اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر،این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک)ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو رواں سال 2 ارب70 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کرے گا، 5 سال کے دوران پاکستان کو 10 ارب ڈالر رعایتی قرض ملے گا جبکہ بینک نے پاکستان کی قرض واپسی کی ریٹنگ بھی غیر تسلی بخش قرار دے دی ۔ بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 2020 سے 2022 کے کنڑی آپریشنز بزنس پلان کی منظوری دیدی ۔اے ڈی بی کے اعلامیے کے مطابق قرض کی فراہمی پاکستان کے آپریشنز بزنس پلان کیلئے ہوگی اور بزنس پلان سے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کو مدد ملے گی۔اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ دیگر ترقیاتی پارٹنرز بھی پاکستان کی ترقی کے سفر میں اپنا حصہ ڈالیں گے ۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان کیلئے سالانہ امداد میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ کر دیا گیا ۔نئے پلان کے تحت پاکستان کو 2 ارب 40 کروڑ ڈالر تک کا قرض سالانہ مل سکے گا۔ اعلامیہ کے مطابق بینک کے 2015 سے 2018 تک کے پروگرام کے تحت پاکستان کو ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سالانہ امداد دی جاسکتی تھی ۔اعلامیہ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو نرم شرائط پر دیگر ذرائع سے قرض کی فراہمی کیلئے مدد فراہم کرے گا ،ایشیائی ترقیاتی بینک 5 سال کے دوران پاکستان کو 10 ارب ڈالر قرض دے گا اور یہ رقم پاکستان کیلئے رعایتی قرضہ ہوگی۔دریں اثنا ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرضہ لینے والے ممالک کی بھی ریٹنگ جاری کردی ہے ۔پاکستان کی بیرونی قرضہ لے کر واپس کرنے کی ریٹنگ غیر تسلی بخش رہی۔توانائی کے منصوبوں کیلئے پاکستان نے بھارت کے بعد سب سے زیادہ قرضہ لیا۔8ارب ڈالر قرضہ 2005 تا 2017کے منصوبوں کیلئے لیا گیا۔رپورٹ طریقہ کار کے عمل میں ناکامی کے باعث قرضہ کم ہوکر 6.2ارب ڈالر کردیا گیا ۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پروگرام پر فارمسٹ ریٹنگ بھی غیر اطمینان بخش رہی۔ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی نے 92نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے 2018میں پاکستان میں جو مجموعی فارن انویسٹمنٹ آئی تھی وہ 5ہزار 7سو بلین ڈالر تھی ،پچھلے سال کم ہوکر اڑھائی سو ملین ڈالر رہ گئی۔اتنی زیادہ کمی پاکستان کی تاریخ میں انویسٹمنٹ میں نہیں ہوئی۔قرضوں میں اضافہ بھی پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوا ہے ۔