال میں لائیں گے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ہم آخری حد تک جائیںگے تو نام لئے بغیر بین السطور بہت کچھ کہہ دیتے ہیں اور متعلقہ فریق بھی اس کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں۔ تاہم دعا کیجئے کہ وہ موقع کبھی نہ آئے کہ ہماری ملکی سلامتی سنگین خطرے سے دوچار ہو اور نوبت جوہری ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ جائے۔ ہمارے خواص میں سے بھی چند ہی کو دفاعی امور کی سمجھ ہے ۔مندرجہ بالا تمام وضاحتوں کے بعد ایک وکیل صاحب نے بہت جذباتی انداز میں اور بہت جوش و جذبے سے فرمایا۔’’چھوڑیے بریگیڈیئر صاحب آپ تو ڈرتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی خاطر ہم بھسم ہونے کو تیار ہیں۔ ہمیں ایٹم بم بھارت پر گرا دینا چاہیے چاہے بھارت نہ رہے یا ہم نہ رہیں‘‘ موصوف یہ بات سمجھنے سے بھی قاصر تھے کہ اگر نوبت ایٹمی جنگ تک پہنچ گئی تو پھر بیچارے کشمیری بھی تو نہیں بچیں گے اور پچیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کا کیا ہو گا؟ ایٹم بم ہندو اور مسلم میں تمیز کرنے سے قاصر ہے۔ فوج کشی کے حق میں بولنے والے اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر اصرار کرنے والے ان تمام افراد نے نہ کبھی میدان جنگ میں دشمن کا سامنا کیا تھا نہ کوئی گولا پھٹتے دیکھا سنا تھا‘ نہ اپنے ساتھیوں کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھائی تھیں اور نہ ہی جنگ کی تباہ کاریوں سے واقف تھے لیکن وہ راقم کو تھڑولی اور کم ہمتی کا طعنہ دے رہے تھے۔ حقائق سے لاعلم ان سادہ لوح دوستوں کا رویہ دیکھ کر بے اختیار اکبر الہ آبادی کا یہ شعر یاد آ گیا: اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے لیکن شہید ہو گئے بیگم کی فوج سے