نیویارک ( ندیم منظور سلہری سے ) بھارت نے ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف کے ماہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لئے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان وہ سفارتی ذرائع استعمال نہیں کر رہا جو اسکو کرنے چا ہئیں ۔ پاکستانی کمیونٹی نے بھی اعتراض کیا کہ واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفارتکار سوائے من پسند تقریبات میں شرکت کرنے اور فوٹو بنوانے کے سوا بھارت کا توڑ کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہے ۔امریکی تحقیقاتی ادارے کیوٹو انسٹیٹوٹ سے منسلک سحر خان کا کہنا ہے کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو پلوامہ اور اُڑی حملوں کے الزام میں نہیں بلکہ انہیں حرکت المجاہدین کے ممبر اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی بنا پر عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک خودمختار ادارہ ہے اگر اس نے بھارت کی ایما پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دیدیا تو اس سے اسکی نیک نامی بُری طرح متاثر ہو گی۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ نے بھی نریندر مودی پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ مسعود اظہر کو دہشت گرد ڈیکلیئر کر انے کے بدلے بھارت نے پاکستان اور چین کی شرائط کیوں تسلیم کیں ؟ اخبار نے مذید لکھا ہے کہ یہ ایک سمجھوتے کے تحت ہوا چین اور پاکستان کی سخت شرائط کو نریندر مودی نے صرف الیکشن میں عوامی رائے کو اپنے حق میں کرنے کے لئے مانی ہیں۔ معروف بھارتی صحافی رویش کمار نے بھی اس اہم ایشو پر نریندر مودی کو آڑے ہاتھ لیا ۔ڈاکٹر امرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک پاکستانی سفارتکاروں نے بھارتی پر وپیگنڈاکا موثر جواب دیا اور نہ ہی لابنگ کی جس سے پاکستانی موقف کو بھی پذیرائی ملے ۔