لندن،تہران، واشنگٹن (صباح نیوز، آ ن لا ئن ، این این آ ئی )برطانوی حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی کشتیوں نے برطانوی آئل ٹینکر کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے یا اسے روکنے کی کوشش کی جبکہ ایران نے برطانوی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومتی ترجمان نے بتایا کہ ایرانی کشتیوں نے مشرق وسطی ٰکے قریب خلیج فارس میں آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جس پر برطانوی آئل ٹینکر کی جانب سے 3ایرانی کشتیوں کو متنبہ کیا گیا۔برطانوی حکام نے ایران کے ایکشن کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی آ ئل ٹینکر کو روکنے والی کشتیوں کا تعلق ایران کے انقلابی گارڈ سے ہے جس کے اہلکاروں نے مشرق وسطیٰ کے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر تک پہنچنے کی کوشش کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آئل ٹینکر کی نگہبانی پر مامور جہاز کی جانب سے ایرانی کشتیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا جس پر ان کی جانب کسی قسم کی فائرنگ نہیں کی گئی۔برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تین ایرانی کشتیوں نے برطانوی ورثے کے کمرشل جہاز کو روکنے کی کوشش کی جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ترجمان نے ایران کی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ برطانیہ ایسے الزامات کشیدگی پیدا کرنے کیلئے لگا رہا ہے ۔ ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس کی کشتیاں خلیج فارس میں معمول کے مطابق فرائض کی ادائیگی کیلئے گشت کرتی ہیں اور اس دوران ان کا کسی بھی برطانوی آئل ٹینکر سے سامنا نہیں ہوا۔ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے عالمی ذرائع ابلاغ میں اس الزام ،کے بعد کہ خلیج فارس میں ایران کی کشتیوں نے برطانوی آئل ٹینکر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور برطانیہ کے بحری جہاز ایچ ایم ایس مونٹ رز کی مداخلت کے بعد ایرانی کشتیاں پیچھے ہٹیں ،کی ایرانی فورسز نے سختی سے تردید کی ہے ۔ ادھر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ عمان میں امر یکہ کو تیل سپلائی کرنے پر خلیج فارس کے علاقے کے ممالک سے آنے والے آئل ٹینکرز اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے ۔بین الاقوامی میڈیاکے مطابق امریکا ایران اور یمن کے اطراف سمندر میں اپنے مفادات اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے عالمی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے ۔